جب وائرس بیکٹیریا کے دشمن بن جائیں
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
آپ کو پتہ ہے کہ بیکٹریا عام طور پر ایک ایسے یک خلیاتی جانداروں Unicellular Organisms کا ایک گروہ ہے جو کرہ ارض کے ہر جگہ موجود ہیں. انہیں جراثیم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جاندار مختلف اشکال میں ہو سکتے ہیں، اور عام طور پر چند مائیکرومیٹر لمبے ہوتے ہیں.خالی آنکھ سے یہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے، لیکن خرد بین یعنی مائیکرو اسکوپ سے انکا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیکٹریا انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے فائدہ مند بھی ہوتے ہیں اور بعض بیکٹریا انسانوں، جانوروں اور پودوں کے لیے نقصاندہ اور خطرناک بھی ہوتےہیں جو انکو مختلف بیماریوں میں مبتلا بھی کرسکتے ہیں۔
لیکن کیا آپ کو یہ بھی پتہ ہے کہ اس بیکٹریا سے بھی چھوٹے بلکہ انتہائی چھوٹے کچھ زندہ اجسام بھی پائے جاتے ہیں، جن کو وائرس کہا جاتا ہے۔ بعض سائنسدان انکو زندہ اور بے جان اشیاء کے درمیان انکو رکھتے ہیں۔وائرس یا سمیہ ایک زیر خوردبینی مجبر (obligatory) طفیلی ذرہ ہے، مجبر کے معنی لازمی کے ہیں یعنی وائرس کو زندگی برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی خلیہ (انسانی، جانور یا پودے) میں طفیلی کے طور رہنا لازمی ہے۔ وائرس حیاتی اجسام میں انفیکشن پیدا کرتا ہے، جو اس جسم جس میں وائرس اٹیک کرتا ہے، مختلف بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ وائرس کا لفظ دراصل لاطینی اور اس سے قبل یونانی سے آیا ہے جس کا مفہوم زہر ہے۔ وائرس آزاد زندگی قائم نہیں رکھـ سکتے اور یہ صرف کسی دوسرے جاندارخلیہ کا ڈی این اے یا آراین اے استعمال کرکے ہی اپنی تکرار (رپلیکیشن) کرسکتے ہیں، اسی لیے ان کو مجبر درون خلیاتی طفیلیات (obligatory intracellular parasites) کہا جاتا ہے۔ وائرس اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کو عام خوردبینوں سے بھی دیکھا نہیں جاسکتا۔ بعض وائرس بیکٹریاز پر بھی حملہ آور ہوکر انکو مار ڈالتے ہیں، ان میں ایک وائرس کی تفضیل نیچے دی گئی ہے۔ وائرسوں کی خلیاتی ساخت ایسی نہیں ہے کہ وہ لحمیاتی ترکیب (پروٹین سنتھیسس)کے ذریعے اپنی تولید کر سکیں یا اپنی کاپی بنا سکیں (اپنی تعداد میں اضافہ) کرسکیں۔ وائرس، پروکریٹوئک (prokaryotic) اور یوکریایٹوک (eukaryotic) دونوں طرح کے خلیات میں انفیکشن (بیماری) پیدا کرتے ہیں۔ بدائی المرکز خلیات (بیکٹیریا) میں عدویئت یعنی انفیکشن پیداکرنے والے وائرسوں کو بیکٹروفائج bacteriophage بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ وائرس ، بیکٹریا کے لیے ایک قاتل کا سا کام کرتے ہیں۔
ٹی فورT4 بیکٹیریوفیج، وائرس کی ایک قسم ہے جو بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی ایک عجیب شکل ہے جو کسی چھوٹے روبوٹ یا کیڑے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ تصویر ، اسی وائرس کی لی گئی تصویر ہے، جو ایک الیکٹران مائیکرو اسکوپ سے لے گئی ہے۔ اسکےسب سے اوپر کا حصہ ، اس وائرس کا سر ہے، جو وائرس کے جینیاتی مواد یعنی اسکے ڈی این اے کو رکھتا ہے۔ دم اور ٹانگ جیسے حصے، وائرس کو بیکٹیریل سیل سے منسلک کرنے اور اس کے ڈی این اے کو بیکٹریا کی باڈی میں انجیکٹ کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے وہ بیکٹیریا کے اندر دوبارہ پیدا ہوتا ہے، اور اپنے جیسے دوسرے وائرس اسکے زریعے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
یہ تصویر ایک مخصوص خوردبین، الیکٹران مائیکروسکوپ کے ساتھ لی گئی تھی، جوکہ ایک بہت ہی طاقتور ٹول ہے جو ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی دکھاسکتا ہے جو عام خوردبین سے نظر نہیں آتی ہیں۔ اصل تصویر سیاہ اور سفید ہے، لیکن سائنسدان تفصیلات کو واضح کرنے کے لیے رنگ شامل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ کسی سائ فائی فلم کی طرح لگتا ہے، یہ ایک حقیقی وائرس ہے جس کا سائنسدان مطالعہ کرتے ہیں اور بعض اوقات نقصان دہ بیکٹیریا سے لڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Comments
Post a Comment