مردوں کی نسبت خواتین زیادہ کیوں جیتی ہیں؟


مردوں کی نسبت خواتین زیادہ کیوں جیتی ہیں؟

ڈاکٹر محمد طارق

2021ء میں پاکستان میں ایک مرد کی اوسط عمر 64 برس سے کم جبکہ ایک خاتون کی اوسط عمر ساڑھے 68 برس سے زیادہ تھی۔ امریکی مرد اوسطاً 74 برس جبکہ خاتون 80 برس زندہ رہتی ہے۔ افریقی ملک چاڈ جہاں اوسط عمر نسبتاً کم ہے، وہاں بھی عورتیں (54.3 سال) مردوں (50.8 سال) سے ساڑھے تین سال زیادہ زندہ رہتی ہیں۔ دنیا بھر میں رجحان یہی ہے کہ عورتیں زیادہ جیتی ہیں۔ اور بات صرف آج کی نہیں ہے۔ پرانے تاریخی ریکارڈ سے بھی یہی رجحان ثابت ہے۔ مثلاً سویڈن (جہاں کے تاریخی ریکارڈ کو دنیا بھر میں معتبر سمجھا جاتا ہے) میں 1800ء میں مردوں کی اوسط عمر 31 جبکہ خواتین کی 33 سال تھی جبکہ موجودہ دور میں سویڈش مرد کی اوسط عمر 79.5 جبکہ عورت کی 83.5 سال ہے۔ یعنی خواتین ہر دور میں اور ہر خطے میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ جیتی ہیں (لتا منگیشکر نے جب "تم کو ہماری عمر لگ جائے" گایا تھا تو وہ غالباً یہی اضافی عمر عطیہ کرنے کا سوچ رہی تھی)۔ 

یہ اضافی عمر خواتین کو کیسے ملتی ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟

ماہواری اور حمل کے دوران خواتین کا دل تقریباً بیس فیصد زیادہ تیزی سے دھڑکتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ورزش کے دوران دل کے دھڑکن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ گویا خواتین پر حمل اور ماہوری کا اثر ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ورزش کا (jogging female heart)۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین میں مینوپاز سے پہلے دل کے امراض سے موت کی شرح ہم عمر مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ مینوپاز کے بعد یہ شرح خواتین میں مردوں کے برابر ہوجاتی ہے۔

خواتین کے خلیے (cell) میں 46 کروموسوم دو ایکس کروموسوم پر مشتمل جوڑی سمیت 23 جوڑیوں کی شکل میں ہوتے ہیں جبکہ مردوں میں 22 جوڑیاں وہی ہوتی ہیں جو خواتین میں ہیں جبکہ ایکس اور وائے کروموسوم پر مشتمل ایک "بے جوڑ" جوڑی بھی ہوتی ہے۔ اس کا خواتین کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر ان کے ایک ایکس کروموسم پر کسی جین میں نقص ہو تو دوسرے کروموسوم پر درست جین ہونے کی صورت میں نقص کا اثر زائل ہو سکتا ہے (Back up copy)۔ مردوں کو اس بیک اپ سپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ چنانچہ بڑھتی عمر کیساتھ ساتھ مردوں میں جینیاتی نقائص بڑھنے اور نتیجتاً خلیے کی عمر کم ہو جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ 

کروموسومز کے آخری سرے (telomeres) وقت کیساتھ ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں (جھڑتے جاتے ہیں) اور ایک حد سے زیادہ چھوٹے ہونے بعد cells کی متواتر تقسیم ہونے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً cells موت کی طرف بڑھتے جاتے ہیں (aging faster)۔ خواتین میں یہ telomeres مردوں کی نسبت لمبے ہوتے ہیں (ایسٹروجن ٹیلومریز اینزائم کو upregulate کرتا ہے اور اوکسیڈیٹیو سٹریس کم کرتا ہے) چنانچہ ان کے telomeres کو خطرے کی لائن عبور کرنے میں مردوں کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے (یعنی عمر لمبی ہوتی ہے)۔

کہا جاتا ہے کہ eugenics کے دور میں امریکہ میں جن لوگوں کے testicles آپریشن کرکے نکالے گئے تھے، ان کی عمریں جیل میں اپنے باقی ساتھیوں کی نسبت زیادہ تھیں۔ یہ کوئی اتنی حیرت انگیز بات بھی نہیں ہے۔ بغیر testicles کے نر جانوروں کی لمبی عمریں بھی ایک عام مشاہدہ ہے۔ تاہم 2012 میں کوریائی محققین نے کوریا کی Joseon یا Chosun سلطنت کے دربار میں شاہی خاندان کی خدمات کیلئے رکھے جانے والے 81 نامرد حکام (eunuchs, whose testicles had been removed) اور عام لوگوں کی عمروں کے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کے مطابق eunuchs کی اوسط عمر ستر سال جبکہ عام مردوں کی اوسط عمر صرف پچاس پچپن سال تھی. یہاں تک کہ سب سے اچھی خوراک اور علاج تک رسائی والے بادشاہوں کی عمر بھی ان eunuchs سے بہت کم تھی۔ تو کیا نر جنسی ہارمونز (testosterone) مردوں کی کم اوسط عمر کا سبب ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ ٹیسٹوسٹیرونز پروسٹیٹ کینسر جیسی مہلک بیماری کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اس کے اثرات باقی اعضاء کے کینسر یا بیماریوں پر اتنے نہیں ہیں کہ یہ مردوں کی کم عمر کا ذمہ دار ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف جنسی ہارمونز نہیں بلکہ testicles میں موجود یا اس سے منسلک دوسرے ایسے عوامل ہیں جن کی بدولت عورتوں کی نسبت مردوں کی زندگی جلد ختم ہوتی ہے (fast aging)۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن یہ بہرحال ایک حد تک مسلمہ ہے کہ نر جنسی اعضاء مردوں کی کم عمر کا ایک اہم سبب ہیں۔ 

لیکن کیا ضروری ہے کہ مردوں کی عمر کم ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خواتین کی عمر زیادہ ہو۔ 

🙂

 

خلیوں (cells) کو موت کی طرف لے کر جانے والے پروسیس (aging) میں بڑا کردار فری ریڈیکلز کا ہوتا ہے جو cells میں موجود ڈی این اے اور پروٹین سمیت مختلف مولیکیولز کو نقصان پہنچاتے ہیں اور cells کی شکست و ریخت کا سبب بنتے ہیں۔ ان فری ریڈیکلز کی مؤثر طور پر صفائی اینٹی اوکسیڈینٹس (antioxidants) کے ذریعے ممکن ہے۔ عموماً نیوٹریشنیسٹس آپ کو کھانے میں پھل شامل کرنے کا کہتے ہیں۔ تاہم خواتین کی خوش قسمتی ملاحظہ ہو کہ مادہ جنسی ہارمونز ایسٹروجن بھی اینٹی اوکسیڈنٹ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خواتین میں مردوں کی نسبت فری ریڈیکلز کم پائے جاتے ہیں۔ تجربات کے دوران جب کچھ مادہ جانوروں کی ovaries نکال دی گئیں تو ان میں فری ریڈیکلز کی شرح بڑھ گئی اور تجربات میں شامل باقی مادہ جانوروں کی نسبت ان کی موت جلدی ہو گئی۔ یعنی testicles نکالنے کے اثرات کے بالکل الٹ۔ ایسٹروجن ہارمون شریانوں (arteries) کی صحت اور اچھے کولیسٹرول بڑھانے کیلئے بھی مفید ہے۔ چنانچہ مینوپاز سے پہلے خواتین میں دل کی بیماریوں کی شرح کم اور مینوپاز کے بعد بڑھ جاتی ہے۔

یعنی فطرت نے خواتین کو unfairly نوازا ہے۔ اس ضمن میں ایک سوال ضرور بنتا ہے کہ اگر ارتقاء نے خاتون کو مرد کی نسبت لمبی زندگی دی ہے تو پھر اسے مرد کی نسبت کم تولیدی زندگی کیوں ملی؟ مرد کی نسبت عورت کی زندگی میں متحرک تولیدی دورانیہ انتہائی کم کیوں ہے؟ 

اس سوال کا جواب مل کر کھوجتے ہیں۔



Comments