جینیٹکس کی تھیوریز: ماضی سے حال تک
پہلا حصہ
ڈاکٹر محمد طارق
جینیٹیکس کی ابتداء کہاں سے ہوئی، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ جس نامعلوم شخص نے پہلی بار غور کیا تھا کہ بچوں اور والدین کی شکل میں مماثلت پائی جاتی ہے، اسے اس شعبے کا گمنام بانی کہا جا سکتا ہے۔ بہر حال فیثاغورث (#Pythagoras) کو یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے پانچ ساڑھے پانچ سو قبل مسیح میں اس مماثلت کے مشاہدے کو بنیاد بنا کر اور جیومیٹری کیساتھ اپنی محبت کا تڑکا دے کر ایک منظم تھیوری پیش کی۔ تکونیات کے اس عاشق کو قائمۃ الزاویہ مثلث (right triangle or right-angled triangle) کی خوبصورتی نے مبہوت کر رکھا تھا۔ آپ میں سے اکثر کو یاد ہوگا کہ اس مثلث کے اضلاع (sides) کی لمبائی بڑھانے سے وتر (hypotenuse) کی لمبائی ایک خاص تناسب سے بڑھتی ہے۔ فیثاغورث کو والدین میں دو sides اور بچے میں hypotenuse کی مماثلت نظر آئی اور اس کو بنیاد بنا کر اس نے اپنی تھیوری وضع کی جسے spermism کہا جاتا ہے۔
اس تھیوری کے مطابق وراثت کا سارا مادہ، یعنی مادۂ تولید، دراصل مرد کے جسم سے آتا ہے۔ بچے کا جسم بنانے کیلئے یہ مادہ مرد کے جسم کے تمام اعضاء میں سے گزرتا ہے اور ان سے خصوصیات "جذب" کرکے اپنے اندر جمع کرتا ہے (یعنی خصوصیات سے متعلق معلومات بذاتِ خود مادی نہیں ہوتیں)۔ مرد اور عورت کے ملاپ کے دوران یہ مادہ (Semen) رحمِ مادر میں منتقل ہو جاتا ہے جہاں عورت اس کو نو مہینے "خوراک" مہیا کرنے کے بعد ایک بچے کی صورت میں جنم دیتی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق عورت کا بچے کی "اصل (nature)" میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کا کام مرد کی نسل کی اپنے پیٹ میں پرورش (nurture) کرنا ہے (ہم آج تک اس تصور سے نکل نہیں سکے۔ آج بھی نسل ابا کی نسل سے ہی چلتی ہے)۔ فیثاغورث پدرسری (Patriarchy) سے متاثر تھا یا فیثاغورث نے پدرسری کو تقویت دی، یا شاید دونوں باتیں کسی حد تک درست ہیں، یہ چائے کی میز پر سوشل سائنسز کے طلباء کیساتھ (ان کے خرچے پر) بحث کیلئے ایک اچھا موضوع ہوگا۔
لیکن مسئلہ صرف پدر سری نہیں ہے۔ فیثاغورث کا خیال تھا کہ جس طرح ایک مثلث (triangle) کا قائمہ زاویہ (right angle) بنانے والے sides کی لمبائیاں اس کے وتر (hypotenuse) کی لمبائی متعین کرتی ہیں، بالکل ویسے ہی بچوں کے کردار اور نشونما کا تعین باپ کی خصوصیات (جہاں سے وراثتی مادہ آتا ہے) اور ماں کی صحت (جہاں بچہ پرورش پاتا ہے) متعین کرتی ہیں۔ یعنی اگر "درست" ماں باپ کا انتخاب کیا جائے تو "اچھے" بچوں کی پیدائش یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ گویا نسل پرستی کو سائنسی جواز فراہم کرنے (#Eugenics) کی ابتداء بھی یہیں سے ہوگئی تھی۔ قریباً سو سال بعد جب افلاطون نے The Republic لکھی تو اس نے فیثاغورث کی تھیوری سے استفادہ کرتے ہوئے تجویز کیا کہ اشرافیہ کیلئے قانونِ پیدائش سے واقفیت لازمی ہے تا کہ اچھے دلہا اور دلہن کو صحیح وقت پر "اکٹھا" کیا جائے ورنہ بچے نہ تو تعداد میں کافی ہوں گے اور نہ ہی خوش قسمت۔ اور ایسے بچے بڑے ہو کر ناکام حکمران بنیں گے۔ آسٹرولوجی میں پیدائش کے وقت کی اہمیت پہلے ہی مسلمہ تھی لہٰذا فیثاغورث کے تصور اور اس کی بنیاد پر افلاطون کے نتائج کو رد کیسے کیا جا سکتا تھا؟
اس تھیوری کے معاشرتی اثرات ایک طرف، اس میں ایک تکنیکی مسئلہ بھی تھا۔ اگر سارا وراثتی مادہ ابا کی طرف سے آتا ہے تو کچھ بچوں کی آنکھوں کا رنگ ماں پر کیوں جاتا ہے؟ کسی نکتہ چیں نے بات آگے بڑھا کر پوچھا کہ اگر تولیدی مادہ مرد کے جسم کے اعضاء سے خصوصیات اکھٹا کرکے جسم بناتا ہے تو بچہ تو پھر صرف مرد ہی ہوگا، عورت کے جنسی اعضاء مرد کے جنسی اعضاء سے تو بن ہی نہیں سکتے۔ فیثاغورث کے ماننے والوں کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اس طرح کے سوالات کے جواب کیلئے ارسطو کے دور تک سناٹا تھا. وہ ارسطو جس نے یہاں تک نوٹ کیا تھا کہ کبھی کبھار دادا دادی یا نانا نانی کی کوئی جسمانی خصوصیت (جلد کی رنگت، ناک کی ساخت وغیرہ) تیسری نسل میں تو نظر آتی ہے لیکن درمیانی نسل (ماں باپ) میں نظر نہیں آتی (آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا recessive inheritance کی بناء پر ہوتا ہے)۔ قبل از مسیح کا یونان جن موضوعات اور مسائل کے بارے میں سوچ رہا تھا ہمارے ہاں لوگ ابھی بھی انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے ملک کے ماہرینِ جینیات ابھی بھی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے پھنس جاتے ہیں کہ کزن میریجز کی وجہ سے موروثی بیماریاں کیسے ہوتی ہیں۔



Comments
Post a Comment