مُشتری ہوشیار باش

 مُشتری ہوشیار باش

تحریر: جرار جعفری

یہ چاند کے ساتھ ساتھ کیا ہے ؟ مُشتری اور اس کے چار چاند۔
زمین پر آسمان کا مُشاہدہ کرنے والوں نے 15 جولائی 2012 کی صبح صادق کو نظامِ شمسی کے سیاروں اور چاند کے قریب آنے کے مناظر سے لطف اُٹھایا۔ جب کہ دُنیا بھر کے لوگوں نے چمک دار مُشتری کو گھٹتے ہوئے چاند کے ہلال کے ساتھ دیکھا، لیکن یورپ میں لوگوں کو مُشتری کو چاند کی ڈسک کے پیچھے غائب ہوتے اور پھر ظاہر ہوتے ہوئے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ اس مظہرِ قدرت کو فلکیات میں غَیبت (occultation) کہتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مُراد ہوتی ہے کہ جب تھوڑی دیر کے لئے کوئی جرمِ فلکی ظاہراً آسمان پر کسی دوسرے جرمِ فلکی کے پیچھے چھپ جائے اور پھر ظاہر ہوجائے۔
اٹلی کے علاقے "مونٹی کیسی آنو" سے دوربین کے ذریعے لی گئی اس حسین تصویر کو بادلوں کا بہت خطرہ تھا لیکن اس کے باوجود اس فریم نے مُشتری کو چاند کے پیچھے سے غَیبت "occultation" سے باہر آتے ہوئے اپنے چار بڑے چاندوں کے ساتھ قید کرلیا ہے۔ سورج کی روشنی سے مُنور ہوئے ہلال میں چاند کی رات والی سمت،  زمین کی چمک سے مدھم سی روشن نظر آرہی ہے۔
مُشتری کے ان چاندوں کو گلیلیو کے چاند کہا جاتا ہے۔ زمین کے چاند کی سطح سے اُوپر بائیں سے دائیں جاتے ہوئے پہلے "کلیسٹو"، "گائینی میڈ"، "مُشتری"، "آئی-او" اور آخر میں "یوروپا" ہیں۔ در حقیقت "یوروپا" کے سوا باقی تینوں چاند ہمارے چاند سے بڑے ہیں،  جب کہ "یوروپا" تھوڑا سا چھوٹا ہے۔ 2016 میں،  ناسا کے جونو سپیس کرافٹ  نے مُشتری کے گرد مدار شروع کردیا،  یوں یہ مُشتری کے گرد گردش کرنے والا دوسرا سپیس کرافٹ بن گیا۔

تاریخی اہمیت:
مُشتری کے ان چار چاندوں نے دو اہم ترین نتائج کی وجہ سے تاریخ انسانی میں سائنس کو چار چاند لگا دیے؛ وہ نتائج تھے:
زمین مرکز کائنات ہے اور سب اجرامِ فلکی زمین کے ہی گرد گھومتے ہیں، اس نظریے کو سب سے بڑا دھچکا گلیلیو کی اس دریافت سے پہنچا، جب اس نے دوربین کے ذریعے دُنیا کو دکھایا کہ مُشتری کے گرد اس کے اپنے چار چاند محو گردش ہیں، یوں پہلی بار انسانیت نے افلاک میں اجسام کو زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارے کے گرد گردش کرتے ہوئے دیکھا تو ہماری انانیت زدہ خودی کے قلعے کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگیں؛ کہ وا حیرتا،  ہم مرکز کائنات نہیں ہیں!!! نتیجتاً گلیلیو کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔
سائنس کی تاریخ میں، مُشتری کے چاندوں کی وجہ سے دوسرا بڑا معرکہ یہ ہوا کہ اس کے چاند "آئی-او" کی وجہ سے انیسویں صدی میں پہلی بار ہم نے روشنی کی رفتار کو ماپا۔ ولندیزی سائنسدان اولے رومر اور کسینی نے مُشتری کے چاند "آئی-او" کے مُشاہدے سے اندازہ لگایا کہ اس کو گرہن ہر زمینی دو دن بعد لگتا ہے، اور جب زمین مُشتری سے پرے جارہی ہو اور جب یہ مُشتری کی طرف آرہی ہو تو، ان دونوں مُقامات پر اس گرہن میں 32 سیکنڈ کا فرق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ رومر نے یہ بتائی کہ روشنی کی رفتار محدود ہوتی ہے اور اس کو زمین تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے،اب زمین کے سورج کے گرد مدار کی لمبائی جانتے ہوئے، آنے والے چند برسوں میں "کرسچین ھوائگینز" نے بنیادی ریاضی کے استعامل سے تاریخِ انسانی میں پہلی بار روشنی کی رفتار معلوم کی۔

حوالہ جات:
Image Credit & Copyright: Cristian Fattinnanzi
اولے رومر کے روشنی کی رفتار کو ماپنے کو اس وڈیو سے سمجھا جاسکتاہے:

Comments