ڈاؤن سینڈروم (Down Syndrome)

 

ڈاؤن سینڈروم (Down Syndrome) 

تحریر: ڈاکٹر محمد طارق 

جینوم، ڈی این اے، کروموسوم 

کسی بھی جاندار کے کل ڈی این اے (genome) کو اس جاندار کی ساخت اور فنکشنز کیلئے ایک آئین سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔ یہ آئین ہمیں بتاتا ہے کہ اس جاندار کے جسم کی ساخت کیا اور کیسی ہوگی۔ اس جسم (ریاست) کے مختلف نظاموں (اداروں) کے ساخت کیا ہوگی۔ یہ نظام کام کیسے کریں گے. ان نظاموں کے مختلف اعضاء (محکمے) خود کیسے کام کریں اور دوسرے نظاموں کے اعضاء کیساتھ کیسے کوآرڈینیشن رکھیں گے۔ چنانچہ ڈی این اے کے آئین کی چھپائی کے دوران اگر کسی لفظ، جملے، صفحے یا باب میں میں کوئی ٹائپو ہو، کچھ پرنٹ ہونے سے رہ جائے، الفاظ، جملے یا صفحات آگے پیچھے چھپ جائیں تو جسم کی ریاست میں کسی ایک یا زیادہ محکموں یا اداروں کی ساخت/فنکشن پر اثر پڑنے کا قوی امکان ہوتا ہے۔ کسی بھی جاندار کی زندگی کے ابتداء کیلئے پہلے اس کا ڈی این اے درکار ہوتا ہے۔ انسانی ڈی این اے 23 جوڑیوں پر مشتمل 46 کروموسومز کی صورت میں بندھا ہوا (packed) ہوتا ہے۔ کروموسوم کی ہر جوڑی میں سے بچے کو ایک کروموسوم والد اور ایک والدہ کی طرف سے ملتا ہے. ہر کروموسوم میں مختلف تعداد (چند سو سے لیکر چند ہزار تک) جینز ہیں. چنانچہ کم یا اضافی کروموسوم کا مطلب اس کروموسوم پر موجود تمام جینز کا کم یا اضافی ہونا اور نتیجتاً متعلقہ اعضاء یا نظاموں کی ساخت یا فنکشن کا متأثر ہونا ہے۔

ڈاؤن سینڈروم کی علامات

اس وقت دنیا بھر میں لگ بھگ پچاس لاکھ لوگ ایسے ہیں جن میں کروموسوم کی 21 ویں 'جوڑی' میں دو کے بجائے تین کروموسوم ہوتے ہیں۔ (trisomy) اضافی کروموسوم کی وجہ سے جو جینیاتی مسئلہ پیدا ہوتا ہے اسے ڈاؤن سینڈروم کہا جاتا ہے۔ ان افراد کی نمایاں علامات میں چپٹا چہرہ، اوپر کی طرف ترچھی آنکھیں، چھوٹا قد اور چھوٹی گردن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان افراد میں ذہنی نشوونما اور قوت گفتار (speech) میں بھی کمی کا مسئلہ ہوتاہے۔ علامات کے شدت کے نوعیت مختلف افراد میں کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ان افراد کو بینائی اور سماعت سے محروم ہونے، الزائمر اور امراضِ قلب کا خطرہ بھی عام لوگوں کی نسبت زیادہ رہتا ہے۔

ڈاؤن سینڈروم کب ہوتا ہے؟

والدین میں سے ہر ایک اپنے 46 کروموسومز میں سے آدھے کروموسومز بچے کو دیتے ہیں. چنانچہ سپرم (sperm) اور بیضہ (egg) بنانے کیلئے کروموسومز کی 23 جوڑیاں توڑنی پڑتی ہیں. ایسا کرنے کیلئے سپرم یا بیضہ بنانے والے Cell کی تمام 23 جوڑیاں ایک قطار میں ترتیب پاتی ہیں (یہی وہ مرحلہ ہے جب کروموسوم کے مابین ریکومبینیشن بھی ہوتی ہے)۔ جوڑی کے دونوں کروموسوم ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہو جاتے ہیں اور Cell کے مخالف اطراف میں چلے جاتے ہیں. Cell دو سپرمز/بیضوں میں تقسیم ہوتا ہے تو کروموسوم کی تعداد آدھی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی Cell کی تقسیم کے دوران کوئی جوڑی ٹوٹنے میں ناکام ہو جائے (nondisjunction) تو سپرم/بیضے میں پوری جوڑی چلی جاتی ہے. ایسا سپرم/بیضہ جب نارمل بیضے/سپرم سے ملتا ہے تو ٹوٹنے سے بچنے والی کروموسوم کی 'جوڑی' میں دو کے بجائے تین کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایسا جب کروموسوم کی 21 ویں جوڑی کیساتھ ہوتا ہے تو نتیجتاً پیدا ہونے والے بچے کو ڈاؤن سینڈروم ہو جاتا ہے. ایسے افراد میں کل کروموسوم کے تعداد 46 کے بجائے 47 ہوتی ہے۔ ڈاؤن سینڈروم کی اکثریتی (تقریباً 95 فیصد) کیسز میں بچے کو اضافی کروموسوم بیضے کے ذریعے ماں سے ملتا ہے۔ 

تاہم ڈاؤن سینڈروم کے تمام کیسز اضافی کروموسوم کے وجہ سے نہیں ہوتے۔ کچھ (تقریباً 2 سے 3 فیصد) افراد میں پورے کروموسوم کے بجائے 21 ویں کروموسوم کا کچھ حصہ ٹوٹ کر کسی دوسرے کروموسوم میں ضم ہو جاتا ہے (translocation trisomy)۔ ایسے افراد میں کل کروموسوم 46 ہی ہوتے ہیں لیکن اضافی 'ٹکڑے' کے وجہ سے ڈاؤن سینڈروم کی ویسی ہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسی مکمل اضافی کروموسوم والے افراد میں نظر آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سینڈروم کا سبب بننے والے زیادہ جینز کروموسوم کے اسی حصے میں واقع ہوتے ہیں جہاں یہ translocation ہوتی ہے۔ Translocation والے ڈاؤن سینڈروم کی شرح محض 2 فیصد کے قریب ہے جب کہ 95 فیصد کیسز اضافی کروموسوم کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ڈاؤن سینڈروم کی مستند تشخیص کیلئے Karyotyping کی جاتی ہے جس میں کروموسوم کی تعداد اور ساخت کی بنیاد پر تشخیص کی جاتی ہے۔ 

ڈاؤن سینڈروم کے اسباب

کروموسوم کے جوڑی ٹوٹنے میں ناکامی (nondisjunction) ایک رینڈم واقعہ ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی Cell میں ہو سکتا ہے۔ تاہم جب ماں کے عمر 35 سال سے بڑھ جائے تو اس واقعہ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ یہ امکانات مزید بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ محدود کیسز میں فیملی ہسٹری کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً translocation کے کیسز میں۔ اس کے علاوہ کروموسوم کے جوڑی علیٰحدہ کرنے میں جن جینز کا کردار ہے، ان میں میوٹیشن کی وجہ سے nondisjunction تواتر سے ہو سکتا ہے۔ یہ میوٹیشن نسل در نسل منتقل بھی سکتی ہے۔ تاہم، ڈاؤن سینڈروم میں آخر الذکر دونوں اسباب انتہائی کم کیسز میں پائے گئے۔

ماں کی بڑھتی عمر اور ڈاؤن سینڈروم

بڑھتی عمر کے ساتھ بیضہ بننے کی شرح میں کمی آتی جاتی ہے۔ اسی طرح ایسٹروجن ہارمون کے اخراج میں بھی کمی واقع ہو جاتی جس سے بیضہ کی صحت متأثر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس فولیکل سٹیمولیٹنگ ہارمون (FSH) کی سطح بڑھ جاتی ہے جس سے اووریز (ovaries) پر زیادہ تعداد میں بیضے بنانے کیلئے دباؤ پڑتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ oocyte (نامکمل بیضہ جو نشوونما مکمل کر کے بیضہ بن جاتا ہے) کے مائٹوکونڈریا کی کارکردگی میں بھی کمی آتی ہے،  جس کے نتیجے میں اس پر oxidative stress بڑھ جاتا ہے جب کہ پختہ عمر میں بننے والے اووسائیٹس کی antioxidation کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

بڑھتی عمر کے ساتھ ہونے والی ان تبدیلیوں کے نتیجے میں Cell کی تقسیم کے لیے ڈی این اے کی تیاری کے دوران غلطیوں (mutations) کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح کروموسوم کی جوڑی ٹوٹنے کے دوران بھی غلطی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں بڑی عمر میں ماں بننے والی خواتین کے بچوں میں ڈاؤن سینڈروم کی شرح بڑھتی ہے۔ امریکی ادارے CDC (Center for Disease Control) کے مطابق امریکہ میں ہر سال 6000 ڈاؤن سینڈروم سے متاثر بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے آدھے بچے 35 سال سے زائد عمر کی ماؤں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں۔




Comments