سیارچہ 33 پولی ہائمنیا: کائنات کے پوشیدہ عناصر
تحریرو تحقیق: حمیر یوسف
فلکیات دانوں اور طبعیات دانوں کایہ خیال ہے کہ سیارچہ ، پولی ھائیمنیا 33 Polyhymnia کچھ ایسے عناصر بھی اپنے انددر رکھتا ہے
جو کیمیائی عناصر کے دوری جدول periodic table ، جسکوآج ہم جانتے ہیں، کے علاوہ ہیں۔ مطلب ہماری کائنات میں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں، جنکے بارے میں ہم نہیں جانتے۔ آپ کے لیے اطلاعا عرض ہے کہ ہمارے موجودہ پیراڈک ٹیبل میں کل 118عناصر موجود ہیں جن میں 94 عناصر ہماری زمین پر قدرتی حالت میں موجود ہیں، بقیہ 24 انسان نے مصنوعی طور پر لیب میں بنائے ہیں
ایریزونا یونیورسٹی میں طبیعیات دانوں کی طرف سے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بعض سیارچے، بشمول کچھ غیر معمولی کثیف اور ٹھوس سیارچے 33 پولی ہائمنیا، موجودہ دوری جدول کے علاوہ پائےجانے والے عناصر کو م اپنے اندر رکھ سکتے ہیں۔
ان کومپیکٹ الٹراڈینس آبجیکٹ (CUDOs) میں بڑے پیمانے پر عناصر کی کثافت موجود ہے جو ایک عنصر آسیئم osmium کو پیچھے چھوڑتی ہے، جو کہ سب سے زیادہ کثیف اور مستحکم معلوم عنصر ہے، اور یہ سیارچے انتہائی بھاری عناصر پر مشتمل ہو سکتے ہیں جن کے ایٹمی نمبرز، زمین پر مصنوعی طور پر تیار شدہ عناصرسے کہیں زیادہ ہیں۔ واضح رہے ، ایٹمی نمبرز دراصل کسی بھی ایٹم میں موجود نیوکلیس کے اندر پروٹانوں کی تعداد ہوتی ہے، جس میں ایٹم اپنی گراؤنڈ اسٹیٹ میں اتنےہی الیکٹران کی تعداد رکھتا ہے۔ یعنی نیوٹرل حالت میں پروٹانوں اور الیکٹرانوں کی تعداد برابر ہوتی ہے۔
جدید کیمیائی اور طبعیاتی ماڈلنگ کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے جیسے کہ اضافیت کے Thomas-Fermi ماڈل، کے زریعے محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ جوہری نمبر 164 کے قریب عناصر میں 36.0 اور 68.4 g/cm³ کے درمیان بڑے پیمانے پر کثافت ہو سکتی ہے، اور یہ ممکنہ طور پر 33 پولی ہائمنیا کی مشاہدہ شدہ انتہائی زیادہ کثافت کی وضاحت کرتا ہے۔
اگر کافی مستحکم ہو تو، یہ عناصر اس مذکورہ سیارچے کے اندر موجود ہوسکتے ہیں، جوہری اور نیوکلئیراستحکام کے بارے میں ہماری سمجھ اور معلومات کے بارے میں ایک اہم دریافت کا سبب بن سکتےہیں۔ اگرچہ ابھی ابتدائی ہے، پر یہ دریافت سائنسدانوں اور خلائی شوقینوں کو یکساں طور پر پرجوش کرتی ہے، جو ہمارے نظام شمسی میں موجود سیارچوں سے ایسے پراسرار اجزاء کی کان کنی کے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔کچھ نظریاتی ماڈل ایٹم نمبر 164 کے قریب ایک "ا یٹمی نیوکلئیر استحکام" کے گروپ کی تجویز کرتے ہیں، جسکو :استحکام کا جزیرہ island of stability کہا جاتا ہے۔ جہاں انتہائی ہیوی عناصر ان حساب کتاب سے کہیں زیادہ مستحکم ہو سکتے ہیں، جسکے بارےمیں ابھی ہمارے حالیہ ماڈل بتاتے ہیں۔

Comments
Post a Comment