کیا مُون لینڈنگ ایک دھوکہ تھا؟
?Was Moon Landing a Hoax
(مُون لینڈنگ پر کئے جانے والے اعتراضات کا احاطہ)تحریر : قدیر قریشی
چاند پر انسان کا قدم ہمارے لئے ایک فخر کی بات ہونی چاہئے۔ جو لوگ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہوش سنبھال چکے تھے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ نے چاند پر جانے کے لیے برسوں تیاری کی تھی اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ چاند پر اترنے کی ویڈیو دنیا بھر میں ٹی وی پر دکھائی گئی تھی۔ اس زمانے میں کم از کم پاکستان میں یہ افواہ عام تھی کہ چاند پر نیل آرمسٹرانگ نے آذان کی آواز سنی تھی اور واپسی پر اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اگرچہ یہ افواہ صریحاً غلط تھی لیکن اس افواہ کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کم از کم ستر کی دہائی تک اکثر پاکستانیوں کو اس بارے میں کوئی شکوک و شبہات نہیں تھے کہ نیل آرمسٹرانگ واقعی چاند پر اُترے تھے اور انہوں نے چاند پر چہل قدمی بھی کی تھی۔ بدقسمتی سے اسّی کی دہائی کے بعد ہماری قوم کو سائنس سے دُور کر دیا گیا۔ اس کے محرکات کی بحث کی اس مضمون میں گنجائش نہیں لیکن اِسی کا ایک شاخسانہ یہ تھا کہ قوم کو یہ باور کرایا گیا کہ امریکہ چاند پر گیا ہی نہیں تھا اور چاند پر اُترنے کا تمام قصہ جھوٹ ہے۔
اب تو کئی ممالک نے اپنے مشن چاند اور مریخ پر بھیج رکھے ہیں۔ ناسا چاند اور مریخ پر مُستقل ریسرچ لیبارٹریز قائم کرنے کا سوچ رہی ہے، لیکن بہت سے لوگ ابھی تک اسی بات پر اٹکے ہوئے ہیں کہ چاند پر انسان کا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جب بھی 'مُون لینڈنگ' کی بات ہو تو چند سوالات ایسے ہیں جو بار بار کئے جاتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں انہی سوالات و اعتراضات کا مفصّل احاطہ کیا جائے گا۔
اعتراض نمبر 1:
چاند پر امریکی خلابازوں نے ایک امریکی جھنڈا گاڑا تھا جو چاند پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں لہراتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ چاند پر چونکہ ہوا نہیں ہے اس لیے جھنڈے کو نہیں لہرانا چاہیے۔ جھنڈے کا لہرانا اس بات کا ثبوت ہے یہ ویڈیو زمین پر کسی اسٹوڈیو میں ریکارڈ کی گئی اور عوام کو جھوٹ بولا گیا کہ یہ ویڈیو چاند پر ریکارڈ ہوئی۔
جواب:
اگر انسان چاند پر نہیں گیا اور یہ سب ایک دھوکہ ہے تو کیا اس دھوکے کی پلاننگ کرنے والے اتنے ہی بیوقوف تھے کہ انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ لہراتا ہوا جھنڈا اس جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ جھنڈا کپڑے کا نہیں تھا بلکہ پلاسٹک کا بنا ہوا تھا اور اسے اُفقی حالت میں رکھنے کے لیے ایک اُفقی چھڑی میں پرویا گیا تھا۔ زمین سے چاند تک کے سفر کے دوران اس جھنڈے کو لپیٹ کر سٹور کیا گیا تھا۔ چاند پر اترنے کے بعد اسے کھولا گیا جس کی وجہ سے جھنڈے میں سلوٹیں موجود ہیں۔ پلاسٹک کا یہ جھنڈا صرف اس وقت 'لہرا' رہا تھا جب خلا نورد اسے چاند پر نصب کر رہے تھے اور اس دوران جھنڈا ہِل رہا تھا لیکن نصب کرنے کے بعد اسے لہراتے نہیں دیکھا گیا۔
آپ یہ تجربہ خود بھی کر سکتے ہیں کہ اگر کسی ایسے کمرے میں جہاں ہوا بالکل ساکن ہو ایک عمودی لٹکے ہوئے جھنڈے کو ہلائیں تو وہ کچھ دیر تک لہراتا رہے گا اور پھر آہستہ آہستہ ساکن ہو جائے گا۔ اس کے ساکن ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ ساکن ہوا کے مالیکیولز کی رگڑ سے جھنڈے کی حرکی توانائی حرارت کی شکل میں تبدیل ہو کر فضا میں پھیل جاتی ہے اور حرکت معدوم ہوجاتی ہے۔ لیکن جھنڈے کی یہی حرکت اگر خلا میں ہو جہاں ہوا کی رگڑ موجود نہیں ہے تو جھنڈا بہت دیر تک ہلتا رہے گا اور یہی ہم اس وڈیو میں دیکھتے ہیں۔
اعتراض نمبر 2:
چاند پر اُترنے کی ویڈیو اور تصویروں میں آسمان بالکل سیاہ ہے لیکن اس میں کوئی بھی ستارہ نظر نہیں آتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک 'سیٹ' ہے جس کے پیچھے کالی دیوار ہے۔
جواب:
جو لوگ فوٹوگرافی سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ فوٹوگرافک فلم کی ڈائنامک رینج مخصوص روشنی کے لیے ہوتی ہے۔ اگر foreground بہت زیادہ روشن ہو تو بیک گراؤنڈ میں کم روشن چیزیں فلم پر نہیں آتیں۔ اگر چاند پر لی گئی تصویروں میں ستاروں کی تصویر بنانے کی کوشش کی جاتی تو شَٹر سپیڈ کو بہت کم کرنا پڑتا جس سے فلم میں foreground جو سورج کی روشنی میں تھی اور بہت روشن تھی، بالکل سفید ہو جاتی کیونکہ فلم overexposed ہوجاتی۔ چونکہ ان تصاویر کا مقصد چاند پر خلانوردوں کو دکھانا تھا اس لیے شَٹر کی رفتار کو اسی مناسبت سے رکھا گیا تھا جس میں خلانورد صاف نظر آئیں۔ اس کا لازم نتیجہ یہ ہے کہ بیک گراؤنڈ میں ستارے نہیں دیکھے جا سکتے۔ اگر ناسا کا مقصد فیک ویڈیو بنانا ہوتا تو کیا ناسا کے سائنس دان اتنے ہی بیوقوف ہیں کہ وہ اسٹوڈیو کی دیوارں پر ستارے 'ٹانکنا' بھول گئے؟
اعتراض نمبر 3:
راکٹ صرف زمین کے کُرہ ہوائی میں کام کرتے ہیں، خلا میں راکٹ کا کام کرنا ناممکن ہے۔
جواب:
جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ راکٹ خلا میں کام نہیں کرتے وہ بنیادی فزکس سے بھی ناواقف ہوتے ہیں- آج کل پرائمری سکول کے بچے بھی عمل اور ردِعمل کے تصور سے واقف ہوتے ہیں۔ راکٹ اپنے exhaust کو تیزی سے باہر کی طرف پھینکتا ہے جس کے ردِعمل کے طور پر راکٹ آگے بڑھتا ہے۔ اس عمل کا ہوا کی موجودگی یا غیر موجودگی سے کوئی تعلق نہیں۔ جتنی دیر تک یہ exhaust چلتا رہے گا اتنی دیر تک راکٹ میں اسراع پیدا ہوتا رہے گا۔ زمین کے پاس جہاں زمین کی کشش زیادہ ہوتی ہے اور کُرہ ہوائی کی رگڑ بھی ہوتی ہے، راکٹ میں اسراع پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جس وجہ سے راکٹ کے سفر کے آغاز میں بہت سا ایندھن درکار ہوتا ہے- جیسے جیسے راکٹ زمین سے دُور جاتا ہے، ایک تو زمین کی کشش کم ہوتی جاتی ہے اور دوسرا ایندھن کے مسلسل استعمال کی وجہ سے راکٹ کا اپنا ماس کم ہوتا جاتا ہے اور ایندھن کی ضرورت بدستور کم ہوتی جاتی ہے۔ خلا میں بھی راکٹ انجن مسلسل کام کرتا رہتا ہے لیکن خلا میں اس قدر تھرسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ایندھن کی بہت کم مقدار درکار ہوتی ہے۔
اعتراض نمبر 4:
چاند زمین کے گرد 3700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ اتنی تیز رفتار شے پر راکٹ کا لینڈ کرنا ناممکن ہے۔
جواب:
یہ درست ہے کہ چاند زمین کے گرد تقریباً 3700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ جب راکٹ زمین سے روانہ ہوتا ہے تو زمین کے ریفرنس فریم میں ہوتا ہے یعنی اس کی حرکت زمین کے نُقطہ نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ جب راکٹ زمین سے بہت دُور چلا جاتا ہے تو اس کا نیویگیشن سسٹم اس کو ایسے راستے پر ڈالتا ہے جو اسے براہِ راست چاند کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ چاند کے گِرد مدار میں ڈال دیتا ہے۔ اس طرح راکٹ پہلے چاند کے مدار میں چاند کے گِرد گھومنے لگتا ہے گویا اب چاند اور راکٹ دونوں ایک سسٹم بن گئے ہیں جو زمین کے گِرد گھوم رہا ہے۔ اب چونکہ راکٹ اور چاند ایک ہی رفتار سے زمین کے گِرد گھوم رہے ہیں اس لیے راکٹ کا چاند پر اترنا ایسا ہی ہے جیسا کسی جہاز کا زمین پر لینڈ کرنا۔
اعتراض نمبر 5:
چاند پر چونکہ ہوا موجود نہیں ہے اس لیے خلائی ماڈیول کا لینڈ کرنا ناممکن ہے۔
جواب:
چاند پر ہوا نہیں ہے اس لیے چاند پر پیراشوٹ سے لینڈنگ نہیں ہو سکتی- لیکن چونکہ چاند پر ہوا موجود نہیں ہے اور چاند کی کششِ ثقل زمین کی کششِ ثقل سے چھ گُنا کم ہے اس لیے وہاں راکٹ سے لینڈ کرنا زمین پر راکٹ سے لینڈ کرنے کی نسبت کہیں آسان ہے۔ زمین پر پیراشوٹ سے لینڈنگ اس لیے کروائی جاتی ہے کہ تیز ہوا کی موجودگی میں راکٹ کا زمین پر لینڈ کرنا مشکل ہے۔ تاہم سپیس شٹل کئی دہائیوں تک کامیابی سے زمین پر لینڈ کرتی رہی ہے۔
اعتراض نمبر 6:
صرف امریکہ ہی چاند پر اترنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کسی اور ملک نے ایسا دعویٰ کیوں نہیں کیا؟
جواب:
1969 میں امریکی خلائی جہاز نے سب سے پہلے چاند پر اترنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس میں دو امریکی خلاباز تھے جنہوں نے چاند پر چہل قدمی کی۔ اس کے بعد اگلے چند سالوں میں پانچ مزید امریکی مشن چاند پر اترے اور خلابازوں نے چاند پر چہل قدمی کی۔ لیکن اس کے بعد دوسرے ممالک کے بہت سے مشن بھی چاند پر جا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تو چاند کے گِرد گردش میں ہیں، لیکن کئی چاند پر لینڈ بھی کر چکے ہیں۔ ابھی حال ہی میں یعنی جنوری 2019 کے آغاز میں چِین کی ایک خلائی گاڑی چاند پر اُتری ہے جس میں سے ایک rover بھی چاند پر چھوڑا گیا ہے۔ یہ خلائی گاڑی چاند کے اُس رُخ پر اتاری گئی ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مُلکوں کی خلائی گاڑیاں چاند پر اتاری جا چکی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کے علاوہ کسی ملک نے خلاباز چاند پر نہیں بھیجے۔
اعتراض نمبر7:
چاند پر انسان کے اترنے کے ثبوت کسی دوسرے ملک نے فراہم نہیں کیے۔ اس ضمن میں صرف ناسا کے دعوے قابل قبول نہیں ہیں۔
جواب:
چاند پر امریکہ کے علاوہ کسی اور ملک کے انسان ابھی تک نہیں اترے۔ چنانچہ اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ چاند پر اترنے کے شواہد بھی امریکہ نے ہی پیش کیے ہیں۔ تاہم دنیا کی کسی اسپیس ایجنسی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ امریکہ کے خلاباز چاند پر نہیں اترے۔ حالانکہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں امریکہ اور رُوس کے درمیان اسپیس میں کامیابی کے لیے سخت مقابلہ جاری تھا لیکن رُوس کی خلائی ایجنسی نے بھی کبھی امریکی خلابازوں کے چاند پر اترنے کے دعووں کو غلط قرار نہیں دیا۔
اعتراض نمبر 8:
اگر چِین واقعی خلائی جہاز چاند پر اتار چکا ہے تو وہ امریکی خلائی جہاز کے اترنے کی جگہ کی تصویر بنا کر کیوں نہیں بھیج دیتا؟
جواب:
چِین کا خلائی جہاز چاند کے اُس حصے پر اتارا گیا ہے جو کبھی زمین کی طرف نہیں ہوتا یعنی وہاں سے زمین نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس اپالو کے تمام مشنز چاند کے اُس حصے پر اتارے گئے تھے جو مُستقل طور پر زمین کی طرف ہوتا ہے۔ چنانچہ چِین کے اس rover کو جو چاند پر اتارا گیا ہے چاند کے دوسری طرف جانے کے لیے کم از کم ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا ہو گا جو ممکن نہیں ہے۔
اعتراض نمبر 9:
زمین کے گِرد خطرناک شعاعوں کی اپک پٹی ہے جس میں سے کسی بھی انسان یا مشین کا گزرنا ناممکن ہے۔
جواب:
یہ درست ہے کہ زمین کے گرد ایک ایسی پٹی ہے جس میں سورج کی خطرناک شعاعیں مقید رہتی ہیں۔ سورج جہاں 'روشنی' خارج کرتا ہے وہیں پر 'چارجڈ پارٹیکلز' کی خطرناک شعاعیں بھی خارج کرتا ہے جسے شمسی ہوا (solar wind) کہا جاتا ہے۔ زمین کے مقناطیسی فیلڈ کی وجہ سے یہ شعاعیں زمین تک نہیں پہنچ پاتیں اور زمین کے اطراف سے گزر جاتی ہیں۔ یُوں زمین پر جاندار ان شعاعوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ خلاء میں جانے والے راکٹ البتہ ان شعاعوں کی پٹی سے گزرے بغیر چاند تک نہیں پہنچ سکتے۔ شعاعوں کی یہ پٹی اتنی خطرناک اور جان لیوا نہیں ہے جتنی بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ ان شعاعوں سے پچنے کے لیے سپیس شپ میں دھات کی شیلڈنگ ہوتی ہے۔ یہ شعاعیں اس شیلڈنگ کے اندر نہیں داخل ہوسکتیں اس لیے خلا باز اور اسپیس شپ کی الیکٹرانکس محفوظ رہتی ہیں۔ اسپیس شپ ان شعاعوں کی پٹی میں زیادہ دیر نہیں رہتا اس لیے سپیس شپ کو اور اس میں موجود خلا نوردوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
اعتراض نمبر 10:
اپالو پروگرام فراڈ تھا۔ چاند پر کوئی اسپیس شپ نہیں گیا۔ چاند پر خلانوردوں کی ویڈیوز جعلی تھیں اور زمین پر ایک سٹوڈیو میں بنائی گئی تھیں۔
جواب:
چاند پر انسان ایک بار نہیں بلکہ چھ بار جا چکا ہے۔ اپالو 11 سے اپالو 17 تک کے مشن چاند پر اترے تھے۔ ان میں سے اپالو 13 تکنیکی خرابی کے باعث چاند پر نہیں اتر پایا تھا اور خلا نورد ایک crippled سپیس شپ کو اپنی مہارت کے بل بوتے پر واپس زمین پر لائے تھے۔ اپالو 11 سے پہلے بہت سے مشن چاند پر جانے کی ریہرسل کے لیے بھی بھیجے گئے تھے۔ پہلا مشن اپالو 1 زمین پر ہی آگ لگنے سے تباہ ہوگیا تھا جس میں خلانورد ہلاک ہوگئے تھے۔
اپالو پروگرام ایک پیچیدہ پروگرام تھا جس پر لاکھوں لوگ کام کر رہے تھے۔ اگر ناسا کو چاند پر نہیں جانا تھا تو امریکہ کو اپالو پروگرام پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کی اور اس دوران حادثات میں لوگوں کی جان کی قربانی دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے اپالو پروگرام پر کام کیا ان لاکھوں لوگوں کو عُمر بھر کے لیے خاموش رکھنا عملاً ناممکن ہے۔ اگر اپالو پروگرام ایک hoax ہوتا تو اب تک سینکڑوں لوگ اس کا بھانڈا پھوڑ چکے ہوتے۔ لیکن اس پر کام کرنے والے کارکن جو اب تمام کے تمام ریٹائر ہوچکے ہیں اپالو پروگرام پر فخر کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کا بہترین کام بتلاتے ہیں۔
جعلی وڈیو کا اعتراض زیادہ تر ان ویڈیوز پر کیا جاتا ہے جو چاند سے براہِ راست نشر کی گئی تھیں۔ چونکہ اپالو کے کمانڈ ماڈیول میں رنگین نشریات کی سہولت نہیں تھی اس لیے یہ ویڈیو بلیک اینڈ وائٹ تھی اور کم ریزولوشن کی تھی۔ لیکن ان تمام واقعات کی رنگین ریکارڈنگ بھی کی گئی تھی جو فلم کی صورت میں زمین پر واپس آئی اور بعد میں ڈویلپ کی گئی۔ اس فلم میں یہی تمام واقعات ہائی ریزولوشن میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
اعتراض نمبر 11:
خلائی ماڈیول کی چاند سے واپس اڑنے کی کوئی ویڈیو موجود نہیں ہے۔
جواب:
اپالو 11، 12، اور 14 (اپالو 13 فنی خرابی کے باعث چاند پر نہیں اتر پایا تھا) میں ویڈیو کیمرہ اس خلائی جہاز میں نصب تھا جو چاند پر ہی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ چاند پر اترنے کے بعد اس کیمرے کو خلانورد چاند پر ایک سٹینڈ پر نصب کرتے تھے جہاں سے ایک کیبل کے ذریعے سگنل خلائی جہاز میں جاتا تھا جہاں پر اسے زمین پر نشر کیا جاتا تھا۔ یہ کیمرہ ایک خلا نورد کو manually چلانا ہوتا تھا۔ اس وجہ سے خلائی ماڈیول جب چاند سے خلانوردوں کو لے کر واپس اڑتا تھا تو اس کی ویڈیو بنانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اپالو 15 اور اس کے بعد کے مِشنز میں ایک rover موجود تھا جس میں ویڈیو کیمرہ بھی نصب تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے زمین سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ چنانچہ اپالو 15 کے اور اس کے بعد کے تمام اپالو مشنز کے خلائی ماڈیول کی چاند سے واپس اڑنے کی ویڈیو براہِ راست نشر کی جاتی تھیں۔
اعتراض نمبر 12:
چاند پر خلائی جہاز کے اترنے کی جگہ پر کوئی کریٹر (crater) موجود نہیں ہے۔ اگر وہاں پر خلائی جہاز اترا تھا تو وہاں پر ایک گہرا کریٹر ہونا چاہئے تھا۔
جواب:
خلائی جہاز چاند پر کریش نہیں ہوا تھا بلکہ آرام سے اترا تھا جسے سوفٹ لینڈنگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ چاند کی کششِ ثقل زمین کی نسبت کم ہے اس لیے سوفٹ لینڈنگ کے لیے بہت کم ایندھن کی ضرورت تھی۔ خلائی جہاز اترنے کے مقررہ مقام پر نہیں اتر پایا تھا کیونکہ اس زمانے میں کنٹرول سسٹمز اتنے پیچیدہ اور حساس نہیں تھے جتنے اب ممکن ہیں۔ چنانچہ اپنے مومینٹم کی وجہ سے خلائی جہاز اپنے مقررہ مقام سے کافی دور جا کر چاند کی سطح سے ٹکرایا تھا۔ اگر یہ تمام کہانی جعلی ہوتی تو ناسا کو اس قسم کی غلطیاں دکھانے کی کیا ضرورت تھی جو کہ اصلی مِشنز میں لا محالہ ہوتی ہیں لیکن جن سے کنٹرول سسٹمز کی کمزوریاں عیاں ہوتی ہیں۔
اعتراض نمبر 13:
سپیس شپ میں چاند سے واپس زمین پر آنے کے لیے ایندھن نہیں تھا۔
جواب:
اس اعتراض میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ چونکہ زمین سے چاند پر جانے کے لیے راکٹ کو بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے چاند سے زمین پر واپسی کے لیے بھی بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت ہوگی۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ زمین کی کششِ ثقل چاند کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اس لیے فی کلوگرام وزن کے حساب سے زمین کی کشش سے نکلنے کے لیے راکٹ کو بہت زیادہ ایندھن چاہئے ہوگا بنسبت چاند کی کشش سے نکلنے کے۔ زمین سے چاند پر بھیجے جانے والے سپیس شپ میں بہت سا سازوسامان، لیونر ماڈیول ،سائنسی آلات اور خلابازوں کی حفاظت اور کھانے پینے کا سامان تھا جس کے لیے بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت تھی۔ اس ایندھن کا اپنا وزن بھی بہت زیادہ تھا لہٰذا اس وزن کو اٹھانے کے لیے مزید ایندھن چاہیے تھا۔ نتیجتاً زمین سے خلا میں بھیجنے کے لیے بہت بڑے راکٹ اور بہت زیادہ ایندھن کی ضرورت تھی۔ اس کے برعکس چاند سے واپسی کے لیے لیونر ماڈیول کے صرف اس حصے کو جس میں دو خلاباز تھے چاند سے اُڑ کر کمانڈ ماڈیول تک پہنچنا تھا جو چاند کے گِرد مدار میں تھا اور پھر اس کمانڈ ماڈیول کو زمین تک آنا تھا۔ اس تمام عمل کے لیے بہت کم ایندھن کی ضرورت تھی کیونکہ نہ صرف چاند کی کشش زمین کے مقابلے میں کم ہے بلکہ واپس آنے والے ماڈیول کا وزن بھی زمین سے اُڑنے والے اسپیس شپ کی نسبت بہت کم تھا۔
اعتراض نمبر 14:
وہ تمام پتھر جعلی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ چاند کے پتھر ہیں۔ نیندر لینڈ کے عجائب گھر میں موجود چاند کا پتھر جعلی ثابت ہوچکا ہے۔
جواب:
اپالو کے چاند پر اُترنے والے ہر مشن میں چاند کے بہت سے پتھر زمین پر لائے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ پتھر تحائف کی صورت میں دوسرے ممالک کو دیئے گئے، کچھ مختلف ریسرچ آرگنائزیشنز اور یونیورسٹیوں کو دیئے گئے اور بہت سے ابھی تک ناسا کے پاس محفوظ ہیں۔ بہت سے ریسرچرز نے ان پتھروں پر ریسرچ کی ہے جو ابھی تک جاری ہے اور پچاس سے زائد سال بعد بھی اس ریسرچ کے نتیجے میں نئے سائنسی پیپرز چھاپے جا رہے ہیں۔ ان ہی پتھروں کے تجزیے سے سائنس دانوں نے چاند کے بننے کے متعلق جدید نظریات تشکیل دیئے ہیں۔ چاند کے بہت سے پتھر مختلف سائنس کے عجائب گھروں میں موجود ہیں اور انہیں ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ چونکہ چاند کے پتھر نادرات میں شمار ہوتے ہیں اس لیے بلیک مارکیٹ میں ان کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ چاند کے کچھ پتھر چُرائے جا چکے ہیں جن کے بارے میں ناسا کو معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہیں۔ کچھ اور پتھر چُرا کر ان کی جگہ زمینی پتھر رکھ دیے گئے ہیں۔ اسی طرح کا ایک فراڈ نیدرلینڈ کے عجائب گھر کے ساتھ بھی ہوا جو کہ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے عجائب گھر میں موجود چاند کا پتھر بھی جعلی ہے۔ تاہم ایسے جعلی پتھروں کی تعداد بہت کم ہے۔
اعتراض نمبر 15:
چاند پر جانے کا کوئی ثبوت ایسا نہیں جسے پرکھا جا سکے۔
جواب:
اپالو 11، 14، اور 15 کے خلاباز چاند پر ایسے آئینے چھوڑ کر آئے ہیں جنہیں retroreflectors کہا جاتا ہے جو لیزر کی شعاعوں کو اسی سمت میں منعکس کرتے ہیں جس سمت سے وہ آرہی ہوں۔ زمین سے ان آئینوں پر لیزر کی شعاع ڈال کر اور اس کے منعکس ہونے کے بعد زمین پر پہنچے والے وقت کو ناپ کر زمین سے چاند کے فاصلے کو بہت زیادہ accuracy سے ناپا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان ان آئینوں کو اپنی ریسرچ میں استعمال کرتے ہیں۔ اگر انسان چاند پر نہیں گیا تو یہ شیشے چاند پر کیسے پہنچے؟ سازشی نظریات کے حامل لوگوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔
ان تمام حقائق کی ناسا سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ذرائع ہیں جن سے ان حقائق کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ جو لوگ چاند پر انسان کے اُترنے کے حقائق سے انکار کرتے ہیں ان کے انکار کی یہی وجوہات ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ چاند پر انسان کے اُترنے کے حوالے سے سازشی نظریات کو ماننے والے لوگ جو دلائل پیش کرتے ہیں وہ بُودے ہیں اور انہیں آسانی سے رَد کیا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment