جہاں چاہ، وہیں راہ
تحریر و تحقیق: حمیریوسف
وہ کہتےہیں نہ کہ "جہاں چاہ، وہیں راہ" یا انگلش محاورے کے مطابق
"Where there's a will, there's a way"
مطلب کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ سوچئے کہ آپ ایک ویران علاقے میں رات کے وقت کہیں جارہے ہیں، آپ کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جو اندھیرے میں آپ کو دیکھنے میں مدد دے۔ ایک ٹارچ تھی، لیکن اس کی بیٹریز خراب ہوگئی ہوں یا آپ اس کی بیٹریز اپنےساتھ لانا بھول گئے ہوں، تو پھر آپ کو تو بہت دقت ہوگی۔ کیسے اپنا راستہ آپ ڈھونڈو گے؟ چاند کی روشنی بعض اوقات ناکافی ہوتی ہے یا بعض راتوں میں تو ہوتی ہی نہیں، خصوصا اماوس کی رات میں۔ یا پھر آپ سوچیں ، ایک زلزلے سے تباہ شدہ عمارت میں آپ اس کے اندرونی حصےمیں کچھ پھنسے ہوئے انسانوں کی مدد کرنے جانا ہے، تاکہ ان کی جانوں کے ضیاع کو نہ ہونے دیا جائے۔ آپ کے پاس ٹارچ ہے، لیکن مسلسل عمارت کے اندر مختلف حصوں میں کام کرنے کی وجہ سے اس کی بیٹریز ختم ہونے والی ہوں اور پھر کافی اندھیرا وہاں ہو، تو اتنی کم روشنی میں ریسکیو کا مسلسل کام کیسے ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ ریسکیو کا کام گھنٹوں، دنوں بلکہ ہفتوں تک بھی بسا اوقات چل سکتا ہے۔ تو ایسی ٹارچ یا روشنی کرنے والی ڈیوائس ہونی چاہئے، جو بغیر بیٹریز کے کچھ انوکھے طریقے سے جل سکیں اور روشنی پیدا کرسکے۔ تو اسی ضرورت کو زہن میں رکھتے ہوئے ایک کینیڈین پندرہ سال نوجوان لڑکی نے ایک ایسی ٹارچ ایجاد کی ، جو بغیر بیٹریز کے بھی صرف انسانی درجہ حرارت کی مدد سے روشن ہوسکتی ہے اور ٹھیک ٹھاک مقدار میں روشنی مہیا کرسکتی ہے۔
15 سال کی عمر میں، کینیڈین موجد این ماکوسنسکی Ann Makosinski نےایک اپنی نئی ایجاد کردہ ٹارچ میں بیٹریوں کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے جسم کی حرارت سے چلنے والی " ہالوٹارچ یعنی کھوکھلی ٹارچ" بنائی۔ یہ ٹارچ پیلٹیئر ٹائلز کا استعمال کرتی ہے، یہ پلیٹیر ٹائلز کیا ہوتے ہیں، اس کی مختصر تفضیل کچھ یہ ہے۔
پیلٹیئر ٹائلز، جسے پیلٹیئر ماڈیولز یا تھرمو الیکٹرک ماڈیول بھی کہا جاتا ہے، وہ ڈیوائسز ہوتی ہیں جو پیلٹیئر اثر کو درجہ حرارت میں فرق یا حرارت کا گرئیڈینٹ کے فرق سے ہونےوالی برقی رو کو پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں جب ان میں سے کرنٹ گزرتا ہے، یا جب درجہ حرارت کے فرق کو لاگو کیا جاتا ہے تو بجلی پیدا کرنے کے لیے انکو استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ایل ای ڈی کو روشن کرنے کے لیے صارف کے ہاتھ موجود تھرمل توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ اختراعی ڈیوائس 2013 کے گوگل سائنس فیئر میں فائنلسٹ تھی، جس نے ہنگامی حالات اور آف گرڈ میں اس ٹارچ کے استعمال کی اپنی صلاحیت کو ظاہر کیا۔
یہ ٹارچ سیبیک ایفیکٹ Seebeck Effect کواستعمال کرتے ہوئے کام کرتی ہے، جہاں درجہ حرارت کے فرق سے ٹارچ اپنی روشنی کی طاقت کو پیدا کرتی ہے۔ این کا ڈیزائن ہتھیلی سے حرارت حاصل کرتا ہے اور اسے LED کو طاقت دینے کے لیے استعمال کرتا ہے، جو ایک پائیدار، قابل تجدید توانائی کا ذریعہ پیش کرتا ہے۔ یہ طریقہ جو قابل اعتماد بجلی کی کمی والے علاقوں کے لیے بہترین ہے ، بغیر بیٹریز کے ایمرجنسی کےوقت ایک ٹارچ کو روشن کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس کارآمدکی ایجاد یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح نوجوان موجد عالمی چیلنجوں کے لیے اہم حل تخلیق کر سکتے ہیں۔ خواتین میں بھی زہانت کی کمی نہیں اور انکے اندر تخلیقیت کے وہی جوہر موجود ہوتے ہیں جیسے مردوں میں ہوتے ہیں۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Ann_Makosinski

Comments
Post a Comment