طبعیات میں ناممکنات
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
ویسے
تو سائنس خصوصا طبعیات میں بہت ترقی ہوچکی ہے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں، جو گزشتہ صدیوں
میں ناممکنات مانی جاتی تھیں، اب طبعیات کے اصول اور قوانین کے تحت وہ عام ہوکر
ہماری زندگی میں ممکن ہوگئی ہیں اور ایک نارمل حیثیت اختیار کرگئی ہیں۔ بہت ساری
مثالیں یہاں دی جاسکتی ہیں، جیسے ہوا میں انسان کا اڑنا یا پھر دور دراز علاقوں سے
فوری تصویری رابطہ کرنا جیسا۔ لیکن اس انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی فزکس میں
چند مسائل ایسے ہیں جو فی الحال ناممکنات تصور کیے جاسکتے ہیں اور سائنسدانوں کی
سرتوڑ کوشش کے باوجود ان کو ممکن نہیں بنایا جاچکا۔
یہ
الفاظ "جیسے فلانی چیز طبعیات میں ناممکن ہے" اکثر اس وقت بھی بولے جاتے
ہیں جب لوگ بعض چیزوں کو سائنسی طور پر مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔ ایلینز، خلائی
جہازوں میں زمین تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ اس طرح کہتے ہیں کہ کیونکہ ستاروں کے
درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ ٹیلی پیتھی ناممکن ہے کیونکہ دماغ پیغامات خارج یا
وصول نہیں کرتا۔ اور کسی شے کو A سے B تک فوری طور پر منتقل کرنا یا ٹیلی پورٹیشن، ناممکن ہے کیونکہ آپ اس
کے تمام ایٹموں کے مقام اور رفتار کو نہیں جان سکتے - ٹیلی پورٹیشن ہائزن برگ کے
غیر یقینی اصول کی خلاف ورزی کرے گی۔
پھر
بھی اگر آپ ان مثالوں کا بغور تجزیہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ آج یا
مستقبل قریب میں محض ناممکن ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسی ٹیکنالوجیز کے
ساتھ ناممکن ہیں جو دہائیوں ، صدیوں یا ہزاروں سالوں سے بھی دور ہیں۔ شاید یہ
"ناممکنات" محض انجینئرنگ کے بہت مشکل مسائل ہیں۔
ایک
عظیم سائنس فکشن مصنف، آنجہانی آرتھر سی کلارک نے ایک بار کہا تھا ، "کوئی
بھی جدید ٹیکنالوجی جادو سے الگ نہیں محسوس ہوسکتی۔" یعنی اگر اج کی
ٹیکنالوجی کو ایک دو ہزار سال پرانا بندہ زندہ ہوکر دیکھے تو اسکو یہ ایک جادو ہی
لگے گی۔ تو ایک بہتر سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ ناممکنات چیزیں طبیعیات کے معلوم
قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں؟
لیکن
تاریخ نے دکھایا ہے کہ کسی چیز کومکمل طور پر ناممکن قرار دینا ہمیشہ خطرناک ہوتا
ہے۔ مشہور وکٹورین طبیعیات دان لارڈ کیلون نہ صرف تھرموڈینامکس پر ان کے اہم کام
کے لیے جانا جاتا تھا بلکہ کئی غلط پیش گوئیاں کرنے کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔
انہوں نے صاف طور پر کہا کہ "ہوا سے بھاری" کرافٹ ناممکن تھا، جسکو ہم
آج جانتے ہیں کہ کیلون کا مقولہ بعد میں غلط ثابت ہوا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ ایکس
رے ایک دھوکہ ہے ، اور اس ریڈیو کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اچھی پیمائش کے لیے ، اس
نے اعلان کیا کہ زمین چند ملین سال سے زیادہ پرانی نہیں ہو سکتی۔اب نئی معلومات کے
مطابق لارڈ کیلون کے ان اعلانات کے بارے ہم اچھے سے جانتے ہیں کہ وہ غلط تھے۔ پھر
بھی لارڈ کیلون کی طبعیات میں اہمیت بھی اپنی جگہ ہے اور انکی بہت سی سائنسی
دریافتیں، جدید فزکس کے حساب بھی بالکل درست ہیں۔
ویسے
تو طبعیات یعنی فزکس میں ایک بہت لمبی لسٹ موجود ہے جو ابھی تک کے علم کے حساب سے
ناممکنات یا ناحل شدہ مانے جاتے ہیں، جیسے گرم سپر کنڈکٹر کا حصول، نیوکلیر فیوزن
(ایتلاف) کا زمین پر آغاز، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا ثبوت اور میٹر، اینٹی میٹر
کے مسائل وغیرہ۔ لیکن ان " چار نا ممکنات "چیزوں کو مجھے یہاں تھوڑی
تفضیل سے ڈسکس کرنا ہے جس کی تصویر بھی آپ پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں، یعنی
1روشنی کی رفتار
کا حصول Obtaining speed of light
2 حتمی صفر Absolute Zero
3دائمی حرکت کرتی
مشین perpetual motion machine
4 وقت میں سفر Time Travel
روشنی
کی رفتار کا حصول:
روشنی
کی رفتار 10⁸ ×m/s c = 3 ناپی جاتی ہے اور ہر کوئی شخص جو یہ قیمت ناپ رہا ہے، اسکے پاس یہ
قیمت معلوم ہوتی ہے۔ یعنی روشنی کی رفتار ایک کائناتی مستقل universal constant ہوتی ہے۔ اب
نظریہ اضافیت کی رو سے جس کسی جسم کی کمیت ہوگی، وہ کبھی بھی روشنی کی رفتار کو
حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی جسم روشنی کی رفتار کو حاصل بھی کرلے، تو اسکا جسم
لامتناہی/لامحدود ہوجائے گا، اور اسکے نتیجے میں جو توانائی اس جسم کو چلانے کے
لیے چاہئے ہوگی وہ بھی لامتناہی/لامحدود ہوجائے گی۔
صرف
فوٹان اور بغیر کمیتی ذرات ،جو روشنی کی تشکیل کرتے ہیں، روشنی کی رفتار سے سفر
کرسکتے ہیں۔۔ کسی بھی مادی شے کو روشنی کی رفتار تک تیز کرنا ناممکن ہے کیونکہ اس
کے لیے لامحدود توانائی درکار ہوگی۔ ہم روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے حرکت نہیں
کر سکتے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایک بار جب ہم مکمل طور پر خلا سے گزر رہے ہیں تو
اس سے زیادہ رفتار حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یعنی روشنی کی رفتار ہی کسی بھی
آبجیکٹ کی رفتار کی فائنل حد ہوتی ہے اور کوئی بھی جسم اس سے تیز حرکت کبھی نہیں
کرسکتا۔ ہماری اب تک فزکس کے حساب سے یہ ایک ناممکن بات ہے۔
حتمی صفر:
سب
سے کم سے کم وہ درجہ حرارت کی وہ مقدار جو نظریاتی طور پر ممکن ہے ، جس پر حرارت
کی تشکیل کرنے والے ذرات کی حرکت کم سے کم ہوگی، اسکو ہم حتمی صفر absolute zero کہتے ہیں۔ یہ
درجہ حرارت کے کیلون اسکیل کا صفر بھی کہلاتا ہے،جسکی قیمت −273.15 ⁰C ہوتی ہے۔ یعنی
0 K=
- 273.15 ⁰C = −459.67 ⁰F
ہوتی
ہے۔ یہ تھرمامیٹر کے اس جگہ کو نشان زد کرہا ہوتا ہے کہ جہاں سسٹم اپنی سب سے کم
ترین توانائی، یا حرارتی حرکت کو ظاہر کررہا ہوتا ہے۔لیکن اب یہاں ایک مسئلہ آجاتا
ہے، وہ یہ کہ اس درجہ حرارت کو ابھی تک سائنسدان لیبارٹری میں سرتوڑ کوشش کے
باوجود حاصل نہیں کرسکے۔ صفر درجہ کیلون پر، ایک مادے کے تمام ذرات، ایٹم،
مالیکیول سب کی حرکت یکدم رک جاتی ہے، تمام بے ترتیبی غائب ہوجاتی ہے، لہذا
نظریاتی طور پر کوئی بھی چیز ، صفر درجے کیلون سے زیادہ ٹھنڈی نہیں ہوسکتی۔ ساتھ
ہی میں اسطرح کسی بھی جسم کا حجم صفر یا منفی آجائے گا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کسی
بھی مادے کا حجم کبھی بھی صفر نہیں ہوسکتا، کیونکہ تمام کا تمام مادہ ایٹموں،
مالیکیولوں سے مل کر بناہے، جنکا اپنا ایک مخصوص حجم ہوتا ہے۔ اس لیے نہ تو کسی بھی
مادے کے اندر ایٹم کممل طور پر رک سکتے ہیں اور نہ ہی انکا حجم صفر یا منفی
ہوسکتاہے۔ یوں یہ درجہ حرارت ابھی بھی زمین پر رہتے ہوئے حاصل نہیں کیا جاسکتا،
لیکن بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کہیں بہت دور خلاء میں یہ درجہ حرارت کسی جگہ
موجود ہے۔
دائمی
حرکت کردہ مشین:
دائمی
حرکت کردہ مشین ایک ایسی مشین یا حرکت کرتے جسم کو کہتے ہیں جس میں ہمیشہ حرکت
پائی جائے یا وہ ہمیشہ حرکت کرتی رہے۔ان کی حرکت ایک غیر متزلزل نظام میں ہمیشہ کے
لیے جاری رہتی ہے۔لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ایسا طبعیات کے قوانین ، خصوصا حرحرکیات Thermodynamicsکے پہلے قانون
کے تحت ہونہیں سکتا۔
تھرموڈینامکس
کا پہلا قانون توانائی کے تحفظ کا قانون ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ توانائی ہمیشہ
محفوظ اور مستقل رہتی ہے۔ کسی مشین کو چلتے رہنے کے لیے ، لگائی گئی توانائی کو
بغیر کسی نقصان کے مشین کے ساتھ رہنا چاہیے۔ لیکن دنیا میں ابھی تک کوئی مشین،
کوئی آرگنازم ایسا نہیں، جس ہمیشہ توانائی کی مقدار موجود رہے۔ حرکت کرتے ہوئے ہر
مشین کی توانائی ، دوسری شکلوں میں آن کر ضائع ہوتی رہتی ہے۔مشین کے ساتھ نہیں رہ
پاتی۔ صرف اس حقیقت کی وجہ سے ، مستقل حرکت کرنے والی مشینیں بنانا ناممکن ہے۔
جیسے
ہی انسانوں نے مشینیں بنائی ، انہوں نے "مستقل حرکت کرنے والی مشینیں"
بنانے کی کوشش کی جو اپنے طور پر کام شروع کرتی ہیں اور جو ہمیشہ کے لیے کام کرتی
ہیں۔ تاہم ، آلات ان کے موجدوں کی امید کے مطابق کبھی نہیں ایسا کرسکتےتھے اور نہ
ہی ایسا وہ کبھی کام کریں گے۔اسطرح ایک دائمی حرکت کرتی مشین، طبعیات میں ایک ایسا
خواب ہے، جس کی شرمندہ تعبیر ناممکن مانی جاتی ہے۔
وقت
میں سفر:
ٹائم
ٹریول، دراصل کسی بھی وقت درمیان عرصے اور دو نقاط کے درمیان سفر کرنے کا نام ہے۔
یعنی ایک ایسی صلاحیت حاصل ہوجائے جو ماضی یا مستقبل کے کسی بھی وقت میں انسان کو
لے جائے اور انسان اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔
اگر
نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو وقت میں یہ سفر ممکن نظر آتا ہے ، جس میں اسپیس ٹائم
کے چند اضافیت کے اصولوں اور روشنی کی رفتارسے تیز سفر کرکے وقت میں سفر ممکن
ہوسکتا ہے، جیسے کائناتی اسٹرنگ تھیوری، سفر کرنے کے لائق ورم ہول اور الکیوبری
ڈرائیو وغیرہ کے تصوراتی نظریات جو انسانوں کو بڑے مسحور کن لگتے ہیں، لیکن ہماری
فزکس کی حدود سے یہ فی الحال باہر ہیں۔
وقت
میں سفر کرنا شاید کسی پرندے کی پرواز کی طرح مسحور کن اور رومانٹک لگتا ہے ،لیکن
ہماری طبعیات کے قوانین کی حدود ہیں، انکے تحت یہ ممکن نہیں۔ پر کچھ طبیعیات دان
سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی ممکن ہے۔ پریزنٹی ازم Presentism (فلسفہ حال) فلسفہ کا ایک
مکتب ہے جو یہ مانتا ہے کہ مستقبل اور ماضی کا وجود صرف تبدیلیوں کے طور پر ہوتا
ہے جو کہ حال میں واقع ہو گی یا ہو گی ، اور ان کا اپنا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔
اس نقطہ نظر میں ، وقت کا سفر ناممکن ہے کیونکہ سفر کرنے کے لیے کوئی مستقبل یا
ماضی نہیں ہے۔اس لیے موجودہ فزکس کی ترقیوں کے باوجود شائد یہ ایک ہمیشہ کے لیے
ناحل شدہ بات ہی رہے۔

Comments
Post a Comment