یاداشت پر اعتماد اور اس کی درستگی
یاداشت کے حوالے سے غالبا سب سے زیادہ مشہور ریسرچ نیسر اور حارش نے 1992
میں کی، جس میں انہوں نے اس فلیش بلب میموری کو سٹڈی کیا جو خلائی شٹل چیلنجر کے
تباہ ہونے کے متعلقہ تھی۔ (فلیش بلب میموری یاداشت کی وہ قسم ہے جو کسی ناگہانی
حادثہ سے متعلقہ ہوتی ہے اور انسانی ذہن اس دوران عام واقعات کی بنسبت زیادہ
تفصیلات نوٹ کرتا ہے)۔
نیسر اور حارش نے ابتدائی سائیکولوجی کے 106 طلباء کو ایک سوالنامہ دیا جس
میں ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اس وقت چوبیس گھنٹے پہلے ہونے والے چیلنجر شٹل
حادثہ کے بارے میں کیسے سنا۔ ان سے سات مخصوص سوال پوچھے گئے کہ وہ اس وقت کیا کر
رہے تھے اور انہیں کیسا محسوس ہوا۔ ڈھائی برس بعد، انہی طلباء کو دوسرا سوالنامہ
دیا گیا اور اس سروے میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی یاداشت کو ایک سے لیکر پانچ
تک کوئی ریٹنگ یا سکور دیں۔ اس کے بعد ان سے پہلے سروے میں کیے گئے سات سوالات کے
بارے میں بھی پوچھا گیا ۔
پچھلے سات سوالات میں سے وہ طلباء اوسطا 2.95 سوال یاد کر سکے۔ ایک چوتھائی
طلباء کو سات میں سے ایک سوال بھی یاد نا آیا، اور نصف کے قریب طلباء کو دو یا اس
سے کم سوال یاد تھے۔ درحقیقت محض ایک چوتھائی طلباء کو یہ یاد تھا کہ انہوں نے
پچھلے سروے میں حصہ لیا تھا۔ کسی واقعہ کو یاد کرنے کے حوالے سے اتنی بری پرفارمنس
کے باوجود ان طلباء کا اپنی یاداشت پر اعتماد کا سکور پانچ میں سے 4.17 تھا۔
دیگر سٹڈیز سے بھی ظاہر ہوا ہے کہ یاداشت پر آپ کے اعتماد، اور اس یاد کی
درستگی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ آپ کا اعتماد اور مکمل واضح
ہونا کسی یاد کی درستگی کی علامت ہوتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ یہاں واضح سبق یہ ہے
کہ جب ہماری اپنی یاداشت کی درستگی کی بات آئے تو ہمیں عاجزی کا مظاہرہ کرنا
چاہیے۔

Comments
Post a Comment