کمرشل ہوائی جہازوں میں سینٹر آف گریویٹی اور وزن کی تقسیم کا کردار

 

کمرشل ہوائی جہازوں میں سینٹر آف گریویٹی اور وزن کی تقسیم کا کردار

 تحریر: قدیر قریشی

جُون 11، 2025 کو ناروے کے ایک چھوٹے ایئرپورٹ پر ایک کمرشل جہاز نے لینڈ کیا۔ لینڈ کرنے کے بعد اسے سیڑھیاں لگائی گئیں اور تمام مسافر جہاز سے اتر گئے۔ ابھی جہاز سے سامان اتارا جا رہا تھا کہ اچانک جہاز کا اگلا حصہ (جسے nose کہا جاتا ہے) اوپر کی طرف اٹھنے لگا اور جہاز کا پچھلا حصہ زمین سے جا ٹکرایا۔ اس طرح جہاز کا اگلا حصہ ہوا میں معلق ہو گیا۔ اس حادثے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔ جہاز سامان اتارتے وقت اچانک ٹیڑھا کیوں ہو گیا، آئیے اس کی فزکس سمجھتے ہیں۔
کمرشل ہوائی جہازوں کی پرواز، حفاظت اور توازن کا دارومدار صرف انجنوں اور پرزوں پر ہی نہیں، بلکہ سینٹر آف گریویٹی یعنی مرکزِ ثقل اور وزن کی درست تقسیم پر بھی ہوتا ہے۔ ایک معمولی غلطی نہ صرف پرواز کو غیر مستحکم بنا سکتی ہے بلکہ حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
 

 خالی جہاز میں سینٹر آف گریویٹی کی پوزیشن:

خالی جہاز (Zero Fuel Weight) کی حالت میں جہاز کا سینٹر آف گریویٹی عموماً جہاز کے پروں کے قریب یا پروں سے تھوڑا سا آگے ہوتا ہے۔ سینٹر آف گریویٹی کو اس مقام پر رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے جہاز کی پرواز مستحکم رہتی ہے کیونکہ جہاز کی پوزیشن فطری طور پر افقی رہتی ہے اور ٹیک آف اور لینڈنگ میں توازن قائم رہتا ہے۔ گویا جہاز کا سینٹر آف گریویٹی اگر درست مقام پر ہو تو جہاز کے ایلیویٹر (elevator) پر کم بوجھ پڑتا ہے۔ ایلیویٹرز جہاز کی دُم پر لگے وہ افقی سٹرکچرز ہوتے ہیں جن کی پوزیشن تبدیل کرنے سے جہاز کا افقی زاویہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہی سینٹر آف گریویٹی جہاز میں مسافروں اور سامان کی ہونے والی لوڈنگ (loading) کے دوران بنیاد کا کام کرتا ہے۔
 

لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کے دوران وزن کی تقسیم:

جب آپ جہاز کی سیٹوں کی بکنگ کرواتے ہیں تو آپ عموماً دیکھتے ہیں کہ کچھ سیٹیں بکنگ کے لیے میسر ہوتی ہیں اور کچھ بلاکڈ ہوتی ہیں۔ سیٹوں کے بلاکڈ ہونے کی واحد وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ سیٹیں کسی مسافر نے بُک کروا رکھی ہیں، بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جہاز میں جتنی سیٹیں سینٹر آف گریویٹی کے آگے بُک ہوں کم و بیش اتنی ہی سینٹر آف گریویٹی کے پیچھے بھی بُک ہوں اور جہاز کا سینٹر آف گریویٹی مطلوبہ مقام سے شفٹ نہ ہونے پائے۔
 
جہاز کی لوڈنگ کے دوران مسافروں کے علاوہ کارگو، اور سامان کو بھی ایک مخصوص ترتیب سے رکھا جاتا ہے تاکہ جہاز کا سینٹر آف گریویٹی اس مطلوبہ مقام سے آگے یا پیچھے نہ چلا جائے اور جہاز کا افقی توازن  برقرار رہے۔ ایسا یقینی بنانے کے لیے کارگو کو سینٹر آف گریوٹی سے اگلے اور پچھلے حصوں میں توازن سے رکھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جہاز میں جہاں مسافروں کی سیٹیں ہوتی ہیں اس کے نیچے جہاز کا کارگو سیکشن ہوتا ہے جس میں سامان لوڈ کیا جاتا ہے۔
 

ایندھن سے سینٹر آف گریویٹی میں تبدیلی:

جہازوں کے مختلف حصوں میں ایندھن کے ٹینک موجود ہوتے ہیں جو ایک ترتیب سے بھرے جاتے ہیں اور ان میں سے ایندھن کا استعمال بھی ایک ترتیب سے کیا جاتا ہے۔ کمرشل جہازوں میں فیول ٹینک جہاز کے پروں میں ہوتے ہیں، ایک بڑا فیول ٹینک جہاز کے مرکز میں دونوں پروں کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے طیاروں میں دُم کے سٹرکچرز میں بھی فیول ٹینک ہوتے ہیں۔ جب ان فیول ٹینکوں میں ایندھن بھرا جاتا ہے تو یہ احتیاط برتی جاتی ہے کہ دائیں اور بائیں فیول ٹینک میں ایندھن کی مقدار ایک جیسی ہو تاکہ جہاز کا سینٹر آف گریویٹی جہاز کے سینٹر میں ہی رہے دائیں یا بائیں طرف منتقل نہ ہو جائے۔ اڑان کے دوران جب ایندھن استعمال کیا جاتا ہے تو بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ دائیں اور بائیں دونوں ٹینکوں سے ایندھن بیک وقت استعمال کیا جائے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے دائیں ٹینک کا ایندھن استعمال کیا جائے اور جب دائیں ٹینک میں ایندھن ختم ہو جائے تو بائیں ٹینک کے ایندھن کا استعمال شروع کیا جائے۔
 
اگر جہاز کا سینٹر آف گریویٹی  پیچھے چلا جائے تو کیا ہوتا ہے؟
اگر جہاز کا سینٹر آف گریویٹی مقررہ حد سے زیادہ پیچھے چلا جائے، اور خصوصاً اگر یہ جہاز کے پروں کے نیچے والے پہیوں (main landing gear) سے بھی پیچھے چلا جائے تو کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ 

لوڈنگ یا ان لوڈنگ کے دوران اگر جہاز کے پچھلے حصے میں زیادہ وزن ہو اور اگلا حصہ ہلکا ہو تو جہاز کا پچھلا حصہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔ جون 2025 میں ہونے والے حادثے میں عین یہی ہوا۔ زمینی عملہ شاید اناڑی تھا جس نے ان لوڈنگ کرتے وقت جہاز کے توازن کا خیال نہیں کیا اور جہاز کے کارگو بےcargo) bay) کے اگلے حصے کے سامان کو پچھلے حصے میں منتقل کر دیا۔ اس سے جہاز کا سینٹر آف گریوٹی جہاز کے پچھلے پہیوں سے بھی پیچھے شفٹ ہو گیا اور لیور کے اصول کے مطابق جہاز کا پچھلا حصہ نیچے اور اگلا حصہ اوپر کی طرف اٹھ گیا۔ پائلٹ کو جہاز کی nose نیچے رکھنے یعنی جہاز کو افقی حالت میں رکھنے کے لیے زیادہ ایلیویٹر فورس لگانا پڑتی ہے، جس سے ایندھن کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ اڑان کے دوران سینٹر آف گریویٹی بہت پیچھے ہو جانے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جہاز کی nose بہت زیادہ اوپر کی طرف اٹھ جائے گی جس سے جہاز کی رفتار کم ہو جائے گی اور جہاز کے پَر مطلوبہ لفٹ پیدا نہیں کر پائیں گے۔ اسے جہاز کا سٹال ہو جانا کہتے ہیں اور یہ انتہائی خطرناک حالت ہوتی ہے جسے اگر فوری طور پر نہ سنبھالا جائے تو جہاز کریش ہو سکتا ہے۔ ٹیک آف کے دوران جہاز کا اگلا پہیہ اڑان کے لیے درکار رفتار حاصل ہونے سے پہلے ہی زمین سے اُٹھ سکتا ہے، جس سے جہاز میں مطلوبہ لفٹ پیدا نہیں ہوتی اور جہاز کریش ہو سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:

فلائٹ کے کڑے پروٹوکولز متعین کیے جاتے ہیں تاکہ جہاز کا سینٹر آف گریویٹی کبھی مطلوبہ مقام سے شفٹ نہ ہونے پائے۔ زمینی عملے کو لوڈنگ پلان کی مکمل تربیت دی جاتی ہے۔ ہر فلائٹ سے پہلے لوڈنگ مکمل ہونے کے بعد جہاز کے سینٹر آف گریویٹی کو چیک کیا جاتا ہے۔ یہ چیک فلائٹ سے پہلے زمینی پروٹوکولز کا لازمی حصہ ہیں۔ لوڈ اینڈ ٹریم آفیسر جو کہ زمین سٹاف کا حصہ ہوتا ہے ہر فلائٹ کی لوڈ شیٹ تیار کرتا ہے تاکہ سینٹر آف گریویٹی رینج میں رہے۔ پھر یہ آفیسر اپنی نگرانی میں جہاز کو لوڈ کرواتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ جہاز میں مسافروں اور کارگو کی لوڈنگ اور ایندھن کی فراہمی اس شیٹ کے مطابق ہوئی ہے۔ جہاز کا کیپٹن اس لوڈ شیٹ کو چیک کرتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ یہ لوڈ شیٹ درست ہے اور جہاز کی لوڈنگ اس پلان کے مطابق ہوئی ہے۔ جب تک جہاز کا کیپٹن اس لوڈ شیٹ کو اپروو نہ کرے اور اس پر دستخط نہ کرے تب تک جہاز کو اڑنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

Comments