نرم غذا نے ہماری زبان بدل دی
تحریرو تحقیق: حمیر یوسف
آج سے قریبا 15 سے 20 ہزار سال قبل انسانی معاشرہ جب ایک شکاری معاشرے سے زرعی معاشرے میں تبدیل ہوا تو نہ صرف اس کی تہذیب و سوشل رویے میں تبدیل ہوئی بلکہ انسان کی زبان سے نکلنے والے کچھ نئی آوازوں کا بھی اضافہ ہوا، جس سے مختلف الفاظوں کو انسان کو ادا کرنے میں سہولت ہوگئی۔
جب سے ہمارے قدیم آباؤ اجداد نے نرم ، آگ پر پکی ہوئی غذا کا استعمال کرنا شروع کیا، تو ہماری قدیم زمانے میں زبان یا بول چال میں "ایف ، ف" اور "واؤ، و ، ڈبلیو یا وی " جیسی آوازوں کا استعمال بڑھ گیا، نرم غذا کی ہی وجہ سے اور 'f' اور 'v' کے تلفظ کرنے کی صلاحیت دی۔
جب قدیم انسانوں نے دنیا میں زراعت کے پھیلاؤ کے بعد نرم تیار شدہ کھانوں کی طرف رخ کیا تو وہ اپنے دانتوں پر کم پریشر ڈالتے تھے جسکی وجہ سے انکے دانت کم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے تھے۔ غذا کی اس تبدیلی نے ان کے جبڑوں کی نشوونما کو تبدیل کر دیا، جس سے بڑوں افراد کے برعکس انکے بچوں میں حد سے کم غذا کاٹنے کا ایک نیا معمول بن گیا، اور ہمارے پچھلے دانتوں کی شکل و شباہت میں تبدیلی آنے لگی۔ چند ہزار سالوں کے اندر، ان معمولی اوور بائٹس نے کاشتکاری کی ثقافتوں میں لوگوں کے لیے (اردو کا ' ف')"f" اور (اردو کے 'واو') "v" جیسی آوازوں کو پیدا کرنا آسان بنا دیا، جس سے نئے الفاظ کی دنیا کھل گئی، اور نت نئے الفاظ ہماری قدیم آوازوں میں شامل ہونے لگے۔
ان نئے پسندیدہ کنسوننٹس، جنہیں labiodentals کہا جاتا ہے، نے کم از کم 4000 سال پہلے یورپ اور ایشیا میں زبانوں کے تنوع کو فروغ دینے میں مدد کی۔ سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف زیورخ میں ماہر لسانیات اور سینئر مصنف بالتھاسر بکل Balthasar Bickel کے مطابق، انہوں نے تقریباً 1500 سال پہلے پروٹو-انڈو-یورپی لفظ patēr (پاٹر) کو پرانے انگلش "فاڈر، فادر faeder "میں تبدیل کرنے جیسی تبدیلیوں کا باعث بنا۔ پروفیسر بکل کے اس مقالے سے پتہ چلتا ہے کہ " یہ ثقافتی تبدیلی، ہماری لسانی حیاتیات کو اس طرح سے تبدیل کر سکتی ہے کہ یہ ہماری زبان کو متاثر کرتی ہے،" نیو یارک کے اسٹیٹ یونیورسٹی کے نظام کا حصہ، بفیلو میں یونیورسٹی کی ارتقائی مورفولوجسٹ نورین وان کرامون-تابادل Noreen Von Cramon-Taubadel کہتے ہیں، جو اس مطالعہ کا حصہ نہیں تھے۔
اس نتیجے پر سائنسدان ایسے پہنچے کہ سب سے پہلے، چھ محققین نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کمپیوٹر ماڈلنگ کا استعمال کیا کہ زیادہ دانتوں کو آپس میں بولتے وقت کاٹنے سے، لیبیوڈینٹل تیار کرنے میں دانت کے ایک کنارے سے کنارے کاٹنے کے مقابلے میں 29 فیصد کم محنت لگتی ہے۔ پھر، انہوں نے دنیا کی زبانوں کی چھان بین کی اور پایا کہ قدیم شکاری اور مویشی جمع کرنے والے افراد کی والی زبانوں میں، کاشتکاری معاشروں کی زبانوں کے مقابلے میں صرف ایک چوتھائی لیبوڈینٹل ہوتے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے مختلف قدیم زبانوں کے درمیان آپسی تعلقات کو دیکھا، اور اس کمپیوٹر ماڈل کے زریعے یہ پتہ چلا کہ لیبیوڈینٹل اس وقت تیزی سے کسی لینگوئج میں تیزی سے پھیل اور استعمال ہوسکتے ہیں، جب زراعت کے زریعے نرم غذا کا استعمال قریبا 8000 سالوں میں زراعت کے وسیع پیمانے پر اپنانے اور کھانے کی پروسیسنگ کے نئے طریقوں جیسے آٹے میں اناج پیسنے کا رواج بڑھ گیا۔ اسکے بعد سے ایسی آوازیں (یعنی ایف اور وی کی آواز) نایاب سے عام ہو سکتی ہیں۔
بیکل بتاتے ہیں کہ، جیسے جیسے زیادہ بالغ انسانوں نے اپنے دانتوں کی مدد سے اوور بائٹس تیار کیں، انہوں نے اپنی بول چال میں غلطی سے "f" اور "v" کی آوازوں کا زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ قدیم ہندوستان اور قدیم روم میں، بول چال میں لیبیوڈینٹل، ایک معاشرتی حیثیت کا نشان رہے ہوں گے، جو انکے ایک معتدل خوراک اور دولت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ تلفظ دیگر زبانوں کے گروہوں میں بھی پھیلتے ہیں۔ اور یہی تلفظ آج، 76% ہند-یورپی زبانوں میں ظاہر ہوتے ہیں، اور تمام انڈو آرین زبانوں میں ایف اور واؤ جیسے الفاظ کی آوازیں ملتی ہیں۔
لیکن اس نظریے کی مخالفت میں یہ باتیں کہی جاتی ہیں
- کچھ ماہر لسانیات کا لیکن یہ کہنا ہے کہ غذائی پہلو یا صرف انسانی حیاتیات نےنہیں بلکہ ثقافتی ارتقاء نے یہ آواز کی صوتی تبدیلیاں کیں، اور انسان fاور v جیسی آوازیں نکالنے کا آغاز کیا۔
- آج بھی مختلف خطوں میں انسانی آبادی کی تمام زبانیں "f" اور "v" آوازیں استعمال نہیں کرتی ہیں، حالانکہ زرعی پیداوار اور نرم غذا کا استعمال وہ بھی کررہے ہیں۔
- یہ نظریہ ایک قابل قدر تو نظر آتا ہے لیکن اسی عالمی طور پر تمام سائنس دان،انتھروپولوجسٹ اور ماہرین لسانیات کی جانب سے قبول نہیں کیا گیا ہے۔
مزید معلومات کے لیے آپ اس لنک کو اسٹڈی کریں۔

Comments
Post a Comment