شعور کیا ہے؟ انسان اور جانوروں میں شعور کے درجے
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
شعور یعنی consciousness کا مطلب ہے کسی چیز کے بارے میں جاننے اور محسوس کرنے کی حالت، جو عقل کی ایک کیفیت ہے۔ اس میں خود آگاہی، ذاتی تجربات اور دنیا کے بارے میں آگاہی شامل ہے۔ یہ بات بھی اب سائنس یقین سے جانتی ہے کہ شعور جو بھی ہے، ایک دماغی پیداوار کا ہی نتیجہ ہے، مطلب کہ شعور کسی زندہ جاندار کے اندر اسکے دماغ یا جسم کو کنٹرول کرنے والے مرکز کے طابع ہوتا ہے، بے جان اشیاء میں شعور نہیں پایا جاتا۔
شعور ، دراصل خود کے بارے میں جاننے کی صلاحیت، یعنی آپ کون ہیں، آپ کیا کر رہے ہیں، اور آپ کے خیالات اور احساسات کیا ہیں، اسکو جاننے کا بھی نام ہے۔احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت، جیسے خوشی، غم، اور تکلیف۔ اپنے ماحول سمجھنا اور اسجو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرنا، یہ بھی شعور کہلاتا ہے۔
جانوروں میں شعور ایک ایسا سوال ہے جس پر سائنسدان اور فلسفی بحث کرتے ہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جانوروں میں شعور موجود ہے، لیکن اس کی سطح انسانی شعور سے کم ہے۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ جانوروں کو اپنے ماحول کے بارے میں آگاہی ہوتی ہے اور وہ احساسات بھی محسوس کرتے ہیں۔ مختلف جانور، خود آگاہی کا شعور حاصل رکھتے ہیں، جیسے انسان کی طرح کچھ جانور، جیسے کہ بندر اور ڈولفن، خود کو آئینے میں پہچانتے ہیں، جو خود آگاہی کی ایک نشانی ہے۔ جانوروں میں احساس بھی ہوتا ہے، جانوروں کے رویوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خوشی، غصہ، اور خوف جیسے احساسات محسوس کرتے ہیں۔
زیادہ زہین جانوروں کو اپنے ماحول اور دیگر جانوروں کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کتے اپنے مالکان کو پہچانتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔شعور کا اگلا لیول، کچھ تصورات کو اپنے زہن میں رکھنا ہے جیسے کچھ جانور کچھ تصورات کو سمجھ سکتے ہیں، جیسے کہ جگہ، وقت، مختلف چیزیں اور اپنے کھانا کھانے کی جگہ وغیرہ
بابائے جدید ارتقاء، چارلس ڈارون نے اپنی ایک کتاب میں لکھا تھا کہ ’انسان اور جانوروں میں لطف اور درد، خوشی اور دکھ کو محسوس کرنے کی صلاحیت میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔‘ اور یہ ایک ایسی بات ہے جو ہم سب جو ایک پالتو جانور رکھتے ہیں، اچھے سے جانتےہیں۔کبھی کبھار تو تقریبا وہ تمام جذبات، احساسات اور رویے جو انسانوں سے مخصوص ہیں، وہ تقریبا سب ہی جانوروں میں کامن ہیں، خصوصا زہین جانور جیسے کتے، چمنزی، ڈولفن اور ہاتھی وغیرہ۔
ماہرین نفسیات اور سائنسدانوں نے بہرحال جانوروں کے شعور کو 9 درجات یا لیول میں تقسیم کیا ہے۔ درجہ اول کے شعور میں کچھ بنیادی باتیں شامل ہیں اور درجہ 9 کے شعور رکھنے والے جانور ، زہین جانور شمار کیے جاتے ہیں۔ انکی تفضیل کچھ اسطرح سے ہے۔
درجہ اول :
اس درجہ کے شعور میں، جانوروں میں اپنی بقا اور محفوظ رہنے کا اضطراری طریقہ کار ہوتا ہے اور وہ اپنی غذا حاصل کرنے کے طریقے جانتے ہیں۔ مثلاً جیلی مچھلی، کچھ آبی اور زمینی کیڑے۔ ان میں دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کی کمی ہے۔ لیکن وہ اپنے ماحول سے پوری طرح واقف ہیں۔
درجہ دوئم
اس درجے میں، جانوروں زیادہ پیچیدہ طرز عمل، اپنے مختلف اعصاب اور انکی حسی بیداری میں اضافہ کی تجویز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ مولسیکس اور آبی حشرات جیسے کیکڑے وغیرہ۔
درجہ سوئم
اس سطح میں، جانوروں کے پاس سماجی رابطے اور زچگی کے رویے ہونے کا بڑا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر تمام رینگنے والے جانور، ایمفی بینز اور کچھ پرندے اور مچھلیاں اور گھانس پھونس چرنے والے تمام جانور اس ددرجے میں شامل ہیں۔
درجہ چہارم
مختلف جانوروں میں اس قسم کی شعوری سطح منصوبہ بندی اور منظم نظم و ضبط سیکھنے کے ثبوت کی نشاندہی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر تنہا گوشت خور جانور اور ہمہ خور جانور جن میں گوشت و سبزی خور دونوں طرح کے جانور شامل ہیں۔
درجہ پنجم
مزید رویے کی لچک کو اور اپنی عادات کے مطابق مختلف ٹول کا استعمال / یا زبان کو استعمال کرنے والے جانور اس درجے میں شامل ہیں۔ مثلاً آکٹوپس اور اس کے خاندان کے افراد اور زیادہ تر پرندے جو شکار کر سکتے ہیں۔
درجہ ششم
اس درجے میں، جانوروں کے پاس مسئلہ حل کرنے اور زیادہ پیچیدہ سماجی رویے رکھنے کا ثبوت ہے۔ کسی دوسرے جانوروں کی خواہش اور ارادوں کی ممکنہ طور پر ابتدائی سمجھ رکھنا بھی ہے کہ اسکی طرف آنے والا جانور شکاری ہے یا ایک بے ضرر جانور ہے۔ مثال کے طور پر طوطے اور کتے۔
درجہ ہفتم
اس درجے میں، کسی بھی جانور کا شعوری لیول، اپنے آپ کی خود آگاہی اور طرز عمل کا ثبوت نہ صرف بقا کے طریقہ کار سے منسلک ہے۔ مثال کے طور پر ڈالفن اور ہاتھی وغیرہ۔
درجہ ہشتم
اس سطح میں، جانوروں کے ذہن کا بنیادی نظریہ، زیادہ پیچیدہ اور ایک تخلیقی رویہ ہوتا ہے۔ مثلا مختلف ایپس جیسے چمپینزی اور گوریلا وغیرہ۔
درجہ نہم (جو سب سے اعلیٰ اور بہترین درجہ ہے شعور کا)
اس اعلیٰ سطح پر، جانوروں کے ذہن ایک پیچیدہ نظریہ، اپنے ماحول کے مکمل طور پر پرکھنے ، آزمانے اور کچھ تجریدی چیزوں اور خیالات کا ادراک رکھتا ہے۔ یہ شعور کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔ انسان (ہماری موجودہ نسلیں ہومو سیپینز اور معدوم ہونے والی نسلیں جیسے نینڈرتھل وغیرہ اسی درجے میں شامل ہیں۔

Comments
Post a Comment