تھری ڈی پرنٹنگ سے جگر بنانے کی ٹیکنالوجی

 

تھری ڈی پرنٹنگ سے جگر بنانے کی ٹیکنالوجی

تحریر: قدیر قریشی 

سائنسدانوں نے ایک نیا بائیو پرنٹر ڈیزائن کیا ہے جو 30 منٹ سے کم وقت میں انسانی فعال جگر بنا سکتا ہے۔

ٹیکساس میں بائیو انجینئرنگ کی ایک لیبارٹری میں سائنس دانوں نے ایک تھری ڈی بائیو پرنٹر بنانے کا اعلان کیا ہے جو آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایک مکمل طور پر فعال انسانی جگر کو پرنٹ کر سکتا ہے جو اصلی جگر کی طرح جسم سے ٹاکسنز کو خارج کرنے اور پروٹین بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹریسٹل بایولوجکس اور یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن کی شراکت سے تیار کردہ یہ  مشین مریض کے جسم سے حاصل کردہ اسٹیم سیلز اور endothelial cells سے بنا ہوا سیال مادہ استعمال کرتی ہے جسے بایو انک (Bio-ink) یعنی زندہ روشنائی کہا جاتا ہے۔ اس بایو انک سے یہ مشین پورا جگر تشکیل دیتی ہے جس میں خون کی باریک رگیں یعنی کیپلریز، بائل پیدا کرنے اور اسے گال بلیڈر یعنی پتے تک پہنچانے کے لیے نالیاں شامل ہیں۔  

اسی ٹیم نے اس سے چند سال پہلے جگر بنانے کا ایک تھری ڈی پرنٹر ایجاد کیا تھا جس میں سادہ آرگنائڈز کو پرنٹ کرنے میں کئی گھنٹے سے کئی دن لگ جاتے تھے۔ لیکن یہ نیا پرنٹر صرف تیس منٹ میں انسانی جگر کے سائز کا پیچیدہ جگر بنا سکتا ہے۔

اس نئے تھری ڈی پرنٹر کی جگر پرنٹ کرنے کی اس قدر تیز رفتار کے پیچھے ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جسے والیومیٹرک لائٹ پر مبنی پرنٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے۔ جگر کا ابتدائی ڈھانچہ ایک گاڑھی جیلی کی طرح کے میٹیریل سے بنایا جاتا ہے جس میں سٹیم سیل اور اینڈوتھیلیل سیلز شامل ہوتے ہیں۔ اس تھری ڈی پرنٹر میں اس جیلی کو گھمایا جاتا ہے۔ یہ پرنٹر روشنی کی شعاعوں سے اس جیلی کے اندر درست مقامات پر درست خلیوں کو  آپس میں جوڑ کر جگر کا تھری ڈی سٹرکچر بناتا ہے۔ اس پراسیس کے نتیجے میں درست ساخت کا جگر تشکیل پاتا ہے جو لیبارٹری ٹیسٹنگ یا ممکنہ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ایسے آرگنائیڈ ایک کے بعد دوسری تہہ کے اضافے سے تشکیل دیے جاتے تھے جس میں بہت زیادہ وقت لگتا تھا۔

اس ٹیکنالوجی سے بنائے گئے چوہوں کے جگر لیبارٹری ٹیسٹس میں کئی چوہوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان چوہوں کے جسم میں یہ تھری ڈی پرنٹڈ جگر کئی ہفتوں تک زندہ رہے اور معمول کے کام انجام دیتے رہے۔ چونکہ ان پرنٹڈ جگروں کے لیے سٹیم سیل اور دوسرے خلیے ان چوہوں کے جسم سے ہی لیے گئے تھے اس لیے ان کے مدافتعی نظام نے ان پرنٹڈ اعضاء پر حملہ نہیں کیا۔ اس لیے یہ جگر جسم میں جلد ہی فعال ہو گئے اور معمول کے مطابق کام کرنے لگے۔

اس ٹیکنالوجی کا اگلا مرحلہ انسانی ٹرائلز ہیں جو دو سال کے اندر اندر متوقع ہیں۔ اگر انسانوں پر یہ کلینیکل ٹرائلز کامیاب رہے تو امید ہے کہ اگلے چند سالوں میں یہ ٹیکنالوجی جگر کے علاوہ دیگر انسانی اعضا بھی تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تشکیل دے سکے گی۔ اس طرح ایک طرف تو ناکارہ اعضا کے مریضوں کو کسی عطیہ دینے والے کی موت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا تو دوسری طرف ان کے جسم میں ان ٹرانسپلانٹڈ اعضاء کے رجیکٹ ہونے کا امکان بھی بہت کم رہ جائے گا۔

انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے علاوہ تھری ڈی پرنٹڈ اعضاء دواؤں کے ٹیسٹ کرنے کے طریقہ کار کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتے ہیں۔ لیبارٹری میں نئی دواؤں کو جانوروں یا پیٹری ڈش میں انسانی خلیوں کے کلچر پر ٹیسٹ کرنے کرنے کے بجائے فارماسیوٹیکل کمپنیاں اصلی پرنٹڈ اعضاء پر اصلی ادویات کی جانچ کر سکیں گی۔ اس طرح دواؤں کی افادیت اور ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس کی پیشن گوئی کا پراسیس آسان اور تیز تر ہو جائے گا اور نئی دواؤں کی منظوری موجودہ سسٹم کی نسبت کئی گنا جلد ہو سکے گی۔

Comments