سٹیون وائن برگ کو ہم سے بچھڑے چار سال سے زائد ہو گئے ہیں۔ مجھے اس کے دروازے پر حاضری دینے کی ہمیشہ خواہش رہی اور یہ خواہش ہی رہی۔ ایک بار یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن میں اس کے دروازے پر بھی جا پہنچا لیکن وہ اس دن آیا ہی نہیں تھا۔ شاید یہی فطرت کو منظور تھا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ وہ گزشتہ صدی کے عظیم ترین سائنسدانوں میں سے ایک تھا۔ جو چیز اسے باقی سائنسدانوں سے ممتاز کرتی تھی وہ یہ تھی کہ اُس کی دقیق نظر نہ صرف سائنسی بلکہ سوشل معاملات پر بھی اتنی ہی گہری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ فزکس کی دنیا میں اتنا سارا کام کرنے کے علاوہ سوشل مسائل پر بھی بہت زیادہ لکھتا اور بولتا تھا۔ بلکہ اس نے تین کتابیں انہیں معاملات پر لکھ دیں تھیں۔ وہ علم کا سمندر تھا۔ اسے یہ بات بہت ستاتی تھی کہ عام لوگوں تک سائنسی علم اچھی طرح نہیں پہنچ پاتا ۔ سائنس ہمیں منطقی طریقے سے سوچنے کا ڈھنگ سکھاتی ہے۔ اسی لیے وائن برگ نے عام لوگوں کو سائنسی فہم کے لیے مندرجہ ذیل کتابیں تجویز کی تھیں۔ یہ فہرست جُزوی لیکن بنیادی ہے۔ یہ کتابیں سب کو پڑھنی چاہئیں۔
1۔ والٹیئر کے فلسفیانہ خطوط
میں ان کے اوپر زیادہ بات نہیں کروں گا کیوں کہ یہ خطوط مذہبی اور منطقی قسم کے ہیں اور ان میں اکثر والٹیئر کے عیسائی مولویوں کے ساتھ مباحث شامل ہیں۔ لیکن ہم اپنے اس فورم پر چونکہ مذہب پر بات نہیں کرتے اس لیے میں اس کتاب کا تعارف نہیں کرواؤں گا۔
2۔ چارلس ڈارون کی اصلِ انواع
جی یہ کتاب چارلس ڈارون کی the origin of species by means of natural selection ہے۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ ہم ڈارون کا فطری چناو کا نطریہ تو پہلے ہی معلوم ہے پھر یہ ساری کتاب کیوں کر پڑھی جائے تو اس کتاب کو پڑھنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا ہے کیوں کہ جو اہم چیز دیکھنے کی ہے وہ تفصیلی مطالعہ ہے جس میں ڈارون مدلل انداز میں بہت تفصیل سے وہ سارے ثبوت پیش کرتا ہے جو اس نے اکٹھے کیے اور پھر اس کو بنیاد بنا کر فطری چناو کا نظریہ تشکیل دیا۔ یہ کتاب مقتدرہ قومی زبان (national language authority) اسلام آباد نے اصلِ انواع کے نام سے شائع کی ہے۔
3۔ چاک کے اِک ٹکرے پر
(On a Piece of Chalk)
یہ کوئی ڈیڑھ سو سال پُرانا ایک چھوٹا سا مضمون ہے جو صرف پندرہ صفحات پر مشتمل ہے اور یہ اسی چاک کے بارے میں ہے جو ہم استعمال کرتے ہیں۔ صرف چاک ہمیں ہماری دنیا کے ارتقا کے بارے میں کیا کیا بتا سکتا ہے یہ چودہ صفحات پر مشتمل ایک مضمون آپ کے دماغ کے چودہ طبق روشن کر دے گا۔ اس کا ترجمہ میں مستقبل قریب میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
4۔ پُر اسرار کائنات
(The Mysterious Universe by James Jeans)
آپ میں سے بہت ساروں کو یہ نام ضرور یاد ہوگا جو میں آپ کو بتانے والا ہوں۔ The Dying Sun ۔ یا مرتا ہوا سورج۔ یہ گیارھوں یا بارھویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں ایک سبق ہوتا تھا۔ یہ سبق دراصل پُراسرار کائنات کا ایک باب ہے۔ یہ کتاب اُنیس صد اڑھتیس میں لکھی گئی تھی۔ قریب قریب اسی دور میں جب ہمیں کائنات کے متعلق جدید فہم حاصل ہو رہی تھی۔ بہت ہی عمدہ کتاب۔
5۔ سورج کی پیدائش و موت
(The Birth and Death of Sun by George Gamow)
اُنیس صد ساٹھ میں لکھی گئی ایک بہت ہی عمدہ کتاب۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ بتاتی ہے کہ ہمارا سورج کیسے اربوں سالوں سے چمک رہا ہے اور یہ کب تک چمکتا رہے گا۔ لیکن یہی نہیں یہ کتاب تمام کی تمام بنیادی فزکس کو نہایت ہی آسان اور سہل انداز میں بیان کرتے کرتے آپ کو آخر تک لے جاتی ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہے۔ میرے پاس اس کی پی ڈی ایف کاپی موجود ہے جو میں ڈھونڈ کر یہاں اپلوڈ کر دوں گا۔
6۔ طبیعیاتی قوانین
(The Character of Physical Law by Richard Feynman)
طبیعیاتی قوانین کیا ہوتے ہیں اور ہمیں کیا کیا بتا سکتے ہیں، ان کی ماہیت کیا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ اور وہ بھی رچرڈ فائن من کے ہاتھ سے۔ یہ کتاب آپ کو ہر سائنس دان ریکمنڈ کرتا دکھائی دے گا۔ اس کتاب کو اردو میں ڈھالنا میری دیرینہ خواہش ہے۔
7۔ خوبصورت کائنات
(The Elegant Universe by Brian Greene)
یہ کتاب سٹرنگ تھیوری کا بنیادی تعارف کراتی ہے۔ شاید اس مضمون کی واحد کتاب جو اتنی کمال ہے۔ ظاہر ہے وائن برگ نے کسی وجہ سے ہی ریکمنڈ کی ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ نغمہ کائنات کے نام سے یاسر جواد نے کیا ہوا ہے۔ تاہم اس نے کچھ اہم ابواب حذف کر دیے ہیں۔
8۔ خود غرض جِین
(The Selfish Gene by Richard Dawkins)
اس فہرست میں بیالوجی پر پہلی کتاب جو آپ کو ارتقا کے بارے میں جرعہ جرعہ بتائے گی۔ پچاس سال ہونے کو آئے لیکن اب بھی اپنے نفس مضمون کی سب سے اعلٰی کتاب۔
9۔ ایٹم بم کی تشکیل
(The Making of Atomic bomb by Richards Rhodes)
صرف نام ایٹم بم نہیں ہے بلکہ کتاب بھی ایٹم بم ہے۔ ایٹم بم کی تاریخ، فزکس اور اس کی تشکیل تک ایک رولر کوسٹر ہے۔ جب رولر کوسٹر کہہ رہا ہوں تو ہے بھی۔ اس فہرست کی سب سے موٹی کتاب۔ نو سو صفحات پر مشتمل خزانہ۔
10۔ افراطی کائنات
(The Inflationary Universe by Alan Guth)
کائینات کا افراطی یا ان فلیشنری نطریہ کیا ہے اور اس کی تشکیل کے پیچھے کیا محرکات تھے، سُنیں اسی نظرے کے بانی سے۔
11۔ بینگ بینگ
(The Whole Shebang by Timothy Ferris)
کتاب کا نام shebang ہے اور یہ she-bang آپ پڑھ کر ہی سمجھ پائیں گے۔ میری پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک۔ بدقسمتی سے یہ کتاب کہیں بھی موجود نہیں سوائے پرنٹ کے اور میں نے اسے یہاں خرید کر پڑھا۔ پاکستانی ریڈرز کے لیے یہ تھوڑی دُکھ والی خبر ہے کہ شاید وہ اس کتاب کو حاصل نہ کر پائیں۔
12۔ آئینے میں چُھپنے کی کوشش
(Hiding in the Mirror by Lawrance Krauss)
مجھے یقین ہے آپ نے کراؤس کی "عدم سے بنی کائنات" کا بہت نام سنا ہو گا۔ اب ذرا اس کو پڑھ کر دیکھیں۔
13۔ گُنجلک راستے
(Warped Passages by Lisa Randall)
اس فہرست میں موجود اکلوتی خاتون۔ لیکن سب پر بھاری۔ لیزا رینڈل کی ایک ایک کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ آپ اس سے جو اس کی پہلی کتاب ہے، شروع کر سکتے ہیں۔ پارٹیکل فزکس، سُپر سمٹری، سٹرنگ اور ہگز بوزان۔ کمال است۔
14۔ منہاجِ جدید
(Novum Organum by Francis Bacon)
اسے سائنسی طریقہ کار کی پہلی کتاب کہتے ہیں۔ سائنس کیا ہے اور اس کا طریقہ کار کیا اس کے بنیادی اصول اس کتاب میں فرانسس بیکن نے واضح کیے۔ کئی سو سال پرانی کتاب۔ میں آج کل اسی کو پڑھ رہا ہوں۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ نیشنل بک فاونڈیشن نے "منہاجِ جدید" کے نام سے شائع کیا ہے۔

Comments
Post a Comment