وہ معدوم شدہ انواع جن کے نام پاکستان کے نام پر رکھے گئے
تحریر: قدیر قریشی
اگرچہ پاکستان کے تحقیقی اداروں میں پاکستان میں فاسلز کی تلاش پر بہت کم کام ہوا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان سے کئی ایسے نادر فاسلز ملے ہیں جو پہلی بار پاکستان میں ہی دریافت ہوئے اگرچہ ان میں سے کچھ انواع کے فاسلز ابھی پاکستان کے علاوہ دوسرے علاقوں سے بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ آج ہم کچھ ایسے فاسلز پر بات کریں گے، نہ صرف جن کی دریافت پاکستان میں ہوئی بلکہ پاکستان کے حوالے سے ان انواع کا نام بھی پاکستان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ خاص طور پر پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں میں کئی اہم فاسلز دریافت ہوئے ہیں کیونکہ آج سے کروڑوں سال پہلے یہاں اتھلے سمندر تھے۔
پاکستان کے نام پر رکھے گئے انواع کے نام
فقاری (یعنی ریڑھی کی ہڈی والے) جانوروں کے فوسلز
1. پاکی سیٹس (Pakicetus)
پاکی سیٹس کی ترکیب کا مطلب ہے "پاکستانی وہیل"۔ یہ فاسل سب سے پہلے بلوچستان میں 1981 میں دریافت ہوئے اور یہ آج سے پانچ کروڑ سال پہلے کے زمانے سے ہیں۔ پہلے انہیں خشکی کے جانور سمجھا گیا لیکن جب ان کی کھوپڑی میں کان کے اندرونی سٹرکچرز کو سٹڈی کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ جانور خشکی اور پانی دونوں میں یکساں وقت گزارتا تھا۔ اس کے اندرونی کان کی ہڈی کا سٹرکچر عین وہی ہے جو آج تمام سمندری میملز کے کانوں میں پایا جاتا ہے اور ان جانوروں کو زیر آب سمت معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چنانچہ اس فاسل کو وہیل کی ارتقائی تاریخ کا سب سے اہم فاسل سمجھا جاتا ہے۔ اس جانور کی ٹانگیں اور سم تھے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جانور خشکی پر اور اتھلے پانی میں چلتے پھرتے تھے، لیکن ان کے کانوں کے اندرونی سٹرکچرز سے یہ بھی واضح ہے کہ یہ پانی میں دیر تک ڈبکی لگا سکتے تھے۔ پاکی سیٹس کی نوع کا تعلق وہیل کے ایک معدوم شدہ خاندان سے ہے جس کا نام بھی پاکستان کے نام پر پکی سیٹیڈی رکھا گیا ہے۔
2. پاکیسورس (Pakisaurus)
پاکی سورس کا مطلب ہے "پاکستانی چھپکلی"- یہ نوع ایک ڈائنوسار ہے جس کے فاسلز بلوجستان سے دریافت ہوئے۔ اس نوع کے پورے ڈھانچے کا فاسل ابھی تک نہیں مل پایا لیکن اس کی کئی ہڈیوں کے فاسلز مل چکے ہیں جن سے ماہرین اس ڈائنوسار کی جسمانی ساخت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ ڈائنوسار آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے زمین پر ایک شہابیے کے ٹکرانے سے معدوم ہوئے جب ڈائنوسارز کی بیشتر انواع معدوم ہو گئیں۔
4. پاکوسیٹس (Pakucetus)
یہ بھی ابتدائی وہیل جیسے میملز کی ایک اور نسل تھی جو پاکستان کے موجودہ علاقوں میں اسی زمانے میں پائی جاتی تھی جب پاکیسیٹس پائے جاتے تھ۔ یہ نوع بھی خشکی اور پانی دونوں میں رہ سکتی تھی۔
5۔ بلوچ ایتھیریم (Baluchitherium)
ڈیرہ بگٹی، بلوچستان میں ایک سینگ کے بغیر بہت بڑے گینڈے کا فاسل دریافت ہوا جو موجودہ ہاتھی سے بھی بڑا تھا۔ اسے بلوچ ایتھیریم کا نام دیا گیا۔
6۔ سلیمان ایتھریم (Sulaimanitherium)
سلیمان رینج کے علاقے میں ایک درمیانے سائز کے میمل کے فاسلز دریافت ہوئے جس کا نام سلیمان رینج کے نام پر سلیمان ایتھریم رکھا گیا ہے۔ اس نوع کے بارے میں ابھی بہت کم معلومات میسر ہیں۔

Comments
Post a Comment