سب سے قدیم ریکارڈڈ سورج گرہن
تحریرو تحقیق: حمیر یوسف
ہم زمین پر سورج گرہن و چاند گرہن جیسے فلکیاتی مظاہر سے اچھی طرح واقف ہیں اور یہ کیوں ہوتے ہیں، انکے بارے میں بھی آج اچھی طرح جانتے ہیں۔
سورج گرہن کو قدیم و جدید سب مذاہب میں اپنے دیوتا اور بھگوان کی نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعض مذاہب اسے منحوس سمجھتے ہیں اور بعض کے نزدیک یہ دیوتاؤں کے ناراض ہونے کی نشانی ہے۔حالانکہ سائنسی اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔ سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے سائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔
انسانی تاریخ میں بہت ساری جگہوں پر سورج و چاند گرہن کے دیکھے جانے کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں اور تقریبا تمام ہی خطوں اور تہذیبوں نے اس آسمانی واقعے کو ریکارڈ کیا ہے۔ لیکن کیا آپکو پتہ ہے کہ سب سے پرانا سب سے قدیم سورج گرہن کسی بھی علاقے میں ہونے کا مصدقہ تاریخی ریکارڈ کب کا اور کہاں کا ہے؟ تو آئیے آپکی معلومات میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ کا پہلا ریکارڈ شدہ سورج گرہن 3 مئی 1375 قبل مسیح کو میسوپوٹیمیا میں ہوا۔ یہ تاریخ قدیم میسوپوٹیمین کلینڈر کو آج کی تاریخ میں تبدیل کرکے حاصل ہوئی۔ لیکن یہ تاریخ جزوی طور پر درست ہے، چند مزید باتیں یہاں کہی جاتیں ہیں۔
سب سے پہلے تصدیق شدہ سورج گرہن کا ریکارڈ اب تک بے شک وہی پایا جاتا ہے جسکی تاریخ اوپر بتائی گئی ہے، جو میسوپوٹیمیا (قدیم عراق، شام اور ایران کے کچھ علاقے) کی ایک جگہ یوغرت گرہن Ugarit Eclipse کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یوغرت حالیہ موجودہ شام کے نزدیک ایک جگہ کا نام ہے، جہاں قدیم ترین تہذیب کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔
کچھ اسکالرز نے اصل میں اس گرہن کی تاریخ 3 مئی 1375 قبل مسیح بتائی تھی لیکن بعد میں تحقیق نے تجویز کیا کہ 5 مارچ 1223 قبل مسیح زیادہ درست تاریخ ہو سکتی ہے۔لیکن جگہ کا تعین وہی ہے جو پہلے تھا۔
تاریخ میں چند اور سورج گرہن کے واقعات ہمیں نظر آتے ہیں۔قدیم چینی اور بابلی ریکارڈز میں چاند و سورج گرہن کے حوالے سے اس سے بھی پرانے حوالہ جات موجود ہیں، لیکن ان کی صحیح تاریخوں اور تشریحات پر بحث ہوتی ہے، اور انکا کلیم تاریخ دانوں اور اسکالرز میں متنازعہ مانا جاتا ہے۔مثال کے طور پر، میسوپوٹیمیا کے سورج گرہن کے واقعے سے تقریباً ہزار سال پہلے 2137 قبل مسیح کا ایک چینی ریکارڈ (زیا خاندان Xia Dynasty کے دور میں) سورج گرہن کی شہادت دیتا ہے، لیکن اس کی صداقت غیر یقینی ہے، یہ خبر انٹرنیشنل کمیونٹی میں متنازع ہے۔
میسوپوٹیمیا (بابلی اور آشوری) لوگ ماہر فلکیات تھے اور چاند و سورج گرہن کے تفصیلی ریکارڈ رکھتے تھے، خاص طور پر انکی مذہبی داستان جو کائنات کی پیدائش کے بارے میں بتاتی ہے "انوما انو اینلل Enuma Anu Enlil " اسکی مٹی کی تختیوں سے بنے ہوئے ریکارڈز میں یہ تفضیلات مل جاتی ہیں۔
قدیم چین کا سب سے پرانا سورج گرہن کا مصدقہ ریکارڈ آیانگ کا کہلاتا ہے، جو 1302 قبل از مسیح میں ریکارڈ ہوا تھا۔یہ سورج گرہن ایک اوریکل ہڈی (وہ جانوروں کی ہڈیاں، جس سے مذہبی پروہت کچھ مذہبی احکامات نکالا کرتے تھے) پر لکھا ہوا ہے اور "سورج کو کھانے والے تین شعلے" بیان کرتا ہے۔ لائیو سائنس نامی سائنسی جریدہ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسے مکمل سورج گرہن سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں شمسی کورونا سے نظر آنے والے اسٹریمرز جیسی علامات کی ڈسکرپشن موجود ہیں۔ مطلب یہ ایک مکمل سورج گرہن کی تفضیل بتاتا ہے۔ جبکہ 3 مئی 1375 قبل مسیح کو ہونے والا سورج گرہن، میسوپوٹیمیا (خاص طور پر یوغرت) میں ایک معروف اور تاریخی طور پر اہم واقعہ ہے، لیکن یہ سب سے قدیم ترین سورج گرہن نہیں ہے۔ یہ فرق ممکنہ طور پر 1302 قبل مسیح کے قریب چین کے شہر آیانگ میں مشاہدہ کیے گئے سورج گرہن سے تعلق رکھتا ہے۔ Ugarit سورج گرہن، جبکہ مٹی کی تختی پر اچھی طرح سے دستاویز کیا گیا ہے، کچھ محققین نے 5 مارچ 1223 قبل مسیح کو دوبارہ تاریخ دی ہے۔
یوغرت میسوپوٹیمیا کا سورج گرہن بہرحال اب تک کا سب سے قدیم سورج گرہن کا ریکارڈ مانا جاتا ہے۔
یہ سورج گرہن مٹی کی تختیوں پر میخی خط پر لکھا گیا، جسکو آگ پر پکا کر ہمیشہ کے لیے دستاویز کرلیا گیا تھا اور اس واقعہ کے دوران سورج کو "شرمناک حالت (یعنی شرم سے چھپ جانے) جیسی ہوجانے" کی تعبیر کرتا ہے۔ تاہم، NASA/ADS کا کہنا ہے کہ مزید تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ مذکورہ سورج گرہن دراصل 1223 BCE میں ہوا تھا۔

Comments
Post a Comment