محبت اور رقابت کا ارتقاء-دوسرا حصہ
تحریر: ڈاکٹر محمد طارق
1. رقابت انسان کے قریبی ارتقائی رشتہ داروں میں نہیں ہے۔ تو کیا رقابت instinctual نہیں ہے؟
2. ہنی مون صرف انسان نہیں مناتے۔
Replug: On the evolution of Love and Jealousy
ریلیشنشیپ ایڈوائس دینے والے بہت سے ماہرین یا دوستوں سے آپ نے (براہ راست یا بالواسطہ)
یہ بات سنی ہوگی کہ محبت میں possessive نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک دوسرے پر شک نہیں کرنا چاہیئے اور ایک دوسرے کو space دینی چاہیئے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات بظاہر انتہائی معقول لگتی ہے اور یہ مشورہ سننے والے کے پاس اسے رد کرنے کیلئے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی۔ لیکن بھلے بندہ لاجواب ہوجاتا ہے، قائل نہیں ہوتا۔ اس لئے اس طرح کے مشورے پر عمل کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر لوگ یہ بات سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنا مشکل کیوں ہے؟ ایک دوسرے پر اعتبار کر کے مطمئن کیوں نہیں بیٹھ جاتے؟ جی جلانے کا شوق کسے ہوتا ہے بھلا؟ مشورہ دینے والے ایسے ماہرینِ رومانوی تعلقات کے نزد رقابت انسان کی فطرت میں ہے ہی نہیں (میں فطرت کے بجائے جبلت پر بات کرنے کا قائل ہوں کیونکہ میرے نزد فطرت کوئی جینیاتی چیز نہیں ہے)۔ اُن کے بقول یہ ایک سماجی ایجاد ہے۔ اس لئے ہم با آسانی یا تھوڑی بہت کوشش کرکے، خود کو سمجھا بجھا کر اس سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اس بیانئے کے داعیوں سے بات کریں تو بظاہر ان کے پاس اس کیلئے شواہد اور دلائل ہیں۔ پہلی بات، ہمارے قریبی ارتقائی رشتہ دار بن مانس (چیمپینزی) میں تو رقابت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ بن مانسوں کے ہاں کیا ہوتا ہے؟
جب ایک تگڑے نر کو ایک فرٹائل مادہ کیساتھ اپنی نسل کی افزائش کی سوجھتی ہے تو وہ اس کیساتھ علٰیحدگی میں قربت کے چند دن گزارنے کیلئے اسے اپنے گروپ (یا قبیلے) سے دور لے جاتا ہے (دور دراز علاقوں میں honeymoon گزارنے کی خواہش والے جینز بھی شاید ہمارے مشترکہ جد سے ان بن مانسوں کو بھی ملے ہیں
)۔ لیکن یہ جوڑا جب ہنی مون سے واپس آتا ہے تو دونوں کا ایک دوسرے کیساتھ تعلق بالکل نارمل ہوتا ہے۔ یعنی"We're just friends, you know" یا "you're just another friend" والا تعلق۔ ایسے ہی جیسے گروپ کے باقی بن مانسوں کیساتھ ہوتا ہے۔ آپس میں کوئی رومانوی اشارے نہیں۔ الگ تھلگ بیٹھنا نہیں۔ مادہ بن مانس ماں بنتی ہے تو اکیلے ہی بچے کی پرورش میں جُت جاتی ہے (یعنی یہاں سنگل پیرنٹ ہونا نارمل ہے) جبکہ نَر بن مانس بچوں کی فکر سے آزاد کہیں لوفری کرتا رہتا ہے (نَر اتنا ناگزیر بھی نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں
)۔ لہٰذا دونوں کو کوئی فکر نہیں کہ اگلا کہاں گیا، کیا کر رہا ہے۔ 'مدتوں تک' یہی عالم، نہ توقع نہ امید۔ مادہ بن مانس پانچ سے چھ سال بعد ماں بنتی ہے۔ کیونکہ بچے کی پرورش کے دوران وہ اگلے حمل کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ اگلی بار وہ honeymoon پر کس کیساتھ جاتی ہے، اس کے Ex کو اس کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جو عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غمِ شکستگی! حمل کے بعد رقابت ان کے ہاں ایک اجنبی تصور ہے۔
اگر بن مانس رقیب نہیں بنتے تو انسانوں کے ہاں یہ سیاپا کہاں سے آیا؟ اور اگر محبت دوستی کی طرح ہی ایک تعلق ہے تو ہم اپنے دوستوں کے دوستوں سے تو نفرت یا عدم تحفظ نہیں محسوس کرتے۔ ان کیساتھ رقابت کا احساس نہیں ہوتا۔ تو پھر محبوب کے محبوب یا عاشق زہر کیوں لگتے ہیں؟ کیا واقعی رقابت جدید انسانی سماج کی ایجاد ہے؟ کیا اس حوالے سے قدیم قبائل کا رویہ ہم سے مختلف تھا؟
بظاہر اس بیانیے کے طرفداروں کو بھی شواہد دستیاب ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ Inuit قبائل کے کچھ سرداروں کے ہاں جب کوئی اہم مہمان آتا ہے تو سردار اپنی بیگمات میں سے کوئی ایک رات بھر کیلئے مہمان کو پیش کر دیتے ہیں۔ اسی طرح Marquesas Island کے باسیوں کے بارے میں 1960 میں کی گئی تحقیق کہتی ہے کہ یہاں غیر ازدواجی تعلقات کو قبولِ عام کا درجہ حاصل تھا۔ ثبوت کے طور پر لکھا ہے کہ اس معاشرے میں ناجائز تعلقات کی کوئی باقاعدہ سزا متعین نہیں تھی۔ Samoan قبیلے کے کچھ افراد کے انٹرویوز سے بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہاں جنسی رقابت کا تصور نہیں ہے۔ اس طرح کی تحقیقات کا حوالہ دینے والے یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ Marquesas سماج میں باقاعدہ سزا کی عدم موجودگی کے باوجود یہاں شوہروں کا شک کی بنیاد پر بیویوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور حتیٰ کہ قتل کرنا عام بات تھی (آج سے چند سو یا ہزار سال بعد ہمارے بارے میں تحقیق کرنے والے اگر لکھیں کہ اس سماج میں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہوتا تھا کیونکہ ملکی آئین و قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں تھی تو یہ تحقیق کتنی مستند ہوگی؟)۔ اسی طرح Samoan کے ہاں بھی شک کی بنیاد پر گھریلو تشدد عام تھا۔ رہا Inuits کا معاملہ تو یہ خالصتاً پدرسری سماج کے مرد بادشاہ کی فیاضی کی غلط تشریح کا معاملہ ہے۔ کیونکہ یہاں بھی شادی شدہ عورتوں کو غیر ازدواجی تعلقات کی بنیاد پر قتل کرنا عام تھا۔ چنانچہ وہ افراد جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رقابت سے پاک ہیں، شعوری یا لاشعوری طور پر غلط بیانی کرتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے افراد محض ایک قلیل exception ہیں ورنہ جدید اور قدیم، مشرقی اور مغربی، تمام انسانی معاشروں میں جنسی رقابت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اور اگر اس پیمانے پر رقابت موجود ہے تو یہ کوئی سماجی ایجاد نہیں ہو سکتی۔ یہ ہم انسانوں کی جبلت میں ہے۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ آخر ہم انسانوں میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں رقابت والے جینز پالنے پڑے؟ ہم بن مانسوں سے کیسے مختلف ہیں؟ ہمارے درمیان وہ کونسا فرق ہے جس نے ہمارے جنسی رویے کو ان سے اتنا مختلف کر دیا ہے؟ اور ارتقاء تو survival of the fittest ہے جبکہ رقابت تو انسانوں میں تشدد اور خون خرابے کا باعث بنتی ہے۔ یعنی، ع ۔ ۔ ۔یا تو رقیب ہی نہیں یا آج ہم نہیں (لالہ مادھو رام جوہر)۔ بقاء کے حوالے سے اس متشدد رقابت کا کیا فائدہ ہے (یا کیا اس کا کوئی نقصان نہیں ہے) کہ اس کے جینز نے بقا پائی؟
~ جاری ہے۔
پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہ لنک دیکھیے!

Comments
Post a Comment