نارنجی شیر سبز جنگل میں چھپ کیسے جاتا ہے
تحریر و تحقیق: حمیر یوسف
ٹائیگرز (شیر، باگھ)، چند ایپس اور ہم انسانوں کو نارنجی رنگ کے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ہمارا ٹرائی کرومیٹک وژن رنگوں کی ایک وسیع رینج کو دیکھتا ہے، بشمول ان کی کھال کے نارنجی رنگ کے۔ ہماری آنکھوں کے اندر ہمارے پردہ چشم یا ریٹینا میں تین طرح کے خلیات ہوتے ہیں جو ہمیں تین مختلف طرح کے رنگ دیکھنے کی سہولت دیتے ہیں۔ سرخ، نیلا اور سبز۔ پھر انہی رنگوں کی کمبی نیشن سے ہم بہت سارے رنگوں کو مزید دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، شیر کے بہت سے شکار، جیسے ہرن اور جنگلی سؤر، ڈائی کرومیٹ ہیں، یعنی وہ صرف دو رنگوں کی ایک محدود رینج دیکھتے ہیں اور ایسے جانور جو ڈائی کرومیٹ ہوں، نارنجی کو سبز سے مؤثر طریقے سے ممتاز نہیں کر سکتے۔یعنی ان کو نارنجی رنگ ، جنگل کے ماحول میں صحیح سے دکھائی نہیں دے گا۔
ہرن اور سؤر کی آنکھوں میں ریٹینا کے کونی خلیات، نیلے اور سبز طول موج کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ ان میں سرخ-حساس کون کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ سرخ/نارنجی کو سبز سے ممتاز نہیں کر پاتے۔ اس طرح، شکار کے خیال میں شیر کی نارنجی کھال سبز پودوں میں گھل مل جاتی ہے ، اور ہرے اور سبز پودوں کے بیچ میں ایک ٹائیگر مکمل طور پر گھل مل ہوتےہوئے چھپ جاتا ہے اور اپنے ممکنہ شکار کو آخر وقت تک دھوکے میں رکھ کر اس کا شکار کرسکتا ہے۔ان جانوروں کے لیے، شیر کا نارنجی کوٹ، جو ہمیں دکھائی دیتاہے، لیکن دوسرے جانوروں کو نہیں، سبز پودوں کے ساتھ گھل مل جاتا ہے، جس سے یہ ایک مؤثر کیموفلاج بن جاتا ہے۔ یہ ارتقائی موافقت شیروں کو شکار کے دوران اپنے ماحول میں نادیدہ اور چھپنے پر رہنے کی اجازت اور سہولت دیتی ہے۔

Comments
Post a Comment