بچہ دانی سے باہر حمل ہوجانا (اکٹوپک حمل)
اکٹوپک
حمل (Ectopic
Pregnancy)حاملہ خواتین میں تیزی
سے بڑھتا ہوا ایک خطرناک مسئلہ جس کا کم ہی لوگوں کو پتا ہے۔ دونوں تصاویر میں نیچے
والی تصویر زرا دیکھیں۔ سفید لائن سے بائیں طرف یوٹرس میں ایمبریو کو لال لائن سے سرکل
کیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ لائن کھینچ کر نیچے لکھا گیا ہے Fertilized egg implanted یہ حمل کی بلکل ٹھیک جگہ ہے۔ یہ حمل یوٹرس کے اینڈومیٹرم سے جڑ چکا ہے۔ پلاسینٹا
بنے گا اور بچہ بڑا ہونا شروع ہوگا۔
نیلی
لائن سے اوپر والی تصویر میں دیکھیں۔ چار جگہوں پر حمل ٹھہرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بچہ دانی سے باہر حمل ہے۔ جس کی ریشو پاکستان سمیت دنیا بھر میں 1 سے 2 فیصد ہے۔
اور تیزی سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا حمل وقت پر پتہ نہ چلنے کی وجہ سے حاملہ
ماں کی جان لے سکتا ہے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں اس حمل سے اموات ہو رہی ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ حمل کی کہانی کیا ہے؟
یہ زائیگوٹ سٹیم سیل بھی کہلاتا ہے۔ چار سے پانچ دن میں یہ زائیگوٹ اس نالی میں حرکت کرنے والے گھاس نما نرم ریشو پر پھسلتا ہوا یوٹرس کی طرف آتا ہے۔ ایک نارمل حمل میں پانچ دن کے اندر یہ زائیگوٹ فیلوپین نالی سے بچہ دانی میں آجاتا ہے۔ اور ایمبیریو کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر آگے بچہ بننا شروع ہوتا ہے۔
خرابی تب ہوتی ہے۔ جب طاقتور سپرم بیضے کے اخراج سے پہلے ہی اووری کے منہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ جیسے ہی انڈہ اووری سے خارج ہوا۔ سپرم کے ساتھ فوراً ملاپ ہوگیا۔ سیلیا میں کوئی خرابی تھی۔ زائیگوٹ یوٹرس کی طرف جانے کی بجائے پیٹ میں گر گیا۔ یا اووری کے منہ پر یا اووری کے اندر واپس چلا گیا۔ اور وہیں حمل بڑھنے لگا۔ یا فیلوپین ٹیوب کے اندر ہی ایمبریو بن گیا۔ یا یوٹرس میں جا کر زائیگوٹ نیچے Cervix میں چلا گیا۔
- غیر ارادی حمل کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر کھائی جانے والی متواتر
مانع حمل گولیاں ۔
- حاملہ ماں کو حمل کے وقت ٹی بی ہونا۔ شادی سے پہلے علامات ہونے
کی صورت میں ٹی بی کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ اکٹوپک حمل کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ماں ٹی بی کی مریضہ
ہوتی ہے۔
- ٹیوب کا قدرتی طور پر زیادہ لمبا ہونا کہ زائیگوٹ پانچ دن کے
سفر کے بعد بھی یوٹرس میں نہ پہنچ سکے ۔
- ٹیوب کے اندر موجود سیلیا کا خراب ہونا ان میں حرکت نہ ہونا۔
- خواتین کا سموکنگ کرنا۔
- ایک اکٹوپک حمل کے دوسرے ایسے ہی حمل کے چانسز 25 فیصدبڑھ جاتے
ہیں۔
- کسی پہلے سے کئی گئی سرجری سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
- حمل سے ایک سال پہلے لڑکی سموکنگ بلکل ترک کر دے۔
- ہر ماہ 72 گھنٹے کے اندر مانع حمل گولی نہ کھائیں۔
- کسی بھی انفیکشن کا پتا ہونے پر حمل کی طرف نہ جایا جائے۔
- ٹی بی کی شناخت ہونے پر اس کا علاج کروائیں۔ اس کے ایک سال بعد
حمل کی طرف آئیں۔
- لڑکیاں ریگولر ایکسرسائز کریں کہ انکے ہارمونز ایسٹروجن اور
پروجییسٹرون میں بیلنس رہے۔
- موٹی اور سادہ سی بات سمجھ لیں اپنے قد کو انچوں میں دیکھیں۔ یعنی پانچ فٹ کی لڑکی 60 انچ کی ہوگی۔ اپنا وزن ان انچوں کی تعداد کے مطابق کلوگرام میں رکھیں۔ نہ اس سے بہت کم ناں بہت زیادہ۔
اسکا
علاج کیا ہے؟
ڈاکٹر سے حمل کی لوکیشن پوچھیں۔ اس سے پوچھیں حمل اکٹوپک تو نہیں ہے؟ اسے زور دیں کہ اچھے سے چیک کرو لوکیشن کیا ہے۔ خود بھی کمپیوٹر سکرین پر دیکھ لیں۔ کسی اچھے ہسپتال سے الٹرا ساؤنڈ کی ریکارڈنگ بھی سی ڈی میں مل جاتی ہے۔ گھر آکر خود دیکھیں۔
اگر خدا نخواستہ حمل بچہ دانی سے باہر ہے۔ پہلے ایک دو ہفتوں میں تشخیص ہوجاتی ہے۔ 1 سے چار انجیکشن لگتے ہیں وہ حمل ختم ہو جاتا ہے۔
اگر کچھ دن زیادہ گزر جائیں تو لیپرو سکوپی کی جاتی ہے۔ اگر اور دن گزر چکے ہوں تو آپریشن کرکے اس سائیڈ کی اووری اور ٹیوب نکالنی پڑتی ہے۔ کبھی ٹیوب نکل جاتی اور اووری بچ بھی جاتی ہے۔ مگر اکثریت میں اووری بھی نکل جاتی۔ اب ایک ہی اووری اور ایک ٹیوب بچی ہے۔ جس سے بچہ پیدا ہوگا۔
پیٹ میں زائگوٹ گر گیا تھا۔ اسکا بھی آپریشن ہوتا ہے۔ سرویکس سے بھی حمل کا دورانیہ دیکھ کر حمل ختم کر دیا جاتا ہے۔
اگر اکٹوپک حمل ابتدائی دنوں میں تشخیص نہیں ہوتا۔ تو یہ لڑکی کی جان تک لے سکتا ہے۔ اووری یا ٹیوب پھٹنے کی وجہ سے اتنا خون اندر بہہ جاتا کہ مریض کو بچانا کسی صورت ممکن ہی نہیں ہوتا۔ لہذا لڑکیاں ،اور جہاں لڑکیاں اتنا علم نہیں رکھتیں انکے خاوند اپنی بیوی کے مینسٹرل سائیکل کا ریکارڈ رکھیں۔ سائیکل سے اوپر ایام گزر جانے کی صورت میں فورن ٹیسٹ سے حمل کنفرم ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں فورا ڈاکٹر کے پاس جائیں۔
اکٹوپک حمل ختم کرایا ہو تو پورے 14 دن کا اینٹی بائیوٹک کورس مکمل کریں۔ ورنہ اگلا حمل بھی ایسا ہی ہوگا۔ اکٹوپک حمل ایک جان لیوا پریگنینسی ہے۔ احتیاط اور بروقت علاج سے ماں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
پرانے زمانے گئے جب ہماری مائیں اور دادیاں نانیاں پانچ سے دس بچے بغیر کسی الٹرا ساؤنڈ کسی دوائی کے پیدا کر لیتی تھیں۔ وہ اب اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کو بھی ڈاکٹر کے پاس جانے سے منع کریں تو انہیں کہیں اب وہ دور نہیں ہے۔ ساس منع بھی کرے تو بہو خود پہلا چیک اپ کروانے چلی جائے۔ اکٹوپک حمل سے جان بہو کی جانی ہے ساس کو کچھ نہیں ہونا۔ بے شمار گھروں میں ساس اپنی بہو کو ابتدائی دنوں میں ڈاکٹر کے پاس جانے سے منع کرتی ہےکہ ہمارے بار تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اور بہو بھی چپ کرکے بیٹھ جاتی ہے۔
خدارا ایسا نہ کریں۔ خاوند اپنی امی کو سمجھائیں۔ اگر نہیں سمجھتیں تو انہیں بائی پاس کرکے فوراً اپنی بیوی کا گائنی ڈاکٹر سے الٹراساؤنڈ چیک اپ کروائیں۔ خاوند ملک یا شہر سے باہر ہے تو لڑکی ساس کو سمجھائے نہ سمجھے تو بائی پاس کرے اسے۔ جو ہو گا دیکھ لیں گے بعد میں۔

Comments
Post a Comment