میوٹیشنز جن سے انسانی دماغ کا سائز بڑھ گیا
تحریر: قدیر قریشی
بیالوجی کے معروف سائنسی جرنل میں حال ہی میں ایک سائنسی پیپر شائع ہوا ہے، جس میں سائنس دانوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسانی ڈی این اے میں وہ میوٹیشنز تلاش کر لی گئی ہیں جن کی وجہ سے انسانی دماغ ہمارے قریبی ارتقائی کزنز کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہو گیا اور اس میں نیورونز کی تعداد زیادہ ہو گئی۔
ہم جانتے ہیں کہ چمپنزی، بونوبو، اور گوریلا کی نسبت انسان کے دماغ، اور خاص طور پر دماغ کی فرنٹل کورٹیکس میں نیورونز کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ انسان کی فرنٹل کورٹیکس میں نیورونز کی اضافی تہیں پائی جاتی ہیں جو باقی گریٹ ایپس کے دماغ میں نہیں ہوتیں۔ ان اضافی نیورونز کی وجہ سے انسان کی فرنٹل کورٹیکس مستقبل کے بارے میں بہتر پلاننگ کے قابل ہو گئی، انسان دوسرے جانوروں سے کہیں زیادہ ذہین ہو گیا اور ہوموسیپیئنز باقی انواع کی نسبت زیادہ کامیاب رہے۔ سائنس دان ایک عرصے سے ان جینیاتی میوٹیشنز کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی وجہ سے انسان کے دماغ میں نیورونز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ لیکن ابھی تک ایسے جینیاتی ٹولز میسر نہیں تھے جن سے ایسی میوٹیشنز کی تلاش کی جا سکے۔ اس لیے اس کوشش میں ابھی تک ماہرین کو محض جزوی کامیابیاں ہی حاصل ہوئیں۔
لیکن پچھلی ایک دہائی میں جینیاتی ٹیکنالوجی نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے اب انسان اور دوسرے کئی جانوروں کے ڈی این اے کو مکمل طور پر ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے اور ان جانوروں کے ڈی این اے کا ڈیٹا بیس تمام محققین کو میسر ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں بھی انتہائی تیزی سے ترقی ہوئی ہے جس سے اب ان جانوروں کے ڈی این اے کا تقابلی جائزہ لینا اور ان میں منفرد میوٹیشنز (یعنی ایسی میوٹیشنز تلاش کرنا جو صرف ایک اسپیشیز میں پائی جاتی ہیں باقی میں نہیں) تلاش کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب ہم یہ بھی بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ کون سے جینز کن کن اعضاء میں ایکسپریس ہوتے ہیں۔
چنانچہ ماہرین کی ایک ٹیم نے انسان اور چمپنزی کے ڈی این اے کا مکمل تجزیہ کیا جسے ٹیلومیئر ٹو ٹیلومیئر انالیسس کہا جاتا ہے۔ ٹیلومیئرز کروموسومز کے کناروں پر موجود خصوصی سٹرکچرز ہو کہا جاتا ہے جو کروموسومز کو بیرونی ماحول سے محفوظ رکھتے ہیں۔ گویا ٹیلومیئر ٹو ٹیلومیئر کا مطلب ہوا کروموسوم کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تمام کے تمام ڈی این اے کا تجزیہ کرنا۔ اس سے پہلے جب دو جانوروں کے ڈی این اے کا تقابلی جائزہ لیا جاتا تھا تو صرف انفرادی جینز کا ہی تجزیہ کیا جاتا تھا، مکمل ڈی این اے کا موازنہ کرنا اب تک ممکن نہیں تھا۔
اس نئی ٹیکنالوجی سے انسانی ڈی این اے میں کئی ایسے جینز کی دہری کاپیاں موجود ہونے کا انکشاف ہوا جن کی چمپنزی کے ڈی این اے میں صرف ایک ہی کاپی موجود ہے۔ انفرادی جینز کے موازنے سے ہمیں یہ انفارمیشن نہ مل پاتی۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے انسان کے ڈی این اے میں اسے 213 جینز پائے گئے جن کی ایک سے زیادہ کاپیاں انسانی ڈی این اے میں موجود ہیں۔ ان میں سے 13 جینز ایسے پائے گئے جو انسانی دماغ میں فعال ہوتے ہیں اور جن کی ایک سے زیادہ کاپیاں ہر انسان میں پائی جاتی ہیں لیکن چمپنزی میں ان جینز کی ایک ہی کاپی پائی جاتی ہے (کچھ جینز ایسے ہیں جن کی ایک سے زیادہ کاپیاں کچھ انسانوں میں پائی جاتی ہیں اور کچھ میں نہیں، سائنس دانوں کو ان جینز کی ڈپلیکیشن کی تلاش تھی جو تمام انسانوں میں یکساں پائی جاتی ہو)۔ یہ وہ جین ڈپلیکیشنز ہیں جن کی انسانی اجداد میں مثبت سیلیکشن ہوئی اور اب یہ ڈپلیکینشز تمام انسانوں میں پائی جاتی ہیں اور یہ جینز انسانی دماغ میں فعال ہوتے ہیں۔
ان جینز کا دماغ کی ساخت میں کیا کردار ہوتا ہے یہ سمجھنے کے لیے اس ٹیم نے جینیاتی انجینیئرنگ سے زیبرا فش (چھوٹی مچھلیاں جو سائنسی تحقیق میں اکثر استعمال ہوتی ہیں) کے فرٹیلائزڈ بیضوں میں عین وہی جین اسی تعداد میں شامل کیے جن کی ڈپلیکیشن انسانی ڈی این اے میں موجود ہے لیکن چمپنزی کے ڈی این اے میں نہیں اور جو دماغ میں فعال ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ان مچھلیوں کے جنین کی نشونما کا مشاہدہ کیا گیا اور ان کے دماغ میں ان جینز کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کا باقی مچھلیوں کے جنین سے موازنہ کیا گیا جن میں کوئی جینیاتی میوٹیشن نہیں کی گئی تھی۔ جن جنین میں یہ جینیاتی میوٹیشنز شامل کی گئی تھیں ان کے دماغ کا سامنے کا حصہ یعنی فرنٹل کورٹیکس باقی جنین کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے نشونما پا رہا تھا اور اس میں نیورونز تیزی سے اضافی کاپیاں بنا رہے تھ۔
اس سٹڈی سے معلوم ہوا کہ GPR89 جین کی دو کاپیاں دماغ کی ساخت کے دوران واحد کاپی کی نسبت مختلف طور پر کام کرتی ہیں۔ اگر اس جین کی دو کاپیاں موجود ہوں تو پہلی کاپی کی وجہ سے دماغ میں سٹیم سیلز کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ دوسری کاپی کی وجہ سے نیورونز کی ساخت نارمل سے کچھ مختلف ہو جاتی ہے۔ اس تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ اگر اس جین کی دو کاپیاں ہوں (جو کہ انسانوں میں پائی جاتی ہیں لیکن چمپنزی میں نہیں ہیں) تو دماغ کے سامنے کے حصے یعنی فرنٹل کورٹیکس میں نہ صرف نیورونز کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ ان نیورونز کی ساخت اور ان کے آپسی کنکشنز بھی کچھ مختلف ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور جین FRMPD2 کی بھی اگر دو کاپیاں ہو تو نیورونز میں سائینیپسز کی تعداد زیادہ بننے لگتی ہے جس وجہ سے نیورونز ایک دوسرے سے زیادہ کنکنشن بنانے لگتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نیورونز کے آپسی کنکشنز زیادہ ہوں تو اس سے عمومی طور پر ذہانت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment