ملکی وے کی تصاویر کا معمہ: سائنسی وضاحت

 

ملکی وے کی تصاویر کا معمہ: سائنسی وضاحت

تحریر:خیر بخش

ہماری کہکشاں (galaxy) کا نام ملکی وے ہے۔ اس میں کم از کم ڈھائی سو ارب ستارے (stars) ہیں جن میں سے ایک ستارہ ہماراسورج ہے۔ سورج ملکی وے کے ایک نسبتا چھوٹے چکردار بازو "اورین" میں واقع ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا نظام شمسی جب ملکی وے کے بیچوں بیچ واقع ہے تو پھر اس گیلیکسی کی اس طرح کی تصویرکشی کیسے ممکن ہے۔جو صاحبان ملکی وے کی تصاویر کو لے کر مختلف شک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ کمپیوٹر جنریٹڈ امیجز ہوتی ہیں جنہیں بہت ساری اوریجنل تصاویر کے ساتھ ساتھ مختلف سائنٹیفک ڈیٹا اور پیرامیٹرز کو دھیان میں رکھ کر ڈویلپ کیا جاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ملکی وے ایک اسپائرل گیلکسی ہے اور ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسپائرل گیلکسیز کیسی نظر آتی ہیں اور ان کی کیا کیا پیرامیٹرز ہیں،  لہذا ہمیں ملکی وے سے باہر جاکر اس کی تصویر اتارنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔ ہماری یونیورس میں اسپائرل گیکسیز کی بھرمار ہے بلکہ ہماری بالکل پڑوس میں ایک دوسری اسپائرل گیلیکسی اینڈرومیڈا موجود ہے جو جسامت سے ہماری گیلکسی سے بھی بڑی اور اس میں ہماری کہکشاں ملکی وے کے مقابلے میں دگنے ستارے موجود ہیں۔ ہم اینڈرومیڈا اور دیگر اسپائرل گیلکسیز کی تفصیلی مطالعے اور مختلف آپٹیکل، انفراریڈ اور دیگر ٹیلی اسکوپس سے حاصل ڈیٹا کی مدد سے با آسانی اسپائرل ملکی وے کی تفصیلی امیج کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ ایک مصور اگر اپنے فن میں ماہر ہو اور اسے اوبجیکٹ کی جزیات اور کمپلیکسٹی کی مکمل جانکاری ہو تو وہ بہت آسانی سے اس کی ہوبہو پینٹنگ تیار کرسکتا ہے۔

Comments