الیکٹران کتنا بڑا ہے؟ (۲)
تحریر: فصی ملک
دوسرا جواب۔ کلاسیکی الیکٹران۔
ہمیں پتا ہے کہ دو ایک جیسے چارج رکھنے والے ذرات کے درمیان دفع کی قوت(force of repulsion) ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ہم دو ایک جیسے چارج رکھنے والے ذرات کو قریب لاتے ہیں تو ہمیں خود سے قوت یا فورس لگانا پڑے گی۔فزکس کی زبان میں ایک اور تعقل (concept) ورک (work) کا ہے۔ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ جب کسی جسم پر کوئی قوت کچھ فاصلے تک عمل کرتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس قوت نے کچھ ورک کیا ہے۔ ظاہر ہے اب اگر وہ قوت ہم لگا رہے ہیں، یعنی فرض کریں کہ ہم ایک چارج کو پکڑ کر دوسرے چارج کے قریب لا رہے ہیں تو ہم کچھ ورک کر رہے ہیں۔ چوں کہ دو ایک جیسے چارجز کے درمیان دفع کی قوت ہوتی ہے تو ظاہر ہے ہمیں قوت لگا کر ہی ان چارجز کو قریب لانا پڑے گا۔لیکن جو توانائی (قوت) ہم نے لگائی وہ کہاں گئی؟ کیوں کہ توانائی ایک سے دوسرے جسم میں جا سکتی ہے، ایک سے دوسری شکل میں جا سکتی ہے لیکن کہیں غائب تو نہیں ہو سکتی۔ تو ہماری لگائی گئی توانائی کہاں گئی؟ ہم کہتے ہیں کہ وہ توانائی ان دو چارجز کے درمیان کہیں سٹور ہو گئی ہے۔ ہمیں کیسے معلوم کہ ہماری لگائی گئی توانائی ان دو چارجز کے درمیان سٹور ہو گئی ہے؟ وہ ہم ایسے دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے ہم دو چارجز کو جن ہم قوت لگا کر قریب لا چکے تھے آزاد چھوڑیں گے تو وہ ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے۔ (اسی کو آپ کہتے ہیں کہ ان کے درمیان دفع کی قوت ہے) لیکن بھاگتی چیزوں کے پاس تو حرکی توانائی(kinetic energy) ہوتی ہے تو یہ حرکی توانائی کہاں سے آئی چارجز کے پاس؟ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ جب ہم نے پکڑ کر ان کو قریب رکھا ہوا تھا تو ان کے پاس کچھ توانائی تھی جو اب ان کو چھوڑنے پر حرکی توانائی میں بدل گئی ہے۔ تو اس سے ہم نے یہ نتیجہ نکالہ کہ جب بھی ہم دو چارجز کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں تو ان میں توانائی آجاتی ہے۔
چلیں اب ہم اپنے الیکٹران کے سائز کا پتا لگانے کی طرف چلتے ہیں۔ اب فرض کریں کہ ہم ایک الیکٹران بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ ایک خیالی تجربے کا سوچیں ۔ یہ سوچیں کہ ہم الیکٹران کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کو جوڑ کر ایک مکمل الیکٹران بنانا چاہتے ہیں۔اب چونکہ یہ ٹکرے الیکٹران کے ہی ہیں تو ان پر بھی کچھ نہ کچھ ایک جیسا (منفی) چارج ہو گا۔ اور ظاہر ہے یہ چارج ایک الیکٹران کے چارج سے کم ہی ہو گا کیوں کہ ان سب ٹکڑوں کے چارج کو جب ہم جوڑیں گے، یعنی ان ٹکڑوں کو ملا کر ایک الیکٹران بنائیں گے تو ایک مکمل الیکٹران کا چارج بنے گا۔
تو اب جب ہم ان ٹکڑوں کو ایک ایک کر کے قریب لائیں گے تو جیسے میں نے اوپر بتایا کہ ہمیں ان کو قریب لانے کے لیے ورک کرنا پڑے گا جو جب ان ٹکڑوں کو ملا کر مکمل الیکٹران بن جانے کے بعد اس الیکٹران کی انرجی صورت میں سٹور ہو جائے گا۔ ہم اس انرجی کا فارمولہ لکھ سکتے ہیں اور یہ بھی بارہویں جماعت کی فزکس میں دیا ہوا ہے لیکن میں اس کو یہاں نہیں لکھوں گا۔
تو ہمارے پاس ایک الیکٹران بن گیا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس الیکٹران کو بناتے وقت ہم نے کچھ انرجی اس الیکٹران میں سٹور کر دی ہے۔ یہ سٹور شدہ انرجی کتنی ہے؟ یہاں ہم آئن شٹائن کی مشہور انرجی ماس مساوات کا استعمال کرتے ہیں جو ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ساکن جسم کی کمیت کو مساوی انرجی کی صورت میں کیسے لکھا جاتا ہے۔تو اب ہم ان دو مساواتوں کو استعمال کر کے الیکٹران کا رداس نکال سکتے ہیں اور اس رداس کی قیمت دس کی طاقت منفی پندرہ آتی ہے۔ اور یہ الیکٹران کے سائز کی وہ قیمت ہے جو غالباً بارہویں جماعت کی فزکس کی کتاب میں دی ہوئی ہے۔
تیسرا جواب۔ کامپٹن ویولینتھ
اوپر جو الیکٹران کے سائز کا اندازہ لگانے کا کلاسیکی طریقہ بتایا ہے اس میں صرف یہ مانا گیا تھا کہ الیکٹران ایک ایسا ذرہ ہے جس پر صرف چارج ہوتا ہے۔ لیکن ۱۹۲۲ میں یہ پتا چلا کہ الیکٹران کی ایک اور بھی بہت اہم خوبی ہے جس کو ہم سپِن کہتے ہیں۔یہ سپن ایک ایسی ہی خوبی ہے جیسا کہ زمین کی سپِن ہے اور اسی سپِن کی وجہ سے ہی ہم دن اور رات کا بننا دیکھتے ہیں۔ لیکن الیکٹران کی سپن اور زمین کی سپن کے اثرات مختلف ہیں۔ زمین برقی طور پر نیوٹرل ہے۔ جس کو آپ کہتے ہیں کہ زمین electrically neutral ہے۔ لیکن الیکٹران نیوٹرل نہیں ہے بلکہ اس پر منفی چارج ہوتا ہے۔ اور جب کوئی چارج رکھنے والا جسم سپن کرتا ہے تو وہ مقناطیس کی طرح برتاو کرتا ہے۔ یعنی وہ مقناطیسیت پیدا کرتا ہے ۔ اس تصور کے لیے میں پھر سے آپ کو بارہویں جماعت کی فزکس کے دورے پر لے جاتا ہوں جہاں آپ پڑھتے ہیں کہ جب کسی برقی تار کو دائرے کی صورت میں موڑ کر اس میں سے کرنٹ گزارا جائے تو وہ مقناطیسی میدان یا magnetic field پیدا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جب الیکٹران سپن کرتا ہے تو وہ بھی اپنا ایک مقناطیس پیدا کرتا ہے اور اس مقناطیس کو ماپا جا سکتا ہے(تجرباتی طور پر جس چیز کی پیمائش کی جاتی ہے وہ الیکٹران کی magnetic moment کہلاتی ہے اور جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ الیکٹران کی سپن حرکت کی وجہ سے کتنا مقناطیسی میدان پیدا ہو رہا ہے)۔
اب واپس زمین کی سپن والی تمثیل کی طرف آتے ہیں۔ جب زمین سپن کرتی ہے تو اس کے مختلف حصوں پر رفتار مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ زمین کے خطِ استوا پر کھڑے ہیں تو آپ کی رفتار بہت زیادہ ہوگی اس رفتار کے مقابلے میں جو آپ شمالی یا جنوبی قطب پر کھڑے ہو کر حاصل کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے پاس یہ تصور آتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رفتار خط استوا پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب واپس الیکٹران کی سپن کی طرف آ جائیں۔ اب اگر الیکٹران سپن کر رہا ہے تو اس کا خط استوا(اصلا الیکٹران خود ہی کیوں کہ الیکٹران کا خط استوا ایک لایعنی تصور ہے) کتنی رفتار حاصل کر سکتا ہے؟ اب ایک لمحے کے لیے اس سوال کو چھوڑ کر خود سے سوال کریں کہ زیادہ سے زیادہ کوئی جسم کتنی رفتار حاصل کر سکتا ہے؟ اور جواب ہے رفتارِ نور۔ یعنی روشنی کی رفتار۔ یعنی اگر ہم روشنی کی رفتار کی قیمت کا استعمال کر کے الیکٹران کا سائز کی پیمائش کریں تو ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ سائز آجائے گا۔ یعنی اس سے کم تو ہو سکتا ہے لیکن زیادہ نہیں۔ اور اس طرح ہم پھر سے الیکٹران کی میگنیٹک مومینٹ کا فارمولہ نکال سکتے ہیں جو اوپر نکالے گئے فارمولے سے مختلف ہے۔ جب ان دو فارمولوں کو برابر رکھ کر الیکٹران کے رداس کا فارمولہ نکالتے ہیں تو وہ بارہویں جماعت کی فزکس کی کتاب میں موجود ایک فارمولے کے برابر آتا ہے جسے کامپٹن ویو لینتھ کہتے ہیں اور اس کی قیمت دس کی طاقت منفی بارہ میٹرکے برابر ہوتی ہے۔
لیکن رکیں۔ ہم تو رداس کا فارمولہ نکالنے چلے تھے لیکن ہم نے تو ویولینتھ کا فارمولہ نکال لیا ہے۔ ہو کیا رہا ہے؟آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ شروع میں ہی میں نے کہا تھا کہ اتنے چھوٹے ذرات یا بنیادی ذرات کے سائز کی بات کرنا بذاتِ خود ایک لایعنی بات ہے۔ بلکہ ان کے ساتھ دوسری خصوصیات منسلک کی جاتی ہیں۔ میں نے اوپر ویو فنکشن کی بات کی تھی جو یہ بتاتا تھا کہ الیکٹران دو نقاط کے درمیان ہو سکتا ہے۔ یہاں کامپٹن ویو لینتھ بھی یہی بتا رہی کہ الیکٹران کو اس لمبائی جتنے رداس میں مقید کیا جا سکتا ہے۔
(جاری ہے)
تیسرے حصے کا لنک:

Comments
Post a Comment