مارسوپئیلز کہاں سے آئےکینگروز کے ارتقاء سے متعلق سائنسی پیش گوئی کی کہانی
تحریر: ڈاکٹر محمد طارق
مارسو پیئلز (Marsupials) یا وہ جانور جن کے پیٹ پر بچے کی بعد از پیدائش نگہداشت کیلئے تھیلی بنی ہوتی ہے، کی تصویر سامنے آتے ہی ہمارے ذہن میں آسٹریلیا کا نام آتا ہے۔ بلکہ یہ جانور آسٹریلیا کی کچھ اس طرح سے پہچان بن چکے ہیں کہ ( کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے احباب بخوبی جانتے ہیں) آسٹریلیئن کھلاڑیوں کو پیار سے کینگرو بھی کہا جاتا ہے۔ کینگرو مارسوپیئل جانوروں میں سب سے مشہور سپی شیز ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مارسوپیئلز کے سب سے قدیم فوسلز براعظم آسٹریلیا نہیں بلکہ براعظم شمالی امریکا سے ملتے ہیں جن کی قدامت کا تخمینہ تقریباً آٹھ کروڑ سال ہے۔ یعنی یہ جانور مقامی نہیں بلکہ ان کا ارتقاء شمالی امریکا میں ہوا۔ شمالی امریکا سے اگلے چار کروڑ سال میں پھیلتے ہوئے یہ جنوبی امریکا پہنچے جہاں سے آسٹریلیا پہنچتے پہنچتے انہیں مزید ایک کروڑ سال لگے۔ آسٹریلیا میں ان کے قدیم ترین فوسلز تقریباً تین سے چار کروڑ سال پرانے ہیں۔ یہاں مارسوپیئلز کی تقریباً دو سو سپی شیز پائی جاتی ہیں جن کا ارتقاء مقامی طور پر ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جنوبی امریکا سے آسٹریلیا جاتے ہوئے انہوں نے جنوبی بحرِ اوقیانوس کو کیسے پار کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے ماہرینِ ارتقاء کو جغرافیے کے ماہرین کی مدد درکار تھی۔ اور ماہرینِ جغرافیہ کا جواب تھا "تب بحرِ اوقیانوس ہوتا ہی نہیں تھا کیونکہ آسٹریلیا اور جنوبی امریکا دونوں گندوانا سُپر کانٹینینٹ (Gondwana Supercontinent) کا حصہ تھے"۔
گندوانا سپر کانٹینینٹ اور لوریشیا سپر کانٹینینٹ (Laurasia) دراصل 20 کروڑ سال قبل پینجیا (Pangea or Pangaea) سپر کانٹیننٹ ٹوٹنے کے نتیجے میں بنے تھے۔ گندوانا میں آسٹریلیا کے علاوہ موجودہ نیوزی لینڈ، مڈغاسکر، برصغیر، جنوبی امریکہ اور افریقہ شامل تھے اور جنوبی امریکہ آسٹریلیا کیساتھ انٹارکٹیکا کے ذریعے جڑا ہوا تھا۔ جب مارسوپیئلز جنوبی امریکا سے نکل رہے تھے تو گندوانا پہلے ہی شکست و ریخت کے عمل سے گزر رہا تھا اور مختلف خطے علٰیحدہ ہو رہے تھے۔ تاہم جنوبی امریکا کا ایک کونا انٹارکٹیکا کیساتھ ابھی بھی جڑا ہوا تھا۔ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا سب سے آخر میں علٰیحدہ ہوئے۔ کیا واقعی مارسوپیئلز آسٹریلیا میں امریکا سے ہی آئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو انہیں تین سے چار کروڑ سال پہلے آسٹریلیا پہنچنے کیلئے انٹارکٹیکا سے گزرنا پڑا ہوگا۔ یہ ایک تگڑا قابلِ تحقیق ہائپوتھیسس تھا چنانچہ پرڈو (Purdue) یونیورسٹی کے پروفیسر William Zinsmeister نے اسے جانچ کر اس پیشن گوئی کو آزمانے کا ارادہ کر لیا۔
1982ء میں پروفیسر ولیئم اپنے سٹوڈنٹس کیساتھ انٹارکٹیکا کے جزیرے سیمور (Seymour Island) پہنچے۔ اس جزیرے کا انتخاب بھی ماہرینِ جغرافیہ کے مشورے سے کیا گیا تھا کیونکہ یہ جزیرہ اس قدیم غیر منجمد (غیر برفیلے) راستے میں آتا تھا جو جنوبی امریکا کو انٹارکٹیکا سے ملاتا تھا۔ کھدائی کے دوران جغرافیہ اور پیلینٹولوجی (Paleontology) کے ماہرین کی پیشن گوئی کے عین مطابق پروفیسر ولیئم کی ٹیم کو اس جزیرے پر نہ صرف مارسوپیئلز کے ایک درجن سے زائد سپی شیز کے فوسلز مل گئے بلکہ ڈیٹنگ کرنے پر ان فوسلز کی عمر بھی وہی نکلی جس کی پیشن گوئی کی گئی تھی، یعنی ساڑھے تین سے چار کروڑ سال! اس تحقیق نے نہ صرف مارسوپیئلز کے ارتقاء کے بارے میں کی گئی پیشن گوئیوں کی تصدیق کر دی بلکہ کانٹینینٹل ڈرِفٹ (Continental Drift) کی تھیوری کو بھی مزید تقویت مل گئی۔ پروفیسر ولیئم نے فوسلز کی دریافت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا "سالہا سال سے ماہرین کا خیال تھا کہ انٹارکٹیکا سے مارسوپیئلز (کے فوسلز) ملنے چاہیئں۔ اور آج ہمیں ان کے فوسلز مل گئے ہیں۔ یہ کوئی غیر متوقع دریافت نہیں ہے۔ یہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر بنی ہوئی ہماری توقعات کے عین مطابق ہے۔ اور میں اس پر بہت خوش ہوں"۔





Comments
Post a Comment