محبت اور رقابت کا ارتقاء-چوتھا حصہ
تحریر: ڈاکٹر محمد طارق
1. قدیم زمانے سے بچے ہمارے جیسے ہی تھے۔
2. جوانی کیساتھ عادات میں تبدیلی
3. نوجوانوں اور بزرگوں کے فیصلے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟
Replug: On the evolution of Love and Jealousy
ہمارے بزرگوں کو اکثر یہ شکوہ رہتا ہے کہ نئی نسل انتہائی بد اخلاق اور نافرمان ہے جبکہ وہ خود اپنی نوجوانی میں انتہائی سعادتمند اور فرمانبرار ہوتے تھے۔ واللہ اعلم، لیکن آج سے دو ڈھائی ہزار سال پہلے سقراط اپنے دور کی جوان نسل کے بارے میں یہی رائے رکھتا تھا کہ وہ نافرمان ہے اور اپنے اساتذہ اور بڑوں کی عزت نہیں کرتی۔ مصر سے پانچ ہزار سال قدیم مٹی کے ٹکڑوں پر لکھی ہوئی جو تحریریں ملی ہیں، ان میں ایک ادھیڑ عمر عورت کی تحریر بھی شامل ہے جس نے لکھا ہے کہ "آج کل کی نافرمان اولاد والدین کے احسانات بھول گئی ہے"۔ یعنی نوجوان بچے ہمیشہ سے ایسے ہی تھے (اور شاید ایسے ہی رہیں گے)۔ آخر ایسا کیوں ہے؟
زندگی کی تخلیق اور نشونما ایک توانائی طلب کام ہے۔ چنانچہ نیچر نے اس مقصد کیلئے انسان کی زندگی کا وہ حصہ منتخب کیا ہے جہاں وہ سراپا توانائی ہوتا ہے، یعنی جوانی۔ جنسی بلوغت (puberty) کیساتھ ہی ہمارے دماغ میں واقع pituitary gland، جسے ماسٹر گلینڈ بھی کہا جاتا ہے، سیکس ہارمونز بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ان ہارمونز کے سبب انسان کے رویے میں وہ تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو بزرگوں کیلئے ناپسندیدہ ہوتی ہیں۔ بات بات پر غصہ، مزاحمت، جھگڑا اور جارحیت۔ بقول شاعر
جو قیامت نہ ڈھا سکے راہی
وہ کسی کام کا شباب نہیں
نئے تجربات (ایڈونچر) کی خواہش، اپنی بات پر اڑنا اور نافرمانی، ارتقائی نفسیات کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ جنسی بلوغت کیساتھ رویے میں آنے والی متوازی تبدیلیوں اور آس پاس کے لوگوں کیلئے عدم برداشت کا نتیجہ جانوروں میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ نیچر اسی طرح خاندان کے اندر جنسی تعلق (کزن میریج) کی روکتھام کرتی ہے۔
دماغ کے اگلے حصے prefrontal cortex (PFC) (تصویر دیکھئے) کا کام فیصلہ سازی، طویل مدتی منصوبہ بندی، آرگنائزیشن اور شخصیت کا اظہار ہے۔ تاہم PFC کی ساخت عمر کی تیسری دہائی کے وسط تک نامکمل رہتی ہے۔ ٹین ایجر نوجوان جنسی طور پر تو بالغ ہوتے ہیں لیکن ذہنی طور پر بلوغت (adulthood) تب ہی آتی ہے جب PFC کی ساخت مکمل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹین ایجر نوجوان منتشر مزاج اور غیر منظم عادات (کچھ لوگ شاید انہیں nonproductive habits کہیں) کے حامل ہوتے ہیں اور دور رس نتائج کے بجائے فوری طور پر نظر آنے والے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچتے اور اقدامات اٹھاتے ہیں۔ جب بزرگوں کو ان کیساتھ کسی معاملے پر اختلاف ہوتا ہے اور وہ اس نوجوان نسل سے کہتے ہیں کہ جذبات کے بجائے دماغ کا استعمال کرو" تو دماغ کی نشونما سے ناواقف بزرگ نہیں جانتے کہ بچہ (نوجوان) دماغ ہی استعمال کر رہا ہے لیکن بزرگ دماغ کے برعکس نوجوان دماغ میں PFC نامکمل ہوتا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ جو دماغ میچور فیصلے کرنے کیلئے چاہیئے وہ دماغ نوجوان کے پاس ہے ہی نہیں۔ اس دماغ کیساتھ ایسی ہی سوچ اور فیصلے ہو سکتے ہیں۔ جو چیز بچے (نوجوان) کے پاس ہے ہی نہیں (مکمل PFC) اسے وہ کیسے استعمال کر سکتا ہے!
یہ نوجوان بظاہر سامنے نظر آنے والے نتائج کے حصول کیلئے کوئی بھی خطرہ مول لینے سے نہیں ڈرتے بلکہ (مکمل PFC کیساتھ سوچنے والے) بزرگوں کی مصلحت اور "بزدلی" پر مضطرب رہتے ہیں۔ اور دل ہی دل میں یا ببانگِ دہل ان کی "بزدلی" اور "بے غیرتی" پر لعن طعن کرتے ہیں۔
عموماً جن معاملات پر بزرگوں اور نئی نسل میں اختلاف ہوتا ہے ان میں سے ایک اہم معاملہ محبت کا ہے۔ یعنی اپنی آنے والی نسل کیلئے ماں/باپ کے انتخاب کا معاملہ۔ پختون کہتے ہیں کہ جب بچہ گھر میں لڑائی کیلئے بہانے ڈھونڈنے لگے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ جوان ہو گیا ہے اور شادی مانگ رہا ہے۔ یقیناً دوسرے علاقوں میں بھی اس طرح کی folk wisdom کے نمائندہ محاورے اور جگتیں ہوتی ہوں گی۔
محبت ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اس سے ملنے والی خوشیوں اور دکھوں پر لکھی گئی کتابوں سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں اور آج بھی یہ فیصلہ مشکل ہے کہ محبت نے دکھ زیادہ دیے ہیں یا خوشیاں۔ بقول احمد فراز کے، جدا اک دوسرے سے ہر کسی کے تجربے ہیں۔ لیکن وہ والدین جو خود محبت کے گیت گاتے ہوں، انہیں بھی جب پتہ چلتا ہے کہ ان کی اولاد کو کسی سے محبت ہو گئی ہے تو انہیں خوشی نہیں بلکہ فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ محبت اور شادی ایک لمبا منصوبہ ہوتا ہے۔ اس طرح کے منصوبے پر کچے دماغ اور پکے دماغ کے درمیان اختلاف تقریباً یقینی ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو بہرحال یہ الجھن تو ہوتی ہے کہ زندگی ہماری ہے تو فیصلے بھی ہمارے ہونے چاہیئیں۔ اور دور کہیں پر ایک میچور دماغ اس بغیر PFC والے دماغ سے کہہ رہا ہوتا ہے "دیکھ بھائی، فیصلے تُو نے کرنے ہیں لیکن بھگتنے بعد میں میں نے ہیں۔ اس لئے ذرا دھیان سے"۔
لیکن کہتے ہیں کہ Puberty begins with a kiss! جنسی بلوغت کی ابتداء جس gene کے ایکسپریشن سے ہوتی اس کا نام ہے KISS1۔ جینز سوچتے ہیں بھلا؟ کا ہے کا دھیان!
~ جاری ہے۔
تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہ لنک دیکھیے
https://sciencekiduniyagroup.blogspot.com/2026/01/blog-post_32.html

Comments
Post a Comment