ارتقاء کی تھیوریز(تیسرا حصہ)

 ارتقاء کی تھیوریز
 Fixism سے Natural Selection تک 

ڈاکٹر محمد طارق 

تیسرا حصہ: Jean-Baptiste Lamarck

اٹھارویں صدی میں سکاٹش جیولوجسٹ James Hutton نے Gradualism کا تصور دیا جس کے مطابق ماضی میں زمین میں آنے والی جغرافیائی تبدیلیوں کی وضاحت اسی میکانزم سے ممکن ہے جو آج بھی اس قسم کی جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔ اس تصور کے مطابق ارضیاتی تبدیلی کا عمل بہت سست ہوتا ہے اور اب تک ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین انتہائی قدیم ہے (یہی بات ڈ بیوفاں نے کی تھی)۔ انیسویں صدی میں یہ تصور ماہرینِ حیاتیات کے ذہنوں میں سرایت کر گیا۔ تاہم چونکہ اس دور کے برطانوی ماہرینِ حیاتیات مذہبی رجحان رکھتے تھے، اس نظریے کی بنیاد پر ارتقاء کا تصور فرانس میں ہی ابھر سکتا تھا۔ چنانچہ فرانسیسی ماہرِ حیاتیات ژاں بپتیستے لمارک (Jean-Baptiste Lamarck) نے انیسویں صدی کے اوائل میں زمین کی قدامت کی بنیاد پر ارتقاء کے حوالے سے اپنا تصور پیش کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ زمین پر زندگی مختلف فطری مراحل سے ہوتے ہوئے اپنی موجودہ شکل و صورت (تنوع) تک پہنچی ہے اور یہ کسی معجزاتی عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔ یعنی ڈ بیوفاں نے جس بات کی طرف اشارہ کیا تھا لمارک نے وہ سیدھے اور کھرے انداز میں کر دی۔ 

لمارک کی ارتقاء کے حوالے سے تھیوری کو جس انداز میں آج پڑھایا جاتا ہے وہ تضحیک آمیز حد تک over simplify کی گئی ہے جبکہ لمارک نے جو اصل میں کہا (یا لکھا) تھا وہ اس سے کہیں زیادہ معقول تھا۔ اس تھیوری کے مطابق جانداروں کے ماحول میں جب کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو تبدیل شدہ ماحول میں جانداروں کی ضروریات میں اسی حساب سے تبدیلی آ جاتی ہے۔ چنانچہ ان جانداروں کے رویے پر فرق پڑتا ہے۔ یعنی اس تبدیلی کے مطابق جانداروں کو مطابقت یا ہم آہنگی پیدا کرنی پڑتی ہے۔ رویے کی اس تبدیلی کے نتیجے میں جانداروں میں متعلقہ اعضاء کا استعمال بڑھ سکتا ہے یا کم ہو سکتا ہے۔ استعمال بڑھنے سے ایک عضو کی جسامت بڑھ جاتی ہے جبکہ استعمال کم یا ترک ہونے کی صورت میں متعلقہ عضو کی جسامت کم ہو جاتی ہے یا وہ بالکل ہی غائب ہو جاتا ہے۔ اسے law of use and disuse کہا جاتا ہے اور لمارک نے 1808ء میں لکھی گئی اپنی کتاب Philosophie zoologique میں اسے اپنا پہلا قانون کہا۔ لمارک کے دوسرے قانون کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں جانداروں میں ہونے والی تبدیلیاں اگلی نسلوں میں منتقل (heritable) ہوتی (ہو سکتی) ہیں۔ ان دو قوانین کے نتیجے میں جاندار ایک مسلسل اور بتدریج تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہوئے مسلسل اپنے ماحول کیساتھ مطابقت پیدا کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی شکل و صورت اور فزیولوجی میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ یعنی لمارک کی تھیوری کے مطابق ارتقاء کو تحریک ماحول اور جانداروں کی فزیولوجی کے درمیان interaction سے ملتی ہے۔ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو کیا ڈارون نے بھی یہی نہیں کہا تھا (یہ ہم اگلے حصے میں پڑھیں گے)؟ اس میں ایسی تو کوئی بات نہیں کہ لمارک کی تھیوری کو استہزائیہ انداز میں پڑھایا جائے۔

لمارک کی تھیوری کی وضاحت کیلئے نصابی کتب میں سب سے مشہور مثال زرافے کے قد یا گردن کی لمبائی میں اضافے کی دی جاتی ہے۔ جب زرافے کے قرب و جوار میں چھوٹے قد کے پودے ختم ہو گئے تو اونچے پودوں کے پتوں تک پہنچنے کیلئے زرافہ کو اپنی گردن کا استعمال بڑھانا پڑا۔ چنانچہ نسل در نسل زرافے کی گردن لمبی ہوتی گئی (ارتقاء کے اکثر مخالفین غلط فہمی یا لاعلمی کی وجہ سے اس مثال کو ڈاروِن کی نیچرل سلیکشن کی تھیوری کے رد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ڈاروِن کی تھیوری اعضاء کے استعمال بڑھنے یا انہیں ترک کرنے کی بنیاد پر نہیں ہے)۔ 

تو پھر لمارک کی تھیوری میں خامی کیا تھی؟ جانداروں کو جب ماحول میں تبدیلی کے نتیجے میں چیلنج درپیش ہوتا ہے تو وہ اچانک کیسے اعضاء کے استعمال میں تبدیلی لے کر آتے ہیں؟ ایک عضو کی جسامت بڑھتی کیسے ہے، گھٹتی کیسے ہے؟ نئے اعضاء کیسے بنتے ہیں، وہ تو پہلے سے موجود ہی نہیں ہوتے تو استعمال بڑھنے کا تو سوال ہی نہیں؟ پھر یہ اگلی نسل میں منتقل کیسے ہوتے ہیں؟ 

یہ بھی حل طلب سوال تھا کہ جانداروں کی اس ایڈجسٹمنٹ کے پیچھے کونسی قوت کارفرما ہے؟ لمارک کا جواب تھا "internal force"۔ یاد رہے کہ 1828ء تک نامیاتی مرکبات کے حوالے سے بھی وائٹل فورس کی تھیوری کو درست تسلیم کیا جاتا تھا جس کے مطابق نامیاتی مرکبات لیبارٹری میں تیار نہیں کئے جا سکتے کیونکہ یہ صرف فطری طور پر وائٹل فورس کی مدد سے ہی بن سکتے ہیں۔ لمارک بھی وائیٹل فورس کی طرح کی ایک فطری یا اندرونی قوت کا قائل تھا۔ اس طرح کی قوت یا تصور کی تصدیق یا تردید کیلئے کوئی سائنسی طریقۂ کار موجود نہیں ہے چنانچہ یہ اندرونی قوت انیسویں صدی کے ماہرینِ حیاتیات میں زیادہ عرصے تک قبولیت برقرار نہیں رکھ سکی۔

اس کے علاوہ vestigial organs (وہ اعضاء جن کا استعمال ترک ہو چکا ہے لیکن ہنوز موجود ہیں) کی موجودگی ایک علٰیحدہ سوال تھا۔ ان اعضاء کا استعمال تو ترک ہو چکا پھر ان کی موجودگی چہ معنی دارد؟ پھر ایک جانور کی اپنی زندگی میں نئے حاصل کردہ اعضاء اگلی نسل میں کیسے منتقل ہو سکتے ہیں؟ ترک کردہ اعضاء اگلی نسل میں سے کیسے غائب ہو سکتے ہیں؟ جن جانوروں کے اعضاء حادثاتی طور پر کٹ جاتے ہیں (اور ظاہر ہے ان کا استعمال ختم ہوجاتا ہے) تو ان کے بچوں میں وہ اعضاء غائب تو نہیں ہو جاتے؟ تو پھر یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ اس کا جواب لمارک کے قوانین میں نہیں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ ڈاروِن نے لمارک کے قوانین کو رد کیا تاہم وہ ان کے law of use and disuse کی اہمیت کے قائل تھے۔ چنانچہ On The Origin of Species میں ڈاروِن لکھتے ہیں کہ گہرے غاروں میں رہنے والے جانوروں کی بینائی غائب ہونے کی وجہ ان کی آنکھوں کا بتدریج کم استعمال ہے۔ تاہم جملے کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے "ایسا شاید نیچرل سلیکشن کی وجہ سے ہے"۔ 

اگر آپ غور کریں تو قدیم یونان سے لیکر انیسویں صدی تک ارتقاء کی وضاحت، تشریح یا اس کے میکانزم کے حوالے سے مختلف تھیوریز سامنے آئیں جنہیں بعد میں شواہد، منطق یا دونوں کی مدد سے رد کر دیا گیا۔ یعنی اس بات پر تو سبھی متفق تھے کہ ارتقاء ہوا ہے۔ اختلاف اس پر تھا کہ "کیسے ہوا ہے؟" ارتقاء ایک حقیقت ہے، لیکن یہ کیسے ہوتا ہے، اس میکانزم کیلئے مختلف تھیوریز پیش کی گئیں۔ ڈاروِن کی تھیوری کو جو بات باقی تمام نظریات سے ممتاز کرتی ہے،  وہ ہے ، اس "کیسے ہوا ہے" کا سائنسی میکانزم،  یعنی نیچرل سلیکشن۔ یہ ارتقاء کا وہ میکانزم ہے جسے آج تک کوئی سائنسی شواہد یا دلائل رد نہیں کر سکے۔ اس کی تفصیل اس سلسلے کے آخری حصے میں۔

~ جاری ہے۔

دوسرے حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ لنک دیکھیے!

https://sciencekiduniyagroup.blogspot.com/2025/08/blog-post_18.html




Comments