محبت اور رقابت کا ارتقاء-پانچواں حصہ

محبت اور رقابت کا ارتقاء-پانچواں حصہ
 تحریر:ڈاکٹر محمد طارق


1. پہلی نظر کی محبت

2. محبت اور لَت (addiction) ایک جیسی ہیں۔
3. میاں بیوی ایک دوسرے کیساتھ لمبی رفاقت کیسے نبھاتے ہیں؟
Replug: On the Evolution of Love and Jealousy


امریکی ریاست پنسلوانیا کے محققین نے جب جنسی بلوغت (puberty) کی ابتداء کا ذمہ دار جین دریافت کیا تو اپنی پسندیدہ چاکلیٹ (Hershey Kisses)، جو کہ ایک مقامی پروڈکٹ تھی، کے نام پر اس کا نام KISS1 جین رکھ لیا اور کہا کہ بلوغت کی ابتداء Kiss سے ہوتی ہے۔ تاہم KISS1 اکیلا جین نہیں ہے جو puberty کی آمد کو یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ اور جینز بھی ہیں جن کے ایکسپریس ہونے سے یا تو بلوغت کی ابتداء میں مدد ملتی ہے (مثلاً Leptin ہارمون کا جین) یا وہ بلوغت کو روکتے ہیں (مثلاً Melatonin ہارمون کا جین)۔ ان جینز میں میوٹیشن سے یا دماغ کے متعلقہ حصوں میں کسی اور نقص (مثلاً کینسر) کی وجہ سے puberty رک سکتی ہے یا وقت سے پہلے بھی شروع ہو سکتی ہے۔ Puberty کیساتھ اُمڈ آنے والے یہ سیکس ہارمونز نیند کو بھی متاثر کرتے ہیں اس لئے جوان بچوں کو صبح سویرے جگانا انتہائی مشکل ہوتاہے (نوجوان بچوں کے ابا کیساتھ آدھے جھگڑے تو اسی بات پر ہوتے ہیں۔ کاش ہر ابا نے endocrinology پڑھی ہوتی!)۔
محبت ہونے سے لیکر قربت کی طلب تک، اور دل دینے سے لیکر طویل رفاقت اور والدین بننے تک، تمام معاملات کیلئے دماغ کے مختلف حصوں میں بے شمار processes چل رہے ہوتے ہیں۔ Cerebral cortex (جو کہ PFC کے بالکل پیچھے واقع ہوتا ہے) ہمارے دماغ کا وہ حصہ ہے جو منظم منصوبہ بندی، شعوری اور منطقی فیصلوں اور یادداشت کو سنبھالتا ہے (دولے شاہ کے چوہوں یعنی مائیکرو سیفلی کے مریضوں میں یہ حصہ بنتا ہی نہیں)۔ شریکِ حیات کا انتخاب زندگی کے سب سے اہم فیصلوں میں سے ایک ہے اس لئے بظاہر محبوب (جس نے بعد میں شریکِ حیات بننا ہے) کے انتخاب کا فیصلہ سیریبرل کورٹیکس کو کرنا چاہیئے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ اس معاملے میں دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جن کا تعلق شعوری نہیں بلکہ لاشعوری فیصلوں سے ہوتا ہے۔ پہلی نظر میں محبت (Love at first sight) یونہی تو نہیں ہو جاتی۔ اس لئے کسی سے یہ سوال کرنا لا یعنی ہے کہ "یار تم نے اس میں دیکھا کیا تھا؟" بقول شاعر
ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر
سوچتا ہوں تری حمایت میں
محبوب کی تصویر پر نظریں جمائے لوگوں کے دماغ کے scan کے دوران یہی حصے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر دیکھنے پر دماغ میں dopamine ریلیز ہوتا ہے جو انسان کو کیف و سرور کا احساس دیتا ہے۔ تاہم یہی وہ حصے ہیں جن کا تعلق addiction سے ہے۔ (محبت بھی تو ایک نشہ ہی ہے) اور شاید اسی وجہ سے والدین بچوں کے محبت میں مبتلا ہونے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ بچے شعوری طور پر فیصلے کریں (جذبات کے بجائے دماغ سے سوچیں)۔ محبت میں مبتلا لوگوں کے جسم میں cortisol (سٹریس ہارمون) کی سطح باقی لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے محبت انسان کو دباؤ اور تناؤ کی کیفیت میں مبتلا کئے رکھتی ہے (خصوصاً دسمبر کی طویل شب ہائے ہجراں میں)۔ اس دوران مردوں میں testosterone کی سطح کم جبکہ خواتین میں بڑھ جاتی ہے۔ مردوں میں اس ہارمون کی سطح کم ہونے سے muscles اور ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں جبکہ خواتین میں بڑھ جانے سے چہرے پر بال اور acne نمودار ہوسکتی ہے اور سر کے بال بھی جھڑنا شروع ہو سکتے ہیں۔
گیبرئیل گارشیا مارکیز کے ناول 'تنہائی کے سو سال' میں جب شبِ وصل سے واپسی پر خوسے آرکاوئیو سے پوچھا جاتا ہے کہ محبت کیسی ہوتی ہے تو وہ جواب میں کہتا ہے "ایک زلزلے کی مانند"۔ زلزلہ جتنا بھی شدید ہو تھم جاتا ہے. دو چار آفٹر شاکس اور سکون۔ محبت بھی جب لمبی چل جائے اور مستقل قربت مل جائے تو اس کی ابتدائی شدت زلزلے کی طرح زیادہ عرصہ نہیں چلتی۔ تھم جاتی ہے یا اس کے اظہار کی شدت ماند پڑ جاتی ہے. testosterone کی سطح واپس نارمل ہوجاتی ہے۔ ہارمون کب تک شدت سے خارج ہو سکتے ہیں؟ اس کی سطح نارمل لیول پر آنی ہوتی ہی ہے۔ محبت کے اظہار میں وہ گرمجوشی اور وہ شدت نہیں رہتی (اور پھر آپ کو طعنہ ملتا ہے کہ اب آپ پہلے جیسے نہیں رہے)۔ لیکن کہتے ہیں کہ جب محبت کرنے والوں کی بے قراری، اضطراب، جنون اور سرشاری ماند پڑ جاتی ہے اور ایک دوسرے کیلئے پہلی جیسی کشش نہیں رہتی تو تب جو چیز باقی بچتی ہے وہی دراصل محبت ہوتی ہے! ماہرینِ نفسیات پہلی قسم کی محبت کو رومانوی محبت (جس کا محور جنسی تعلق ہے) اور دوسری قسم کی محبت کو ازدواجی محبت (companion love) کہتے ہیں (جس کا محور فیملی کا استحکام ہے) یعنی شادی کے بعد محبت۔ یہی محبت انسانوں میں طویل عرصے کی رفاقت کا باعث بنتی ہے۔ Pregnancy کیساتھ ہی مرد اور عورت کی کمیسٹری میں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے میاں بیوی باہم منسلک ہوجاتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ پریگنینسی عورت کی کیمسٹری کو براہ راست جبکہ اس کے شوہر کی کیمسٹری کو بالواسطہ متاثر کرتی ہے۔ میاں بیوی بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ماں باپ بن چکے ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ محبت ہو یا رقابت، سب لوگوں میں ایک جیسی تو نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ برداشت کر ہی لیتے ہیں۔ کیسے؟ اور اگر ہم کوئی ایسی ترکیب کر لیں جس سے رقابت کو کم کیا جائے یا ختم کیا جائے تو اس کے ضمنی اثرات کیا ہوں گے؟ وہ قابلِ قبول ہوں گے؟ اچھی لگنے والی چیزیں ہمیشہ اچھی اور بری لگنے والی چیزیں ہمیشہ بری نہیں ہوتیں۔
رقابت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 😊
اس حوالے سے اس سلسلے کی آخری پوسٹ میں۔
~ جاری ہے۔

چوتھا حصہ پڑھنے کے لیے اس لنک پر جائیے 

Comments