محبت اور رقابت کا ارتقاء
پہلا حصہ
ڈاکٹر محمد طارق
تیسری صدی عیسوی میں سینٹ کارنیلیئس نے کہا تھا کہ پرندوں کی عادتیں چرچ کے احکامات سے متصادم ہیں۔ پتہ نہیں پرندوں سے کیا گناہ سرزد ہوا تھا کیونکہ عمومی مشاہدہ تو یہ تھا کہ پرندوں کی دنیا میں میاں بیوی کا رشتہ بڑا پکا ہے اور پرندے لمبا ساتھ نبھاتے ہیں۔ بے راہروی نام کو بھی نہیں ہے۔ اور پھر ہنس (Swan) تو ایک ایسا پرندہ ہے کہ جس کے وفا شعاری کی مثالیں حضرت انسان بھی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1986 کی ہالی ووڈ فلم Heartburn میں جب Meryl Streep انتہائی دکھی لہجے میں اپنے ابا سے اپنے شوہر کے افیئر کی شکایت کرتی ہے تو ابا بیٹی سے ہمدردی کرنے کے بجائے طنزیہ لہجے میں کہتا ہے "تم وفا (یک زوجیت یعنی monogamy) کی متلاشی ہو؟ تو پھر تمہیں مرد کے بجائے کسی ہنس سے شادی کر لینی چاہئے تھی(Marry a swan)"۔
اس حوالے سے برصغیر میں بھی پرندوں اور ہنسوں کے متعلق یہی تصور تھا۔ میرئیل سٹریپ کی فلم سے دو دہائی قبل 1961 میں انڈین فلم "گنگا جمنا" میں فلم کی ہیروئن کی زبانی جدائی کی اذیت بیان کرنے کیلئے جب شکیل بدایونی کو گانا لکھنا ہوا تو اس نے بھی ہنس کا ہی انتخاب کیا تھا۔ کس نے نہیں گنگنایا ہوگا بھلا ۔ ۔ "دو ہنسوں کا جوڑا بچھڑ گیو رے، گجب بھویو راما جُلم بھویو رے"۔ لتا منگیشکر کی آواز کا جادو تو تھا ہی لیکن پرندے بالعموم اور ہنس بالخصوص دنیا بھر کی طرح برصغیر میں بھی یک زوجیت اور وفا شعاری کا استعارہ تھے لہٰذا یہ علامت بے انتہا پسند کی گئی۔ گانا instant hit ثابت ہوا اور آج تک جہاں بھی سنائی دے، نیکسٹ کا بٹن شاید ہی کوئی دباتا ہو۔
ہنسوں کا یہ بھرم شاید ہمیشہ ہمیشہ قائم رہتا لیکن 80 کی دہائی میں DNA ٹیسٹ متعارف ہوا اور قانونی معاملات (forensics) میں اس کا استعمال بڑھا تو بچوں کی ولدیت سے متعلق مقدمات میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ نے اپنی بھرپور افادیت ثابت کی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ابھی لوگ انسانوں سے مکمل طور پر نمٹ نہیں پائے تھے کہ سینٹ کارنیلیئس کے پیروکار (مزاح مقصود ہے) کسی منچلے محقق کو ہنسوں کی یک زوجیت کی تصديق کا شوق ہوا اور اس نے وسیع پیمانے پر ہنسوں کی ولدیت کو جانچنے کا تہیہ کر لیا۔ چنانچہ ہنسوں کے کئی خاندانوں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے۔ ہونا کیا تھا؟ 90 فیصد ہنس بچے جس جوڑی کیساتھ تھے ان میں صرف ماں ہی ان کی حقیقی تھی ابا کہیں اور تھا۔ یہ ایک بہت بڑا انکشاف تھا جس نے ہمارے سینکڑوں ہزاروں سال کے مشاہدے کو چیلنچ کیا (جو آپ دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ واقعی ویسا ہی ہو!) چنانچہ اس تحقیق کے نتائج کی توثیق کیلئے ہنسوں کے علاوہ باقی پرندوں کی وفا شعاری کا بھی ٹیسٹ لیا گیا۔ یہاں بھی نتیجہ وہی نکلا اور 90 فیصد کے قریب بچوں کے ابا وہ نہیں تھے جو وہ (یا ہم مشاہدہ کرنے والے) سمجھتے تھے۔ یعنی،
پھر یوں ہوا کہ DNA کا ٹیسٹ آ گیا
اور یوں ہوا کہ عزتِ طیور بھی گئی
یعنی پرندے بھلے سماجی طور پر یک زوجی (monogamous) ہیں لیکن جنسی طور پر کثیر زوجی (polygamous) ہیں۔ اگرچہ رہتے ایک ساتھ ایک ہی جوڑے کی صورت میں ہیں لیکن (مردوں کی طرح) یہاں وہاں دیکھتے رہتے ہیں۔ اور ان کی یہ تانک جھانک کامیاب بھی ہوتی رہتی ہے۔ جب اتنے معصوم پرندے بھی دھوکے باز نکلے تو... اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی، اور... غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا! وغیرہ وغیرہ.
اعتبار کرنے سے بہتر تھا کہ (سوتے نہیں تو کم از کم جاگتے میں) ایک آنکھ کھلی رکھی جائے۔ یعنی بندے/بندی کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے، جاسوسی کی جائے، شک کیا جائے اور جتنا ہو سکے پاس نہیں تو ساتھ رہا یا رکھا جائے۔ فاصلے (بہرحال) حقیقی ہوتے ہیں اور دور ہونے سے فرق تو پڑتا ہے (عقل سچی ہے عشق جھوٹا ہے)۔ ہر ایک جذبہ کسی نہ کسی عمل کا محرک ہوتا ہے۔ اور محبوب کی جاسوسی سے لیکر اس کے حوالے سے possessive ہونے تک، یہ سب انسان سے جو جذبہ کراتا ہے وہ محبت نہیں رقابت ہے۔ قربت کی شدید خواہش ایک دوسرے پر اعتبار کی نشانی نہیں بلکہ باہمی شک اور عدم تحفظ (insecurity) کی غماز ہے۔آخر کو ہر جاندار کی جبلت میں یہی ہے کہ وہ اگلی نسل میں اپنے جینز منتقل کرنا چاہتا ہے۔ بے وفائی صرف جذباتی معاملہ نہیں، نسل کے تسلسل کا سوال ہے۔ ایسے میں possessive ہونا چوائس نہیں مجبوری ہے۔ کیا کیا جائے!
~ جاری ہے۔

Comments
Post a Comment