آئین شٹائین کی کراس
ترجمہ اور تبصرہ: جرار جعفری
اس تصویر کو ذرا غور سے دیکھئے۔ کہکشاؤں کی اکثریت کا صرف ایک ہی مرکزہ ہوتا ہے --- کیا اس کہکشاں کے چار مرکزے ہیں؟
اس سوال کے عجیب و غریب جواب نے ماہرین فلکیات کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کردیا کہ اس تصویر میں اس کہکشاں کا مرکزہ تو سرے سے نظر ہی نہیں آرہا بلکہ مرکز میں چار پتیوں والے پتے کی مانند نظر آنے والا تو دراصل ایک دور دراز کا کوئی "قیوزار" ہے۔ پیش منظر والی دھندلی سی کہکشاں کے گریوٹیشنل فیلڈ نے قیوزار" کی روشنی کو چار مُختلف عکسوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اس قسم کے سراب کے بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کہکشاں کے پسِ منظر والا قیوزار کہکشاں کے وزنی مرکز کے پیچھے بالُکل دُرست سیدھ میں ہو۔
اس مظہرِ فطرت کو عمومی طور پر"ثقلی عدسہ" کہتے ہیں لیکن اس تصویر میں نظر آنے والے چار نقاط کو خصوصی طور پر "آئین شٹائین کی کراس" کہا جاتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ چاروں نقاط کی چمک اکثر ایک دوسرے کی نسبت سے گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔
قیوزار کیا ہوتا ہے؟
قیوزار (QUASAR) بہت ہی دور دراز لیکن نہایت روشن اجسام ہوتے ہیں۔ یہ اکیلے پوری پوری کہکشائیوں سے زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ اتنی زیادہ اینرجی کے اخراج کی وجہ سے یہ کائینات کی سرحد مُشاہدہ سے بھی دُوربین کے ذریعے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ کہکشاں سے الگ کوئی چیز نہیں ہوتے بلکہ بعض کہکشاؤں کے مرکز کے گرد بہت زیادہ گرد اور گیس ہوتی ہے۔ یہ جب مرکزی بلیک ھول پر جاکر گرتی ہیں تو بلیک ھول کی گریوٹی اس کو خالص اینرجی میں بدل دیتی ہے۔ قیوزار عموماً ہر لمحہ دو ارضی ماس کے مُساوی گیس ہڑپ کرجاتے ہیں جو کم و بیش سالانہ 200 شمسی ماس کے برابر ہوتا ہے۔ اس سارے ماس کا دس فیصد حصہ سارے کا سارا اینرجی میں بدل جاتا ہے ۔ قیوزار کی چمک کو ہماری کہکشاں کی چمک کی نسبت سے ماپا جاتا ھے اور قیوزار کی چمک ملکی-وے سے دس گُنا سے لیکر ایک لاکھ گُنا تک ہوتی ہے۔
آپ کو شاید اس کا اندازہ نہیں لیکن یہ بےتحاشہ اینرجی ہوتی ہے۔ آج تک دور ترین قیوزار “13.8” بلین نوری سال تک کی دوری پر دیکھا گیا ہے ۔ اور اس فاصلے سے یہ قیوزار تصویر پر عموماً ایک روئی کے گالے کی طرح دکھتے ہیں۔
آئین شٹائین کی کراس؟
آئین شٹائین کا سب سے اہم اور بڑا کام میری رائے میں گریوٹی کی نئی تعبیر پیش کرنا تھا جس کے مطابق سپیس ٹائیم مادے کو اینرجی کی وجہ سے یہ بتاتی ہے کہ کیسے حرکت کرنا ہے اور مادہ اپنی اینرجی سے سپیس ٹائیم کو بتاتا ہے کہ کیسے خمیدہ ہونا ہے اور کیونکہ روشنی کے فوٹان اینرجی رکھتے ہیں اس لئے سپیس ٹائیم میں موجود خم کی وجہ سے ان پر اثر پڑے گا اور یہ جیسے عدسہ روشنی کو خم کرتا ہے ویسے ہی خم ہوجائیں گے۔
لوگ زیادہ تر اس بات سے آگاہ نہیں کہ آئین شٹائین کو اپنی مشہور مُساوت E=mc² کی 1905 میں دریافت کے بعد سالوں کسی نے گھاس نہیں ڈالی تھی لیکن 1919 میں روشنی کے گریوٹی سے خمیدہ ہوجانے کی تصدیق کی خبر نے آئین شٹائین کو ایک گھریلو نام بنا دیا تھا۔
اب آئین شٹائین نے بعد میں یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کائینات میں شدید گریوٹی کی وجہ سے کہیں ایسے عدسے بن جائیں لیکن اس کا خیال تھا یہ دیکھنا ناممکن ہوگا۔ لیکن آج کی فلکیات میں ہم ایسے ثقلی یا تجاذبی عدسوں کی متعدد تصاویر لے چُکے ہیں یہ عموماً ایک چھلے کو صورت میں ہوتے ہیں۔
اس تصویر میں وہ نایاب مظہر دکھایا گیا ہے کہ جب ایک دور دراز کا قیوزار ایک کہکشاں کے مرکز کے اس طرح پیچھے ہے کہ اس کہکشاں کے مرکز کی گریوٹی اس قیوزار کی روشنی کو چار حصوں میں بانٹ رہی ہےاور یوں ایک دوردراز کا قیوزار ہم تک اس کہکشاں کے چار مختلف مراکز کے ہونے کا سراب پیدا کررہا ہے اس مظہر کو آئین شٹائین کی کراس کہتے ہیں۔ اس پے غالب کا یہ مصرع یاد آگیا:
؎ "ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ"۔
حوالہ جات: یہ تحریر اے-پاڈ کی درج ذیل کی پوسٹ پر بُنیاد کی گئی:
cross:
Image Credit & Copyright: J. Rhoads (Arizona State U.) et al., WIYN, AURA, NOAO, NSF
.jpg)
Comments
Post a Comment