.png)
سٹاک ہوم میں اک پگڑی آوارہ پھرتی ہے
تحریر: فصی ملک
یہ ۱۹۶۲ کی بات ہے، میں کیمبرج یونیورسٹی میں طالب علم تھا اور اس دن محض وقت گزاری کی خاطر ہال میں داخل ہوا تھا۔ ہال اساتذہ اور طلبا سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہال کا دروازہ کھلتا ہے اور کالے چوغوں میں ملبوس تین شخص اندر داخل ہوتے ہیں۔ وہ کیمر، میتھیوز اور عبدالسلام ہیں۔ہال میں ایک سناٹا چھا جاتا ہے۔اگلی قطار میں بیٹھا ایک لڑکا پیچھے مڑتا ہے اور بظاہر کسی سے بھی مخاطب ہوئے بنا کہتا ہے.
" جب یہ بولتے ہیں تو قابلیت ٹپکتی ہے"۔ (گورڈن فریزر)
یہ سلام کی شخصیت کا ایک پہلو ہے، دو دنیاؤں میں کھویا یہ شخص اپنے ہم عصروں کے لیے ایک عظیم دماغ لیکن اپنے ہم وطنوں کے لیے ایک بدعت گزار ہے۔اس کے ہم وطن بھلے ہی اس کو اپنا ماننے سے انکاری ہوں لیکن یہ بات بھی اٹل ہے کہ سائنسی دنیا میں اِس ملک کو اُسی کے توسط سے جانا جاتا ہے۔ اگر آپ فزکس میں نوبل انعام جیتنے والوں کی فہرست پر نظر دوڑائیں تو آپ ہر ملک سے کئی بار گزریں گے لیکن ایک سو بیس سالوں پر محیط اس فہرست میں آپ کو سبز ہلالی پرچم صرف عبدالسلام کے نام کے آگے نظر آئے گا۔
اس مختصر مضمون میں یہ ممکن نہیں ہے کہ سلام کی زندگی کے سارے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا سکے ۔ لیکن میں ڈاکٹر عبدالسلام کے پاکستان اور تیسری دنیا میں سائنس کی ترویج پر کیے کام کو سامنے لانا چاہتا ہوں، تاکہ عصرِ حاضر کی نوجوان نسل اس سے متعارف ہو سکے۔
یہ ایک نہایت ہی افسوس ناک بات ہے کہ کسی شخص کو اس کے عقائد کی وجہ سے اتنا متنازع بنا دیا گیا ہے اور اس کی شخصیت کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ ہمارے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ عبدالسلام نے سائنس میں کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ حالاں کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ وہ کام جس نے عبدالسلام کو ایک دم سے اعلیٰ پائے کے طبیعیات دانوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا وہ میزون تھیوری کی رینارملائزیشن (Renormalization of Meson theories) تھی۔
رینارملائزیشن کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ نظریات ہمیں وہ جواب دیتے ہیں جن کی طبیعی نظریات میں گنجائش نہیں ہے ۔ طبیعی نظریات کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھا جا سکے۔ میزون نظریات ایسے نہیں تھے۔ اس سے پہلے بالکل ایسے ہی مسائل کوانٹم برقیات کے نظریات میں بھی پیش آ چکے تھے ،جن کو فائن مین اور شونگر نے دور کر دیا تھا لیکن اب انہیں مسائل کا سامنا میزون نظریات کو تھا۔
۱۹۲۶ میں ارون شروڈنگر اور ورنر ہائزنبرگ نے کوانٹم میکانیات کو مکمل تو کر دیا تھا لیکن اس میں آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت شامل نہیں تھا۔ چونکہ نظریہ خصوصی اضافیت زیادہ رفتار سے حرکت کرتے اجسام کی حالتوں کو بیان کرتا ہے اس لیے کسی بھی طبیعی نظریے کا نظریہ خصوصی اضافیت کے ساتھ موافق ہونا ضروری ہے۔ یہ کام ۱۹۲۸ میں پال ڈیراک نے کیا۔
ڈیراک کی مساوات ایسے اجسام کی حرکات کو بیان کرتی ہے جن پر نظریہ خصوصی اضافیت کا اطلاق ہو سکتا ہے جیسا کہ ایک آزاد برقیہ۔برقیوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ مرعی روشنی سے تعامل کر سکتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ قابلِ فہم ہو گا کہ جب کوئی برقیہ سفر کرتا ہے تو اس کے گر د روشنی یا پھر ضیائیوں کا ایک گھیرا سا ساتھ چلتا ہے۔ جب یہ برقیہ کسی دوسرے برقیے کے قریب آتا ہے تو اس کے گرد گھیرا بنائے کچھ ضیائیے اس کو چھوڑ کر دوسرے برقیے کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں اور یہ وہ اثر ہے جو ہم ایک برقیے کا دوسرے برقیے پر قوت کی صورت میں دیکھتے ہیں۔اس کو آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ دو برقیے ایک دوسرے کے ساتھ تعامل ضیائیوں کے تبادلے سے کرتے ہیں۔ اور اس کی فہم حاصل کرنے کے لیے ریاضیاتی مسائل کو فائن من ، شونگر اور فری من ڈائسن نے حل کیا۔
۱۹۳۰ کے اوائل میں جاپانی سائنسدان یوکاوا نے اس تصور کو جوہری مرکزے میں موجود ذرات پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔ یوکاوا نے یہ نظریہ دیا کہ جوہری مرکزہ جس قوت کی وجہ سے اپنی اصل حالت میں رہتا ہے ( قوی نیوکلیائی قوت) اس قوت کا اثر ہمیں جن ذرات کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے وہ میزون ہیں۔ جب جوہری مرکزے میں موجود ذرات (پروٹان اور نیوٹران) ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں تو وہ بھی بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے مذکورہ بالا برقیے تعامل کرتے ہیں۔ یعنی یہ تعامل بھی کچھ ذرات کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے اور یوکاوا نے ان ذرات کو میزون کا نام دیا۔ اب ان نطریات میں بھی مسلہ وہی تھا کہ جب ان کی ریاضیات کو حل کیا جاتا تو جواب لامحدود آتا جو کہ طبیعی نظریات میں قابلِ قبول نہیں۔
جب سلام نے اس پر کام شروع کیا تو ایک اور برطانوی سائنسدان پال میتھیوز اس پر کام کر رہا تھا۔ میتھیو نے سلام کو بتایا کہ یہ مسئلےبہت مشکل ہیں اور ان کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر پھر بھی آپ بضد ہو تو میں یہ کر سکتا ہوں کہ تین مہینے کے لیے آپ کو یہ پرابلم حل کرنے کے لیے دے سکتا ہوں۔ اگر آپ نے ان تین ماہ میں اس کو حل کر لیا تو ٹھیک نہیں تو تین ماہ بعد جب میں چھٹی سے واپس آؤں گا تو اس کو خود حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ میتھیوز جب تین مہینے کے بعد چھٹی سے واپس آیا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ سلام نے اس پرابلم کو حل کر لیا تھا۔ کچھ وقت بعد جب فری من ڈائسن کو معلوم ہوا کی میزون تھیوری کا مسلہ حل ہو گیا ہے تو اس نے حیرانی میں کہا کہ" میں نے کہا تھا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے، یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی اس کو حل کر بھی لے گا"۔
اس کام نے سلام کو دنیا کے صفِ اول کے سائنسدانوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ سلام نے کل ۲۷۵ سائنسی مقالے لکھے جن میں سے ہر ایک اپنی اہمیت میں نمایاں ہے۔ لیکن میں صرف ایک اور مقالے کا یہاں ذِکر کروں گا اور وہ وہ ہے جس پر اس کو نوبل انعام سے نوازہ گیا۔ یہ نظریہ ایلکٹروویک تھیوری (electroweak theory) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میں اس کا مرکزی خیال یہاں پیش کر دیتا ہوں۔
ہماری کائنات میں بنیادی طور پر چار قوتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی قوتِ تجاذب ہے۔ یہ وہ قوت ہے جس کی وجہ سے چیزیں زمین کی طرف گرتی ہیں یا پھر چاند زمین کے، جب کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری قوت برقناطیسی قوت ہے۔یہ قوت جوہروں کو ان کی زندگی بخشتی ہے اور اس لحاظ سے ہماری کائنات کے ہونے کی موجب ہے۔ تیسری قوت قوی نیوکلیائی قوت ہے۔ یہ نیوکلئیس یا جوہری مرکزے کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھتی ہے۔اور چوتھی اور آخری قوت نحیف مرکزائی قوت ہے اور یہ تابکاری اور ذراتی انحطاط کا باعث بنتی ہے۔
خیال یہ ہے کہ کائنات کے ابتدائی ایام میں صرف ایک ہی قوت تھی۔ یعنی یہ چاروں قوتیں اصل میں ایک ہی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئیں ۔ اس تصور کا ثبوت سب سے پہلے جیمز میکسویل نے فراہم کیا۔ میکس ویل نے یہ ثابت کیا کہ برقی اور مقناطیسی قوتیں اصل میں ایک ہی قوت ہے جس کو ہم اب برقناطیسی قوت کہتے ہیں۔ یہ قوتوں کی یکجائی میں پہلا قدم تھا۔ عبدالسلام کا کام اس کو ایک قدم اور آگے لے جانا تھا۔ عبدالسلام (اور شیلڈن گلیشو اور سٹیون وائن برگ نے آزادانہ) نے یہ ثابت کیا کہ برقناطیسی قوت اور نحیف نیوکلیائی قوت اصل میں ایک ہی قوت ہیں۔
اوپر ہم نے ذکر کیا ہے کہ قوتوں کی اشاعت ذرات کے ذریعے ہوتی ہے۔برقناطیسی قوت کا اشاعتی ذرہ ضیائیہ ہے جس کے بارے اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ اب برقناطیسی اور نحیف نیوکلیائی قوتوں کو یکجا کرنے کا مطلب تھا کہ نئے ذرات کی پیشین گوئی کی جائے جو نحیف نیوکلیائی قوت کے اشاعتی ذرات ہوں۔ عبدالسلام نے ان ذروں کی پیشین گوئی کی جن کو بعد میں تجربات میں ڈھونڈ لیا گیا ( اس پر ۱۹۸۴ میں نوبل انعام دیا گیا)۔ اس کام کی وجہ سے عبدالسلام، گلیشو اور وائن برگ کو ۱۹۷۹ میں فزکس کے میدان میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔
سلام کو وقت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بہت زور سے احساس ہونے لگا تھا کہ مشرق اور مغرب کی ترقی میں فرق کی واضح وجہ دونوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فرق ہے۔ ایک طرف جہاں مغرب میں نت نئی دریافتیں ہو رہی تھیں وہیں مشرق میں لوگ دو وقت کی روٹی کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ سلام جتنا زیادہ اس مسئلے پر غور کرتا گیا اسے احساس ہوتا گیا کہ تعلیمی میدان میں اگر ہنگامی تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو حالت اور ابتر ہوں گے۔ اس سوچ کو ذہن میں لیے سلام نے تیسری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص تعلیمی انقلاب لانے کے اقدامات کئے۔
ہم تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ جب ایوب خان نے عبدالسلام کو پاکستانی تعلیمی کمیشن کے لیے مشیر مقرر کیا تو پاکستان کی تاریخ میں سائنسی تحقیق میں ترقی اسی دور میں ہوئی ہے۔ ان میں اگر چند کا ذکر کیا جائے تو یونیورسٹیوں میں سائنسی تحقیق کے فنڈ رکھنے پر حکومت کو آمادہ کرنا، اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی علیحدہ سے وزارت شروع کرنا ہے۔ اسی دور میں PINSTECH اور SUPARCO قائم ہوئیں۔ڈاکٹر عبدالسلام نے ہی کراچی میں موجود نیوکلیائی قوت گاہ کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ پاکستانی تنظیم برائے ترقیِ سائنس کے صدر، پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی تنظیم برائے جوہری توانائی کے گورنر اور قومی سائنس کونسل اور سائنس فاونڈیشن کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔پسِ پردہ وہ پاکستان کے جوہری پروگرام میں بھی کافی سرگرم تھے۔ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سارے کام سلام بہت زیادہ روکاوٹوں ،عداوتوں اور مخالفتوں کے ساتھ ساتھ سر انجام دیتا رہا۔ میں اس کی صرف ایک مثال دینا چاہوں گا اور وہ ہے ڈاکٹر عبدالسلام مرکز برائے نظری طبیعیات کی۔ یہ مرکز اٹلی میں موجود ہے اور دنیا میں نظری طبیعیات میں تحقیق کرنے والے صف اول کے اداروں میں شامل ہے۔ یہ ادارہ عبدالسلام نے قائم کیا۔ اس کے پیچھے تصور وہ تھا جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ تیسری دنیا کے طالب علموں کو مغرب کے برابر سائنسی اور تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں۔ عبدالسلام یہ مرکز پاکستان میں بنانا چاہتا تھا لیکن اس کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ سلام سائنسدانوں کے لیے تفریح و عیاشی کا اڈا کھولنا چاہتا ہے۔ مجبوراً سلام کو یہ ادارہ اٹلی میں بنانا پڑا۔ آج اس میں دنیا بھر کے طلبا اور پروفیسرز تحقیق کرنے آتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آج بھی اس ادارے میں پاکستانی طلبا اور اساتذہ پر خاص ارتکاز کیا جاتا ہے اور ہر سال ان کو وہاں بلایا جاتا ہے۔ ادارہ کی ویب سائٹ کے مطابق ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۲ تک پاکستان سے ۲۰۰۰ سے زیادہ سکالرز کو بلایا گیا ہے۔ عبدالسلام کا کہنا تھا کہ علم ساری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور اس نے اپنی ساری زندگی سب کو برابر کے علمی مواقع فراہم کرنے میں گزار دی۔ نتیجے کے طور پر اسے سب سے زیادہ دکھ اسی ملک سے ملا جو اس کا اپنا گھر تھا۔ ساری زندگی وہ اس بات کو روتا رہا کہ کاش اس کے گھر والے اس کو واپس بلائیں اسے اپنا سمجھیں لیکن وہ گھر آیا بھی تو کفن میں لپٹا ایک تابوت میں بند۔اور اس کے اوپر آفرین یہ کہ ہمیں اس کے مر جانے کے بعد بھی سکون نہ آیا اور ہم نے اس کی قبر کے کَتبے تک کو کھرچ ڈالا۔اب تنفر کا عالم یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل یہ ماننے سے بھی گریزاں ہے کہ اس نے سائنس میں کوئی خاص کام کیا یا پاکستان کے لیے کیا کام کیے۔ ہم نے نام نہاد محبِ وطن نقلی سائنسدانوں کو اتنی جگہ دی ہے کہ ہم نقل اور اصل کی پہچان ہی بھول چکے ہیں۔ ہم پاکستانی اس ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ذہن کو ہی اپنا ماننے سے انکاری ہیں۔
سویڈن کے شاہ کا محل سجا ہے۔ دنیا کے ذہین ترین لوگ وہاں اکٹھے ہیں۔ آج فزکس کا نوبل انعام دینے کی تقریب ہے۔ اس محل میں آنے کی ایک ہی شرط ہے۔ وہ یہ کہ سب ایک جیسا لباس زیبِ تن کریں گے۔ اور یہی اس محل کی روایت ہے۔ لیکن ایک شخص آج موج کے خلاف جانے کی ٹھان چکا ہے۔وہ آج دہائیوں پرانی روایت توڑنے والا ہے۔ وہ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ یہ مجوزہ لباس نہیں پہنے گا۔ چاہے اس کا کچھ بھی نتیجہ ہو۔ اس کی ساری زندگی ایک فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چل جاتی ہے۔ وہ خود کو شلوار قمیض میں ملبوس، کھُسہ پہنے سر پر پگڑی سجائے ایک بہت بڑے کمرے میں جاتا دیکھتا ہے جہاں پر بہت سارے لوگ اکٹھے ہیں ۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوتا ہے تو سب تالیاں بجاتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسے یاد آتا ہے کہ یہ اس کا بچپن ہے جب وہ سکول میں داخل ہوتا اور تالیاں بجانے والے لوگ اس کے ساتھی طالب علم اور اساتذہ ہیں ۔ وہ آج بھی ایک بہت بڑے کمرے میں داخل ہونے والا ہے جہاں بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہیں۔ لیکن یہ اور لوگ ہیں۔ یہ اور جگہ ہے۔ یہ دو مختلف دنیائیں ہیں۔ وہاں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں یہاں لوگ بہترین آسائشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔وہ اس کے سکول کا کمرہ ہے جہاں بجلی نہیں ہے۔ یہ محل ہے جو برقی قمقموں سے چمک رہا ہے۔ وہاں موجود لوگ دنیاوی گرد میں دب گئے۔ یہاں موجود لوگوں کو گرد چھو کر نہیں گزرتی۔ سوچ میں بیٹھا یہ شخص فیصلہ کر چکا ہے ۔ شاہ کی روایت بھلے فرض ہے لیکن اس سے بڑا مٹی کا قرض ہے۔ وہ آج مٹی کا قرض لوٹائے گا۔ آج وہ پھر سے کُھسہ اور پگڑی پہنے ہال میں آئے گا۔ وہ آج روایت توڑے گا۔ ۔۔۔۔۔ تقریب ختم ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ سب اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔پگڑی پہنے وہ شخص محل سے باہر آتا ہے ۔ سڑک سنسان پڑی ہے۔ اس کے گھر سے کوئی اس کو لینے نہیں آیا۔ شاید اس کے گھر والے اسے اپنا نہیں مانتے۔ وہ پگڑی آج بھی سٹاک ہوم کی سڑکوں پر آوارہ پھرتی ہے۔
Comments
Post a Comment