ارتقاء کی تھیوریز
Fixism سے Natural Selection تک
تحریر: ڈاکٹر محمد طارق
پہلا حصہ: تعارف
مجھے beetle کیلئے اردو میں کوئی متفقہ نام نہیں ملا۔ یہ ایک عام کیڑا ہے جسے ہر خطے، زبان اور لہجے میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس لئے میں محترم الماس صاحب کے مشورے پر اسے اردو میں بیٹل لکھ کر کام چلا لیتا ہوں۔ اس کا وزن تقریباً 10 ملی گرام ہے۔ اگر 100 بیٹلز کو سازگار ماحول میں آزادی سے نسل بڑھانے دیا جائے تو صرف 82 ہفتوں (دو سال سے بھی کم عرصہ) میں ان کی تعداد تقریباً 61،000،000،000،000،000،000،000،000،000 ہوگی (61 کیساتھ 27 صفر)، اور وزن؟ تقریباً زمین کے وزن کے برابر۔ یعنی 61 کیساتھ 20 صفر لگالیں اتنے میٹرک ٹن ، (آپ کے ذہن میں شاید مشہور ہالی وڈ فلم The Mummy کے سین چلنا شروع ہو گئے ہوں گے)۔
دنیا میں سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں بیٹلز ہیں، لیکن ان کی تعداد آج تک اتنی نہیں بڑھ سکی جتنی اوپر بتائی گئی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ زمین پر موجود وسائل اتنی تعداد میں بیٹلز کو زندہ رکھنے کیلئے ناکافی ہیں۔ زمین کے وزن جتنے بیٹلز پیدا ہونے اور زندہ رہنے کیلئے زمین کے سارے جاندار اور بے جان وسائل کو بیٹلز میں بدلنا ہوگا، اور یہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ اور صرف بیٹلز ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر سپی شیز کا یہی حال ہے۔ محدود وسائل کی وجہ سے جانداروں کی تعداد ان کی صلاحیت کے مطابق نہیں بڑھ پاتی۔ اگر زندہ رہنا ہے، اپنی نسل بڑھانی ہے تو جتنے زیادہ وسائل تک رسائی ممکن ہو، حاصل کی جائے، ورنہ زندگی اور افزائشِ نسل سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ چنانچہ محدود وسائل میں زندہ رہنے اور اپنی نسل بڑھانے کیلئے ہر جاندار جانے انجانے میں دوسرے جانداروں کیساتھ مسابقت میں ہے۔ دستیاب حالات اور ماحول میں وسائل تک رسائی اور ان سے مستفید ہونے کی صلاحیت ہونا، اس ضمن میں پہلی شرط ہے۔ کتنی صلاحیت؟ جن کو ہرانا ہے ان سے زیادہ صلاحیت! بس۔ جس جاندار کی یہ صلاحیت جتنی زیادہ ہوگی اس کی بقا اور افزائشِ نسل کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ جن کی یہ صلاحیت کم ہوگی ان کی بقا کا امکان اسی تناسب سے کم ہوگا۔ اور جن میں یہ صلاحیت نہ ہو یا انتہائی کم ہو وہ یہ مقابلہ ہار جائیں گے (Survival of the fittest)۔
یہ یاد رہے کہ کسی زندہ خلیے (Cell) یا جاندار کے لیے بقا کا مطلب اپنی نسل بڑھانے تک زندہ رہنا ہے۔ حیاتیاتی یا ارتقائی طور پر کسی بھی جاندار کی حتمی کامیابی تولیدی طور پر کامیاب (fertile) نسل کی پیدائش، یعنی زندگی کا تسلسل ہے۔
چونکہ حالات اور وسائل جغرافیے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں، ہمیں جانداروں میں اسی حساب سے تنوع (diversity) نظر آتی ہے۔ وسائل تو وقت (زمانے) کے ساتھ ساتھ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ موسم ہمیشہ سے ایک جیسا نہیں تھا۔ براعظم کھسکتے رہے ہیں، ٹوٹتے بنتے رہے ہیں۔ تو کیا ان سب کے باوجود یہ ڈائیورسٹی شروع سے ہی ایسی رہی ہے؟ جتنی ڈائیورسٹی آج ہے پہلے بھی اتنی ہی تھی، اور اس سے پہلے بھی اتنی ہی (Fixism)؟ یا یہ ایک dynamic process ہے اور وقت (حالات) کیساتھ ساتھ ڈائیورسٹی میں تبدیلی آتی رہتی ہے (Evolution)؟
وجہ ارسطو کی Scala Naturae تھی یا افلاطون کی Theory of Forms، بہر حال قدیم یونانی جانداروں کی Fixity یا Fixism پر یقین رکھتے تھے اور یہی بعد میں یورپ میں Fixism کی بنیاد بنا۔ مسیحیت کے بیانئے میں اسی Fixism کو Creationism کہا گیا، یعنی جتنے بھی جاندار ہیں وہ ایسے ہی تخلیق کئے گئے ہیں۔ Fixism کے مطابق جانداروں کی جتنی اقسام (species) پائی جاتی ہیں ہمیشہ سے ہی رہی ہیں۔ ہر خطے اور موسم کے لحاظ سے جاندار تخلیق کئے گئے اور اس کے بعد نہ تو کوئی نئی species بنتی ہے نہ ہی ناپید ہوتی ہے۔ سب Fixed تھا اور ہے۔ اس نظریے کو کونسی چیز چیلنج کر سکتی تھی؟ جی ہاں! فوسلز۔ ناپید جانداروں کے فوسلز کی دریافت اور زندہ و موجود جانداروں کے قدیم فوسلز کی عدم دریافت۔ اگر کسی ایسے جاندار کے فوسلز ملیں جو آج کل کہیں نہیں پایا جاتا تو یہ فکس ازم کی رد ہے۔ کیونکہ اگر کچھ جاندار ماضی میں موجود تھے لیکن حال تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جانداروں کی قسمیں (تنوع) ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہیں۔
لیکن کیا فوسلز کی دریافت سے پہلے کسی کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ جانداروں میں زمان و مکان کے حساب سے تبدیلی آتی رہتی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔ الجاحظ نے آٹھویں صدی عیسوی میں اپنی کتاب 'کتاب الحیوان' میں لکھا تھا کہ بدلتے حالات کیساتھ جانداروں میں تبدیلی آتی رہتی ہے (کتاب الحیوان بائیولوجی کی کتاب نہیں تھی اور نہ ہی الجاحظ نے ارتقاء کے اوپر کوئی مفصل مضمون یا chapter لکھا تھا)۔ تاہم ناپید جانوروں کے فوسلز کی دریافت نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ جاندار ناپید بھی ہوتے ہیں۔ یہاں یہ سوال فطری ہے کہ کیوں ناپید ہوتے ہیں؟ اور جو ناپید نہیں ہوئے، آج تک موجود ہیں وہ کیسے بچ گئے؟ کیا ناپید ہونے والے اور باقی بچ جانے والے جانوروں میں کسی حوالے سے کوئی فرق تھا؟ جاندار تبدیل ہوتے ہیں؟ کتنی تبدیلی تھی؟ اس تبدیلی کی بنیاد کیا تھی؟ یہ تبدیلی کس میکانزم کے ذریعے آئی؟
سائنس کی خوبصورتی یہ ہے کہ سوالات اس کی ریسرچ کیلئے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ ان سوالات پر سوچنے کی کوشش کریں شاید آپ کے ذہن میں ان کے ممکنہ جوابات آپ کو ارتقاء کے متعلق کچھ خام مال فراہم کریں۔ میں اگلی قسط میں اسے آگے بڑھاتا ہوں۔
~ جاری ہے۔
دوسرے حصے کا لنک!
https://sciencekiduniyagroup.blogspot.com/2025/08/blog-post_18.html





Comments
Post a Comment