ڈائیر وولف
ترجمہ و اضافہ جات: حمیریوسف
ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کلوسل کمپنی کا معدومیت کا شکار ڈائیر بھیڑیا، دوبارہ زندہ نہیں کیا گیا ہے۔
انٹرنیٹ کی ایک سنسنی خیز تہلکہ مچانے والی ایک خبر کے مطابق، بعض امریکی سائنسدانوں نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے جینیاتی انجینئرنگ کی بدولت ایک دس ہزار سال قبل معدوم شدہ بھیڑیوں کو "واپس زندہ لائے" کا کارنامہ انجام دیا ہے – لیکن دوسری طرف بہت سارے کچھ دوسرے ماہرین کا یہ کہنا بھی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے جانور، صرف ظاہری شکل میں ڈائیر یعنی خوفناک بھیڑیوں کی طرح ہیں، یہ وہ بھیڑیے ہر گز نہیں ، جو قریبا دس ہزار سال پہلے مختلف وجوہات کی بنا پر فنا ہوگئے تھے۔
پیر (7 اپریل 2025) کو ایک اعلان میں، سائنسدانوں نے دنیا کے سامنے انکشاف کیا کہ انہوں نے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے طویل عرصے سے معدوم ہونے والے خوفناک بھیڑیوں (ڈائیر وولف) کو "واپس زندہ کیا " ہے، یعنی معدومیت سے دوبارہ واپس لائے ہیں، گویا دوسرا جنم ملا ہے ان بھیڑیوں کو۔ بائیوٹیکنالوجی کمپنی Colossal Biosciences کے محققین نے تین پیارے، کیوٹ سے، برف کے سے سفید کتے کے بچوں کی تصاویر شیئر کیں، جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "دنیا کی پہلی معدومیت سے واپسی ہے"۔ جو ان سائنسدانوں کے خیال کے مطابق ڈائیر وولف کے بچے ہیں۔
خوفناک بھیڑیے (سائنسی نام Aenocyon dirus)، جسے HBO ٹیلی ویژن سیریز "گیم آف تھرونز" نے کافی مشہور کیا تھا، آخری برفانی دور کے اختتام پر معدوم ہو گئے تھے۔ ایک ان جیسے بھیڑیوں نما کتے بنا کر، Colossal کے CEO بین لیم Ben Lamm نے کہا کہ کمپنی نے "صحت مند بھیڑیے کے بچے بنائے ہیں" اور 10,000 سال سے زائد معدومیت کے بعد ان پرہیبت و پرشکوہ شکاریوں کو زندہ کیا ہے۔
لیکن بہت سے قدیمی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ Colossal نے اپنی تخلیق کو بیان کرنے کے لیے جو زبان استعمال کی ہے وہ گمراہ کن ہے۔ Otago یونیورسٹی میں Otago Palaeogenetics لیبارٹری کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کو ڈائریکٹر، نک راویلنس Nic Rawlence نے نیوزی لینڈ سائنس میڈیا سینٹر (NZ SMC) کو بتایا کہ "کولوسل نے جو چیز پیدا کی ہے وہ ایک سرمئی بھیڑیا ہے جس میں کچھ ڈائیر بھیڑیا جیسی خصوصیات ہیں۔یہ وہ معدوم ہونے والا بھیڑیا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک 'ہائبرڈ' ہے جس میں کتوں اور بھیڑیوں کے مکس جینز شامل ہیں۔"
اس ہائبرڈ کتے کو بنانے کے لیے، سائنسدانوں نے دو زمانہ قبل از تاریخ خوفناک بھیڑیوں کے فوسلز سے ڈی این اے نکالا، جن میں شیریڈن پٹ، اوہائیو امریکہ میں دریافت ہونے والا 13,000 سال پرانا دانت اور ایڈاہو میں امریکن فالس سے 72,000 سال پرانا اندرونی کان کی ہڈی میں سے ڈی این اے ایکسٹریکٹ کرتے ہوئے اسکا استعمال کیا۔ پھر محققین نے ایک جزوی خوفناک بھیڑیے کے جینوم کو اکٹھا کیا، جس کا انہوں نے پھر بھیڑیے، گیدڑ اور لومڑی سمیت سب سے زیادہ قریبی رشتہ داروں کے جینوم سے موازنہ کیا اور میچ کرکے انکی جینز ایڈٹنگ کی۔
ماہرین نے کہا کہ ان کے نتائج کی بنیاد پر، سائنسدانوں نے بھورے بھیڑیوں کو ان ڈائیر بھیڑیوں کو "واپس لانے" کے ایک کیریر جیسا استعمال کیا۔ اس کے لیے جینیاتی مواد رکھنے کے لیے مادہ انڈے کے عطیہ دہندہ کے طور پر سرمئی بھیڑیا (کینیس لیوپس Canis lupus) کا انتخاب کیا۔ باوجود اس کے کہ دونوں انواع کا اصل میں اتنا گہرا تعلق نہیں ہے۔"نئی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اصل خوفناک بھیڑیا خود واقعی بھیڑیا نہیں تھا،" ڈیوڈ میچ David Mech ، جو کہ یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں بھیڑیے کے ماحولیات اور رویوں میں مہارت رکھتے ہیں اور امریکی جیولوجیکل سروے کے سینئر ریسرچ سائنسدان ہیں، نے لائیو سائنس کو ایک ای میل میں بتایا۔
اگر ارتقاء کے لحاظ سے بات کی جائے ، تو ڈائیر وولف یا خوفناک بھیڑیے تقریباً 6 ملین سال پہلے عام بھیڑیوں کی انواع سے الگ ہو کر جدید دور کے سرمئی بھیڑیوں سے مختلف ایک مکمل طور پر الگ گروپ بناتے ہیں۔ اوٹاگو یونیورسٹی کے حیوانیات کے پروفیسر فلپ سیڈن Philip Seddon نے NZ SMC کو بتایا کہ " ڈائیر بھیڑیے اپنی نسل میں الگ ہیں، اس لیے ایک ہی انکی نسل بہت ہی مختلف نوع ہوتی ہیں۔افریقی گیدڑ کا ڈائیر بھیڑیوں سے زیادہ گہرا ارتقائی تعلق ہو سکتا ہے۔"
کسی بھی ناپید جانور کی معدومیت کو ختم کرنے کے لیے ایک زندہ جانور کے انڈے کے خلیات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جانوروں کے جینیاتی مواد کو پکڑنے اور "بڑھنے" کے لیے جو سائنسدان بنانا چاہتے ہیں، مددگار ثابت ہو۔ اس قدم کو انجام دینے کے لیے سرمئی بھیڑیوں کو منتخب کرنے کے بعد، بڑے سائنسدانوں نے پھر سرمئی بھیڑیے کے خون کے نمونوں سے خلیات اکٹھے کیے اور ان میں ترمیم کی کہ وہ ان خلیات سے مشابہت رکھتے ہیں جو وہ خوفناک بھیڑیے کے فوسلز میں پائے جاتے ہیں۔ CRISPR جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی ا استعمال کرتے ہوئے، سائنسدانوں کی ٹیم نے سرمئی بھیڑیوں کے 14 جینز میں کل وہ 20 اہم ترامیم کیں جن کی شناخت انہوں نے ڈائیر بھیڑیوں کو ان کے مخصوص خصائص دینے میں اہم قرار دی تھیں۔
اس کے بعد، اسی طرح کے عمل میں جیسا کہ 1996 میں ڈولی کی بھیڑوں کو کلون کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، سائنسدانوں نے ترمیم شدہ خلیات کے ڈی این اے کو بھورے رنگ کے مادہ بھیڑیے کے انڈے کے خلیوں میں داخل کیا، جن کا اپنا جینیاتی مواد پہلے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس مقام پر، سرمئی بھیڑیے کے انڈے کے خلیات میں وہ تمام جینیاتی معلومات موجود ہوتی ہیں جو بھیڑیوں کو بنانے کے لیے درکار بھیڑیوں کی کچھ مخصوص خصوصیات کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اس کے بعد انڈوں کے خلیوں کو لیبارٹری میں پختہ ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا، اور نتیجے میں پیدا ہونے والے ایمبریو کو گھریلو کتیائوں کے رحم میں پیوند کیا گیا، جو تکنیکی طور پر سرمئی بھیڑیے کی ذیلی نسل سےہیں۔
Colossalکے پہلے "خوفناک بھیڑیے" کے جنیاتی تیارشدہ یہ کتے، Romulus اور Remus، 1 اکتوبر 2024 کو پیدا ہوئے تھے، یعنی اب وہ 5 ماہ کے نوجوان ہیں۔ Colossal کے مطابق، انہیں 10 فٹ اونچی (3 میٹر) باڑ سے گھرا ہوا قدرتی تحفظ ایک نامعلوم جگہ میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی میں ارتقائی جینومکس اور ایپی جینیٹکس کی پروفیسر بریجٹ وون ہولڈٹ Bridgett vonHoldt نے جو اس پروجیکٹ میں کولوسل کمپنی کے ساتھ تعاون کرتی ہیں، نے لائیو سائنس کو ایک ای میل میں بتایا کہ " یہ کتے انسانی نگہداشت کے تحت ایک پرتعیش تحفظ میں اپنی زندگی گزاریں گے۔ پرجیسا کہ بہت سے لوگوں نے پہلے کلون شدہ جانوروں کے ساتھ دیکھا ہے، ان کی صحت ہمیشہ غیر متوقع اور ممکنہ تشویش کا باعث رہےگی ۔"
30 جنوری 2025 کو تیسرا پلّہ، خلیسی پیدا ہوئی تھی، جو ایک مادہ کتیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جانور کتنے خطرناک ہیں، لیکن ان کا رویہ اسیر سرمئی بھیڑیے سے ڈرامائی طور پر مختلف ہونے کا امکان نہیں ہے، خاص طور پر جب وہ مسلسل انسانوں میں گھرے رہتے ہیں۔ پروفیسر وون ہولڈ نے کہا۔ "بہت سے قیدی بھیڑیے انسانوں کے ذریعے سنبھالے جاتے ہیں۔ کچھ بالغ ہوتے ہوئے بھی اپنے انسانوں کے تابع رہتے ہیں جب کہ دوسرے زیادہ الگ تھلگ، اپنی جنگلی وحشی حالت کے جانور بھی بن جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ڈی ڈبلیو [ ڈائیر وولف] اس سے مختلف نہیں ہوں گے۔"رومولس، ریمس اور خلیسی کو جنگل میں آزاد نہیں چھوڑا جائے گا، لیکن مستقبل میں، کولوسل نے کہا ہےکہ وہ جانوروں کو "ممکنہ طور پر مقامی زمین پر محفوظ اور وسیع ماحولیاتی تحفظات" میں متعارف کرانے کے اختیارات پر غور کرے گا۔
لیکن کچھ ماہرین کو بہت شک ہے کہ یہ ابتدائی کلوننگ کامیاب ہوسکتی ہے۔ کلوسل کے ڈائریکٹر میک نے کہا، " ان بھیڑیوں کے جنگل میں چھوڑنے کی کسی قسم کی کوشش کسی منفی PR اور قانونی نتائج سے بھر پور ہو گی، جو کہ ممکنہ طور پر نئے بنائے گئے جانوروں کی کسی بھی دوسری قسم کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے ، کیونکہ ان بھیڑیوں کے ماڈرن عہد میں رویوں کے بارے میں ابھی ہم کچھ نہیں جانتے۔" خاص طور پر خوفناک بھیڑیے کے بارے میں، میک نے کہا کہ اس پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ وہ جدید ماحولیاتی نظام میں کیسے فٹ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "انہوں نے آج کے ماحول سے بالکل مختلف ماحولیاتی مقام پر قبضہ کر لیا ہے۔" سیڈن نے کہا ، "بہت سے ماہرین نےلیکن Colossal کے اعلان پر تنقید کی ہے، پر کچھ نے جانوروں کی معدومیت کو واپس لانے کے اس راستے میں کمپنی کی تکنیکی کامیابیوں کی تعریف بھی کی ہے۔ یقینی طور پر، اس میں جینیاتی ٹیکنالوجی میں پیشرفت شامل ہے، اور ان میں موجودہ اور گزشتہ انواع کے تحفظ کے لیے مزید راہ ہموار ہوسکتی ہیں،" ۔
ایک اور شدید خطرے سے دوچار انواع جو پہلے ہی Colossal کی کامیابیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے وہ ہے سرخ بھیڑیا (Canis rufus)، جو دنیا کا سب سے زیادہ معدومیت کے خطرے سے دوچار بھیڑیا ہے۔ کمپنی نے پیر کو کلون شدہ سرخ بھیڑیوں کے دو بچوں کی پیدائش کا بھی اعلان کیا، جس سے امریکہ میں قید میں رکھے گئے سرخ بھیڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ان انواع کے لیے نئی امید پیدا ہوئی۔
لیکن دن کے اختتام پر کلوسل کا یہ دعویٰ کہ اس نے خوفناک ڈائیربھیڑیے کو زندہ کر دیا ہے، جھوٹا اور لاف گزاری ہے، ایسا سیڈون اور دیگر نے کہا۔ Rawlence نے کہا کہ Colossal نے خوفناک بھیڑیے اور سرمئی بھیڑیے کے جینومز کا موازنہ اور تقابل کیا، اور تقریباً 19,000 جینوں سے، انہوں نے یہ طے کیا کہ 14 جینوں میں 20 تبدیلیوں نے انہیں ایک خوفناک بھیڑیا دیا،" راولنس نے کہا۔ یہ تعداد چند ہی مخصوص خصوصیات ان سرمئی کتوں کو ڈائیر وولف بناتی ہیں، لیکن یہ کہنا کہ یہ خوفناک بھیڑیے دوبارہ "زندہ ہوگئے" ایسا کہنا بالکل بھی مناسب نہیں۔
مزید برآں، Colossal کے "خوفناک بھیڑیے" تکنیکی طور پر دنیا کے پہلی معدومیت سے واپس جانور نہیں ہیں۔ 2003 میں، اسپین میں سائنس دانوں نے بکریوں کی ایک معدوم ہونے والی جنگلی نسل کی کلوننگ کی جسے بکارڈو، یا پائرینین آئیبیکس (کیپرا پائرینیکا پیرینیکا Pyrenean ibex (Capra pyrenaica pyrenaica)) کہا جاتا ہے۔ ایک بکری کا بچہ پیدا ہوا لیکن پھیپھڑوں میں خرابی کے باعث سات منٹ بعد ہی اس کی موت ہوگئی۔ گزشتہ پیر کو ہونے والے اعلان کا مطلب ہے کہ "ہمارے پاس Genetically Modified Organis =GMO بھیڑیے ہیں اور ایک دن GMO ایشین ہاتھی بھی ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال ان قدیم جانوروں کا معدوم ہونا واقعی ہمیشہ کے لیے ہے،" لہذا یہ دعویٰ کہ ڈائیر وولف معدومیت سے واپس زندہ ہوکر آگئے ہیں، محض ایک لاف گزاری اور مبالغہ آمیز دعویٰ ہے۔
آرٹیکل لنک

Comments
Post a Comment