ارتقاء کی تھیوریز(دوسرا حصہ)

 

ارتقاء کی تھیوریز
Fixism سے Natural Selection تک

تحریر: ڈاکٹر محمد طارق

دوسرا حصہ: Comte de Buffon 

تو یہ بات کہ جانداروں میں زمان و مکان کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے، کوئی نئی بات نہیں تھی۔ لیکن اس پر منظم اور واضح انداز میں بات کسی نے نہیں کی تھی۔ الجاحظ نے بھی نہیں۔ اگرچہ ارسطو نے Scala Naturae میں تمام چیزوں (یا زندگی کی اقسام کو) مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا تھا، لیکن یہ بھی کہا تھا کہ ہر چیز کے اندر ادنٰی سے اعلٰی میں بدلنے کی خواہش موجود ہے۔ یونانی فلاسفہ کے ہاں زندگی کا منبع ایک ہونے کے حوالے سے نظریات بھی موجود تھے۔ کسی کا خیال تھا کہ ہرقسم کی زندگی پانی سے پیدا ہوئی ہے تو کوئی ہوا کو زندگی کا مشترکہ منبع مانتا تھا۔ ارسطو اور کئی دوسرے یونانی فلاسفہ تو بے جان اشیاء سے جانداروں کی پیدائش کے بھی قائل تھے۔ ان سب باتوں کو باہم ملا کر دیکھیں تو قدیم یونان میں ارتقاء کا تصور، مبہم ہی سہی، موجود تو تھا لیکن کوئی منظم تھیوری یا وضاحت دستیاب نہیں تھی۔ مثلاً ان کے پاس اس بات کی وضاحت نہیں تھی کہ جانداروں میں اعلٰی بننے کی خواہش کیوں/کیسے ہے اور وہ اس خواہش کی تکمیل کیسے کرتے ہیں۔ کیا وہ واقعی ادنٰی سے اعلٰی بن بھی جاتے ہیں؟ کیسے بنتے ہیں؟ اس کے کوئی شواہد ہیں؟ بے جان اشیاء سے جاندار کب یا کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ 

میرے خیال میں اگر ارتقاء کی جدید ترین تھیوری، نیچرل سلیکشن، کی بنیاد کسی نے رکھی ہے تو وہ فرانسیسی نیچرلسٹ Comte de Buffon (1707-1788) تھے۔ ڈ بیوفاں نے اپنی مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا Histoire Naturelle میں جانداروں میں وقت کیساتھ آنے والی تبدیلی کے ضمن میں لکھا ہے کہ کتے کی ٹانگ میں جو ہڈیاں ہیں،  وہ Seal کے پَر (Flipper) کی ہڈیوں جیسی ہیں۔ اسی طرح سؤر کا پنجہ بھی باقی میملز کے پنجے کی طرح ہی ہے، لیکن زمین پر نہیں لگتا۔ ڈ بیوفاں کی یہ تکنیک (یا اپروچ) آج بھی بائیولوجی میں مستعمل ہے اور ہم اسے Comparative anatomy کہتے ہیں۔ وہ تاریخ کے پہلے محقق تھے جنہوں نے جانداروں میں وقت کیساتھ تبدیلی کو سائنسی بنیادوں پر جانچا۔ اپنے ان مشاہدات کی بنیاد پر ڈ بیوفاں نے زمین کی عمر کے بار ےمیں اس وقت کے اندازوں کو چیلنج کیا کیونکہ ان کے خیال میں زمین بائبل کے بتائے ہوئے 6 ہزار سال سے کہیں زیادہ قدیم تھی۔ انہوں نے بھٹی میں سے لوہے کا سرخ گولہ نکال کر اس کو ٹھنڈا کیا اور اس کے ٹھنڈا ہونے کے دورانئے کی بنیاد پر زمین کی عمر کا تخمینہ 75 ہزار سال لگایا (اندازہ غلط تھا لیکن 6 ہزار سال کے تخمینے کو چیلنج کرنے کے لیے دستیاب علم اور وسائل کے ذریعے ایک عملی طریقہ اپنایا گیا)۔ 

انہوں نے سائنسی مشاہدات کی تشریحات کیلئے مذہبی توجیہات اور تخمینوں کو رد کیا۔ ڈ بیوفاں کے ہم عصر سویڈیش ٹیکسانومیسٹ Carl Linnaeus (1707-1778)، جنہوں نے جدید کلاسیفیکیشن کی بنیاد رکھی، کا خیال تھا کہ جانداروں میں پائی جانے والی ترتیب (جس کی بنیاد پر انہیں کلاسیفائی کیا جاتا ہے) ایک ازلی (یا الوہی) ترتیب ہے۔ وہ ابتداء میں فکس ازم کے قائل تھے لیکن جب انہوں نے خود ہائبریڈائزیشن کے تجربات کئے تو ارتقاء کے قائل ہوگئے (تاہم ان کے ارتقاء کا تصور آج کل کے Intelligent Design جیسا تھا)۔ ہائبریڈائزیشن نے ان کی فکس ازم کو تو بدل دیا لیکن وہ ان نئے پودوں کو ازلی ترتیب کا حصہ ہی سمجھتے تھے۔ یہ اور بات کہ انہوں نے اپنی کلاسیفیکیشن میں انسان کو جانوروں کے ہمراہ رکھا (اور ڈاروِن کا کام آسان کر دیا)۔ 

ڈ بیوفاں نے کارل لینئس کی کلاسیفیکیشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سپی شیز کے درمیان موجود فرق (تبدیلیاں) اتنی نہیں ہیں کہ انہیں واضح گروپس (آرڈر، کلاس، فیملی وغیرہ) میں تقسیم کیا جائے۔ بلکہ جانداروں کے درمیان تنوع کارل لینئس کی کلاسیفیکیشن کے نسبت زیادہ ہموار (subtle) ہے۔ ان کا خیال تھا کہ لینیئس کی تقسیم سے زندگی کی تنوع کی کماحقہ عکاسی نہیں ہوتی۔ ڈ بیوفاں کا خیال تھا کہ زمین کی طرح زندگی کی بھی ایک تاریخ (history) ہے اور یہ موزوں حالات میں بے جان اجزاء سے نمودار ہو سکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ابتدائی زمین کے گرم سمندروں میں زندگی نے جنم لیا تھا اور اس وقت بے تحاشا جاندار بن گئے تھے (یعنی ان کے خیال میں تمام جاندار ایک مشترکہ جد کی اولاد نہیں تھے)۔ ان میں بڑے جانور بھی تھے جنہوں نے زمین ٹھنڈی ہونے کے بعد گرم خطوں کی طرف ہجرت کی (چونکہ اس وقت ہاتھیوں کے فوسلز سائبیریا اور شمالی امریکہ سے ملے تھے جبکہ زندہ ہاتھی افریقہ اور جنوبی ایشیاء میں ملتے تھے۔ چنانچہ یہ بات معقول لگتی تھی)۔ 

ڈ بیوفاں کے ارتقاء (زمان و مکان کیساتھ تبدیلی) کے تصور کیساتھ مسائل کیا تھے؟ وہ سمجھتے تھے کہ زندگی ایک ساتھ ہی نمودار ہوئی لیکن ہر جاندار ایک خاص نامیاتی سانچے میں بنا۔ وقت اور ہجرت کیساتھ مختلف مقامات پر نامیاتی مادے کی دستیابی میں فرق آتا ہے جس کی وجہ سے جانداروں میں تبدیلی آتی ہے (یعنی تبدیلی فطری/جینیاتی نہیں بلکہ ماحول اور خوراک کی وجہ سے آتی ہے)۔ وہ اس تبدیلی کے ذریعے کسی نئی سپی شیز کے بننے کے قائل نہ تھے بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ وقت کےساتھ ساتھ جاندار اپنے اصل سانچے سے بدلتے بدلتے زوال پذیر ہو جائیں گے (ایک طرح سے یہ ارتقاء کا الٹ تھا یعنی بچنا کسی نے نہیں، سب پھڑے جان گے)۔ وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ تبدیلی نئے مقامات پر کیسے آتی ہے؟ کیا جانداروں نے جہاں پر جنم پایا، ان کیلئے درکار نامیاتی مادہ صرف وہیں پر پایا جاتا ہے؟ 

تاہم فزیکل انتھراپولوجی میں ڈ بیوفاں کی تحقیق ان کا اہم ترین کام سمجھا جاتا ہے جس میں انہوں نے انسانوں کے مابین جسمانی اور ثقافتی تنوع کو بھی مختلف ماحول اور حالات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ 

اگرچہ آنے والے وقتوں میں ڈ بیوفاں کے زیادہ تر خیالات و نظریات غلط ثابت ہوگئے (جیسا کہ زمین کی عمر کا تخمینہ، اور نامیاتی مادے کی دستیابی کے ساتھ جانداروں میں تبدیلی کے متعلق ان کا تصور) لیکن ان کا کام آنے والے محققین کیلئے مشعلِ راہ بنا۔ انہوں نے مروجہ تصورات پر انحصار کرنے کے بجائے ریسرچ کے نئے طریقہ کار وضع کئے۔ زمین کی عمر کے بارے میں ان سے پہلے کسی نے بھی مذہبی بیانیے کو چیلنج نہیں کیا تھا اور ان کی Comparative anatomy آج بھی ایک مستند طریقۂ کار ہے۔ 

ڈ بیوفاں کی جس بات نے مجھے زیادہ attract کیا وہ لینیئس کی کلاسیفیکیشن پر تنقید کرتے ہوئے جانداروں کے درمیان تبدیلی کے پروسیس کی subtlety کو recognise کرنا ہے۔ اگر ہم یہ نکتہ سمجھ سکیں تو ہمارے کئی مغالطے ختم ہو جائیں گے، مثلاً مائیکرو (micro) اور میکرو (macro) ارتقاء کا مغالطہ۔

~ جاری ہے۔

پہلے حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ لنک دیکھیے!

https://sciencekiduniyagroup.blogspot.com/2025/08/blog-post_93.html






Comments