ڈارک آکسیجن — سورج کی روشنی کے بغیر پیدا ہونے والی آکسیجن
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
زمین پر زندگی اور آکسیجن ، لازمی و ملزوم و جزو لاینفک ہے۔ زندگی کو برقرار رکھنےکے لیے آکسیجن لازمی چاہئے۔ ہماری زمین پر آکسیجن کی اچھی خاصی تعداد (21 فیصد) ہماری فضاء میں موجود ہے جو زمین پر حیات نمودار ہونے کے بعد اتنی تعداد میں بڑھی۔ اب تک سائنس نے ہمیں بتایا ہے کہ زمین پر جو آکسیجن کی بہت بڑی تعداد موجود ہے، وہ اس وقت سے بڑھنا شروع ہوئی جب زمین پر نامیاتی زندگی کا وجود ہوا اور فوٹو سنتھسیز جیسے عوامل اور نیلے ہرے الجی جیسے جانداروں کی وجہ سے زمین پر آکسیجن کی سطح میں اضافہ ہوا۔ ہم اب تک اسی فوٹوسنتھسز کو ہی واحد آکسیجن پیدا کرنے کا زریعہ سمجھتے رہے تھے، لیکن اب حالیہ میں گہرے سمندروں میں ہونے والے ایک کیمیائی عمل جس نے آکسیجن کو وہاں پیدا کرنا شروع کیا تھا، اس مظہر کی دریافت نے ہمارے اس سائنسی نظریے کو بدلنے پر بھی بہت حد تک مجبور کیا ہے۔
سائنسدانوں نے کلیریئن کلپرٹن زون Clarion-Clipperton (CCZ) میں بحر الکاہل کی سطح سے 4,000 میٹر نیچے "ڈارک آکسیجن" نامی ایک عجیب و غریب واقعہ ہوتے ہوئے پایا اور مشاہدہ کیا ہے۔گہرے سمندر کے اندر پیدا ہونے والی یہ آکسیجن، سورج کی روشنی کے بغیر ، کسی ضائی تالیف یا فوٹو سنتھییس کے بغیر پیدا ہوتی ہے، اس خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ زمین پر آکسیجن پیدا کرنے کا واحد طریقہ فوٹوسنتھیس ہے۔
یہ سمندری آکسیجن، ایک مخصوص کیمیائی عمل جو پولی میٹالک نوڈولس سے ہوتا ہے، اس سے آتی ہے۔ یہ پولی میٹالک نوڈولس polymetallic nodules سمندری فرش پر معدنیات سے بھرپور ایک ایسی فارمیشن ہوتی ہیں ،جس میں نکل اور کوبالٹ جیسی دھاتیں ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ نوڈول "جیو بیٹریز" کی طرح کام کرتے ہیں، جو تقریباً 0.95 وولٹ کا قدرتی وولٹیج پیدا کرتے ہیں جو سمندری پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرتا ہے۔یعنی ایک طرح سے وہاں آب پاشیدگی کا عمل ہورہا ہے۔
زمین پر آکسیجن کے پیدا ہونے کا ارتقاء ، ایک کیمیائی عمل کے ذریعہ ڈائیٹومک آکسیجن (O₂) پیدا کرنے کا کیمیائی عمل ہے، عام طور پر پانی سے ہوتا ہے، پانی جو کائنات میں سب سے زیادہ وافر آکسائیڈ مرکب ہے، اور ایک اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پوری کائنات میں پانی، بہت کثرت سے پایا جاتا ہے۔ زمین سےبارہ ارب نوری سالوں کے فاصلے پر ایک کواسار کے گرد ایک بادل جیسے اسٹرکچر پر زمینی پانی سے قریبا 140 گنا زیادہ پانی پایا جاتا ہے ۔ زمین پر آکسیجن کا ارتقاء بائیوٹک آکسیجنک فوٹو سنتھیسز، فوٹو ڈسوسی ایشن، ہائیڈرو الیکٹرولیسس، اور مختلف آکسائیڈز اور آکسیسڈز کے تھرمل تحلیل و ڈی کمپوزیشن سے متاثر ہوتا ہے۔ جب صنعتی طور پر نسبتاً خالص آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، تو اسے مائع ہوا کشید کرکے الگ کیا جاتا ہے۔ اسکا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ جہاں پانی کے پائے جانے کا امکان ہے، وہاں اکسیجن کے پائے جانے کا بھی روشن امکان ہوسکتا ہے۔
حالیہ میں ہونے والی یہ دریافت ہماری سمجھ اور کائنات کے سمجھنے کے ہمارے مفہوم کو تبدیل کر سکتی ہے کہ زمین پر ایروبک زندگی کیسے شروع ہوئی اور ان نازک سمندری خطوں میں گہرے سمندر کی کان کنی کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں خدشات پیدا کر سکتی ہے۔ ساتھ میں یہ بات بھی ہمارے سائنسی معلومات میں اضافہ کردیتی ہے کہ کائنات میں جہاں پانی کے وسیع زخائر پائے جانے کے شواہد پائے جاتےہیں، وہیں آکسیجن کے بھرپور زخائر بھی مل سکتے ہیں۔ یعنی پانی اور اکسیجن، دونوں شانہ بشانہ چل رہی ہوتی ہیں۔ اس بات کا اگر مزید آنے والے دور میں ثبوت مل جائے، تو انسان کو خلائی سفر کرنے اور خلائی کالونیاں بنانے میں آسانی حاصل ہوگی۔

Comments
Post a Comment