دھنک یا قوسِ قزح
تحریر: فصی ملک
دھنک بننے کا عمومی عمل مندرجہ ذیل ہے۔
بارش کے بعد پانی کے قطرے ہوا میں معلق رہ جاتے ہیں۔ پانی کے ان قطروں سے جب سورج کی روشنی گزرتی ہے تو وہ انعطاف(Refraction) اور انعکاس(Reflection) کے عمل سے گزر تی ہے تو اپنے رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جسے ہم دھنک کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
آئیں اب اس کی تفصیل میں جائیں۔
سورج کی روشنی جسے ہم مرئی روشنی یا white light or visible light بھی کہتے ہیں یہ دراصل سات بنیادی رنگوں کا مجموعہ ہے۔جن میں لال، زرد یا اورنج، پیلا،سبز، نیلا،اِنڈیگو اور بنفشی رنگ شامل ہیں۔فزکس کی زبان میں ہم ہر رنگ کو اس کی طولِ موج(یا تعدد ،فریکوئنسی) سے ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی ہر رنگ کی روشنی کی ایک خاص خوبی ہوتی ہے جسے اس کی طولِ موج یا wave length کہتے ہیں۔ سفید روشنی ان سات رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ باالفاظِ دِیگر یہ سات رنگ جب اکٹھے ہوتے ہیں تو سفید رنگ بنتا ہے۔یعنی جب سورج کی روشنی ہماری آنکھ میں پڑتی ہے تو سارے رنگ مل کر ہمیں جو رنگ دکھائی دیتے ہیں وہ سفید ہے۔لیکن ہم ان رنگوں کو علیحدہ علیحدہ بھی کر سکتے ہیں۔
ہم ہر میٹیریل کے ساتھ ایک اور خوبی کو منسلک کرتے ہیں جسے اس میٹیریل کا اشاریہ انعطاف ( )refractive index کہا جاتا ہے۔ہوا کا ریفریکٹو انڈیکس ایک ہے۔ اس کے علاوہ ہر میٹیریل کا ریفریکٹو انڈیکس اس سے مختلف ہے۔ روشنی جب بھی کسی ایسے میٹیریل پر پڑتی ہے جس کا ریفریکٹو انڈیکس ایک سے زیادہ ہو تو وہ مذکورہ بالا بیان کردہ سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہر رنگ کی ایک مخصوص طولِ موج ہے اور جب یہ رنگ کسی ایسے میٹیرئل میں داخل ہوتا ہے جس کا ریفریکٹو انڈیکس ایک سے زیادہ ہوتو اس کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے۔ اس رفتار میں تبدیلی کی وجہ سے روشنی وہ راستہ اختیار کرتی ہے جس پر چل کر وہ جلد سے جلد اس میٹیریل سے باہر نکل سکے۔ اس لیے ہر رنگ ایک مختلف راستے پر چلتا ہے۔روشنی کا ان رنگوں میں بٹ جانے کے عمل کو انتشار (dispersion ) جب کہ روشنی یا ان رنگوں کا اپنے راستے سے مڑ جانے کے عمل کو انعطاف (refraction)کہتے ہیں۔
اب اس کے بعد ایک اور عمل بیان کرنا رہ گیا ہے۔ جس کو انعطاف کہتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس میں روشنی کسی جسم سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جب خود کو سنوارتے ہیں تو آپ اپنا چہرہ اسی عمل کی بدولت دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یعنی روشنی آپ کے چہرے سے نکل کر آئینے پر پڑتی ہے اور آئینے سے منعکس ہو کر آپ کی آنکھ میں پڑتی ہے۔ ایک اور چیز جو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ اس عمل میں آپ کی شکل الٹ جاتی ہے۔ یعنی جس طرف آپ کا دایاں کان ہے آئینے میں وہ بائیں جانب نظر آتا ہے۔
اب ہم دھنک کو سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔
ہوا میں معلق پانی کے قطرے گول ہوتے ہیں۔ روشنی جب پانی کے قطرے سے ٹکراتی ہے تو اس کے اندر داخل ہوتی ہے۔ پانی کا ریفریکٹو انڈیکس ہوا سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اوپر بیان کردہ عمل کے تحت یہ اپنے رنگوں میں تقسیم ہو کر پانی کے قطرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اب یہ رنگ جب پانی کے قطرے کی اندرونی سطح سے ٹکراتے ہیں تو وہاں سے منعکس ہو کر ہماری طرف آتے ہیں اور ہماری آنکھ پر پڑتے ہیں جس سے ہمیں دھنک نطر آتی ہے۔ چونکہ انعکاس کے عمل میں ترتیب بدل جاتی ہے جیسا کہ میں نے اوپر کان کی مثال دی تو اس لیے ہمیں سرخ رنگ اوپر جب کہ نیلا دھنک میں نیچے دکھائی دیتا ہے۔
اب کچھ باتیں دھنک کے عمومی علم پر:
دھنک ضروری نہیں کہ بارش کی وجہ سے ہی بنے۔ اس کو آپ خود اپنے باغیچے میں بھی بنا سکتے ہیں۔ دھنک ہمیشہ ہی ہماری آنکھ کے ساتھ بیالیس درجے کے زاویے پر بنتی ہے اور یہ ہمیشہ ہی روشنی(سورج) کی مخالف سمت میں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ہمیشہ بیالیس کے زاویے پر ہی رہتی ہے اس لیے یہ ہمیں گول دکھائی دیتی ہے کیوں کہ اگر ہم دھنک کے مرکز سے اپنی آنکھ تک ایک لکیر کھینچیں اور پھر اس لکیر کی ایک طرف اپنی آنکھ پر فکس کر کے اس لکیر کو بیالیس کے زاویے پر گھمانہ چاہیں تو ہمارے پاس ایک دائرہ بنے گا۔ دھنک اسی دائرے کا ایک حصہ ہوتی ہے جسے آپ قوس کہتے ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دھنک دائرے کا حصہ ہوتی ہے تو کیا دھنک پورے دائرے میں بھی بنتی ہے۔ اس کا جواب ہاں ہے۔ لیکن پھر یہ ہمیں ہمیشہ قوس کی شکل میں ہی کیوں نطر آتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں دھنک کیسے دکھے گی اس کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم دھنک کو کس جگہ پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ ہر بندے کے لیے دھنک کا مرکز اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ وہ بندہ کس جگہ موجود ہے اس لیے ہر بندہ دھنک کو مختلف جگہ پر دیکھے گا اور چونکہ ہر بندے کا افق اس کے سامنے موجود ہوتا ہے اس لیے وہ مکمل دائرے کی صورت کی دھنک نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ دھنک کا باقی حصہ افق سے نیچے چلا جاتا ہے۔اگر آپ ہوائی جہاز سے دھنک کو دیکھیں تو ممکن ہے آپ ایک دائرہ دیکھ سکیں۔(تصویر دیکھیں)
بعض اوقات آپ ایک کی بجائے دو دھنک دیکھتے ہیں ۔ اس دوسری دھنک کو ثانوی دھنک یا secondry rainbow کہتے ہیں۔ اس کہ وجہ روشنی کا پانی کے قطرے کی اندرونی سطح سے دو بار ٹکرا جانا ہے۔ چونکہ ایک بار ٹکرانے سے انعطاف کے عمل میں رنگوں ترتیب بدل جاتی۔ تو دو بار ٹکرانے سے رنگوں کی ترتیب دو بار بدلے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ واپس اپنی اصل ترتیب میں آجائیں گے۔اس لیے ثانوی دھنک میں رنگوں کی ترتیب پرائمری دھنک سے الٹ ہوتی ہے۔ یعنی اس میں نیلا رنگ دھنک کے باہر جب کہ سرخ رنگ دھنک کے اندرونی حصے کی طرف ہوتا ہے۔
بارش کے بعد پانی کے قطرے ہوا میں معلق رہ جاتے ہیں۔ پانی کے ان قطروں سے جب سورج کی روشنی گزرتی ہے تو وہ انعطاف(Refraction) اور انعکاس(Reflection) کے عمل سے گزر تی ہے تو اپنے رنگوں میں تقسیم ہو جاتی ہے جسے ہم دھنک کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
آئیں اب اس کی تفصیل میں جائیں۔
سورج کی روشنی جسے ہم مرئی روشنی یا white light or visible light بھی کہتے ہیں یہ دراصل سات بنیادی رنگوں کا مجموعہ ہے۔جن میں لال، زرد یا اورنج، پیلا،سبز، نیلا،اِنڈیگو اور بنفشی رنگ شامل ہیں۔فزکس کی زبان میں ہم ہر رنگ کو اس کی طولِ موج(یا تعدد ،فریکوئنسی) سے ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی ہر رنگ کی روشنی کی ایک خاص خوبی ہوتی ہے جسے اس کی طولِ موج یا wave length کہتے ہیں۔ سفید روشنی ان سات رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ باالفاظِ دِیگر یہ سات رنگ جب اکٹھے ہوتے ہیں تو سفید رنگ بنتا ہے۔یعنی جب سورج کی روشنی ہماری آنکھ میں پڑتی ہے تو سارے رنگ مل کر ہمیں جو رنگ دکھائی دیتے ہیں وہ سفید ہے۔لیکن ہم ان رنگوں کو علیحدہ علیحدہ بھی کر سکتے ہیں۔
ہم ہر میٹیریل کے ساتھ ایک اور خوبی کو منسلک کرتے ہیں جسے اس میٹیریل کا اشاریہ انعطاف ( )refractive index کہا جاتا ہے۔ہوا کا ریفریکٹو انڈیکس ایک ہے۔ اس کے علاوہ ہر میٹیریل کا ریفریکٹو انڈیکس اس سے مختلف ہے۔ روشنی جب بھی کسی ایسے میٹیریل پر پڑتی ہے جس کا ریفریکٹو انڈیکس ایک سے زیادہ ہو تو وہ مذکورہ بالا بیان کردہ سات رنگوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ ہر رنگ کی ایک مخصوص طولِ موج ہے اور جب یہ رنگ کسی ایسے میٹیرئل میں داخل ہوتا ہے جس کا ریفریکٹو انڈیکس ایک سے زیادہ ہوتو اس کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے۔ اس رفتار میں تبدیلی کی وجہ سے روشنی وہ راستہ اختیار کرتی ہے جس پر چل کر وہ جلد سے جلد اس میٹیریل سے باہر نکل سکے۔ اس لیے ہر رنگ ایک مختلف راستے پر چلتا ہے۔روشنی کا ان رنگوں میں بٹ جانے کے عمل کو انتشار (dispersion ) جب کہ روشنی یا ان رنگوں کا اپنے راستے سے مڑ جانے کے عمل کو انعطاف (refraction)کہتے ہیں۔
اب اس کے بعد ایک اور عمل بیان کرنا رہ گیا ہے۔ جس کو انعطاف کہتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس میں روشنی کسی جسم سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جب خود کو سنوارتے ہیں تو آپ اپنا چہرہ اسی عمل کی بدولت دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یعنی روشنی آپ کے چہرے سے نکل کر آئینے پر پڑتی ہے اور آئینے سے منعکس ہو کر آپ کی آنکھ میں پڑتی ہے۔ ایک اور چیز جو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ اس عمل میں آپ کی شکل الٹ جاتی ہے۔ یعنی جس طرف آپ کا دایاں کان ہے آئینے میں وہ بائیں جانب نظر آتا ہے۔
اب ہم دھنک کو سمجھنے کے لیے تیار ہیں۔
ہوا میں معلق پانی کے قطرے گول ہوتے ہیں۔ روشنی جب پانی کے قطرے سے ٹکراتی ہے تو اس کے اندر داخل ہوتی ہے۔ پانی کا ریفریکٹو انڈیکس ہوا سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اوپر بیان کردہ عمل کے تحت یہ اپنے رنگوں میں تقسیم ہو کر پانی کے قطرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اب یہ رنگ جب پانی کے قطرے کی اندرونی سطح سے ٹکراتے ہیں تو وہاں سے منعکس ہو کر ہماری طرف آتے ہیں اور ہماری آنکھ پر پڑتے ہیں جس سے ہمیں دھنک نطر آتی ہے۔ چونکہ انعکاس کے عمل میں ترتیب بدل جاتی ہے جیسا کہ میں نے اوپر کان کی مثال دی تو اس لیے ہمیں سرخ رنگ اوپر جب کہ نیلا دھنک میں نیچے دکھائی دیتا ہے۔
اب کچھ باتیں دھنک کے عمومی علم پر:
دھنک ضروری نہیں کہ بارش کی وجہ سے ہی بنے۔ اس کو آپ خود اپنے باغیچے میں بھی بنا سکتے ہیں۔ دھنک ہمیشہ ہی ہماری آنکھ کے ساتھ بیالیس درجے کے زاویے پر بنتی ہے اور یہ ہمیشہ ہی روشنی(سورج) کی مخالف سمت میں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ہمیشہ بیالیس کے زاویے پر ہی رہتی ہے اس لیے یہ ہمیں گول دکھائی دیتی ہے کیوں کہ اگر ہم دھنک کے مرکز سے اپنی آنکھ تک ایک لکیر کھینچیں اور پھر اس لکیر کی ایک طرف اپنی آنکھ پر فکس کر کے اس لکیر کو بیالیس کے زاویے پر گھمانہ چاہیں تو ہمارے پاس ایک دائرہ بنے گا۔ دھنک اسی دائرے کا ایک حصہ ہوتی ہے جسے آپ قوس کہتے ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دھنک دائرے کا حصہ ہوتی ہے تو کیا دھنک پورے دائرے میں بھی بنتی ہے۔ اس کا جواب ہاں ہے۔ لیکن پھر یہ ہمیں ہمیشہ قوس کی شکل میں ہی کیوں نطر آتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں دھنک کیسے دکھے گی اس کا فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم دھنک کو کس جگہ پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ ہر بندے کے لیے دھنک کا مرکز اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ وہ بندہ کس جگہ موجود ہے اس لیے ہر بندہ دھنک کو مختلف جگہ پر دیکھے گا اور چونکہ ہر بندے کا افق اس کے سامنے موجود ہوتا ہے اس لیے وہ مکمل دائرے کی صورت کی دھنک نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ دھنک کا باقی حصہ افق سے نیچے چلا جاتا ہے۔اگر آپ ہوائی جہاز سے دھنک کو دیکھیں تو ممکن ہے آپ ایک دائرہ دیکھ سکیں۔(تصویر دیکھیں)
بعض اوقات آپ ایک کی بجائے دو دھنک دیکھتے ہیں ۔ اس دوسری دھنک کو ثانوی دھنک یا secondry rainbow کہتے ہیں۔ اس کہ وجہ روشنی کا پانی کے قطرے کی اندرونی سطح سے دو بار ٹکرا جانا ہے۔ چونکہ ایک بار ٹکرانے سے انعطاف کے عمل میں رنگوں ترتیب بدل جاتی۔ تو دو بار ٹکرانے سے رنگوں کی ترتیب دو بار بدلے گی۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ واپس اپنی اصل ترتیب میں آجائیں گے۔اس لیے ثانوی دھنک میں رنگوں کی ترتیب پرائمری دھنک سے الٹ ہوتی ہے۔ یعنی اس میں نیلا رنگ دھنک کے باہر جب کہ سرخ رنگ دھنک کے اندرونی حصے کی طرف ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment