66 ملین سال پرانی دریافت
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
سائنسدانوں کو ایک ایسے ڈائنوسار کا فوسل ملا ہے،جو اس دن مارا گیا تھا جس دن وہ دیوہیکل سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا، جس نے ساڑھے چھے کڑوڑ سال پہلے دنیا پر حکومت کرتے اکثریت ڈائنوسارز کا خاتمہ کردیا تھا۔سائنسدانوں نے ایک ڈائنوسار کی حیرت انگیز طور پر اس تباہی سے محفوظ ٹانگ اس خطے میں دریافت کی، جہاں یہ سیارچے زمین سے ٹکرایا تھا۔
یہ فاسل ،اس ٹانگ کے ساتھ جڑے کچھ اور اعضاء اور ان کی جلد کے ساتھ مکمل حالت میں دریافت ہوا ہے۔ یہ دریافت امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں ٹانس فوسل سائٹ سے ابھرنے والی قابل ذکر دریافتوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔
لیکن یہ صرف ان کی شاندار حالت ہی نہیں ہے جو سر گھمانے اور حیرت سے چکرانے والی ہے۔ یہ وہی دریافت ہے جس کی نمائندگی کرنے کے لئے ان قدیم نمونوں کہ پیش کیا گیا ہے، یعنی سیارچے سے زمین کے ہٹ ہوجانے کے بعد کی تباہی کا اندازہ لگانا۔
سائنسدانوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ٹانس علاقے کی یہ مخلوق اس وقت ہلاک اور اسی دن دفن ہوئی تھی جس دن ایک بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا۔66 ملین سال پہلے کا دن جب ڈائنوسار کا دور ختم ہوا اور ممالیہ جانوروں کا عروج شروع ہوا۔فاسل کی ریڈیو میٹرک ڈیٹنگ کی گئی اور اس سے یہ تفضیلات فراہم ہوئیں۔ان چٹانوں میں ڈائنوسار کی بہت کم باقیات پائی گئی ہیں جو کہ اثرات سے پہلے کے چند ہزار سال بھی ریکارڈ کرتی ہیں، مطلب کسی قدرتی طریقے سے محفوظ ہونے والے ڈائنوسارز کے علاوہ اس تباہی کے بعد ملنے والے ڈائنوز عموما اس کنڈیشن میں نہیں دریافت ہوتے۔اس تباہی سے نمونہ حاصل کرنا خود غیر معمولی حالت کو ثابت کرتا ہے۔
بی بی سی کی ایک ٹیم نے تین سال، امریکی علاقے ٹانس میں گزارے، جو 15 اپریل کو نشر ہونے والے ایک مقامی چینل کے شو کے لیے فلم بندی میں گزارے ہیں، جسے سر ڈیوڈ ایٹنبرو Sir David Attenborough نے بیان کیا ہے۔
سر ڈیوڈ ان تمام ایسی دریافتوں کا جائزہ لیں گے، جو سیارچے کی تباہی کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے محفوظ ہوکر اپنی فاسلائزڈ حالت میں بچ گئی تھیں۔ ان میں سے بہت سی ایسی دریافتیں ہوں گی جو پہلی بار عوامی سطح پر دیکھنے کو ملیں گی۔اس ڈائنوسار کی ٹانگ کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی مچھلیاں بھی ہیں جنہوں نے آسمان سے سیارچے اور مختلف شہاب ثاقب کی بارش ہونے کے بعد متاثر کن ملبے میں اپنی آخری سانس لی، اور مر کر فاسل بن گئیں۔ ان فاسلوں کا دیکھ کر ہمیں اس آنے والی تباہی کا اندازہ ہوتا ہے جو ڈائنوسارز کے زوال کی داستان بن گیا۔

Comments
Post a Comment