جینیٹکس کی تھیوریز: ماضی سے حال تک-دوسرا حصہ
تحریر: ڈاکٹر محمد طارق
فیثاغورث کی تھیوری (spermism) مشاہدات کے آگے ٹھہر نہ سکی۔ بقول ارسطو کے روزمرہ زندگی میں بے شمار ایسے مشاہدات ہیں جو اس تھیوری کی نفی کرتے ہیں۔ فیثاغورث کے مطابق وراثت کا سارا مادہ یا مادۂ تولید (semen)، مرد والد کے جسم کے تمام اعضاء میں سے گزر کر ان سے خصوصیات جذب کر کے اگلی نسل تک پہنچاتا ہے۔ ارسطو کا مشاہدہ بھرپور اور تجزیہ منطقی تھا۔ اگر خصوصیات کی نسل در نسل منتقلی کیلئے مادۂ تولید مرد کے اعضاء سے گزر کر ان خصوصیات کو جذب کرتا ہے تو پھر صرف مرد ہی پیدا ہو سکتے تھے۔ زنانہ جنسی اعضاء کیسے بن سکتے ہیں؟ عورت کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ اور اگر بچے کی پیدائش کے وقت والد کے بال کالے ہوں اور داڑھی نہ ہو تو ایسے بچوں کے بال بڑے ہو کر کبھی سفید نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی ان کی داڑھی آنی چاہیئے۔ جوانی کی اولاد بوڑھی کیوں کر ہوتی ہے بھلا؟
اس کے علاوہ ان خصوصیات کی منتقلی کیلئے مادۂ تولید کہاں سے گزرتا ہے جو مادی نہیں ہوتیں۔ مثلاً چال ڈھال، دیکھنے کا انداز، طرزِ فکر، مزاج کی سردی گرمی، اور جیسے کچھ لوگوں کو خلا میں گھورنے کی عادت ہوتی ہے؟ ارسطو نے ایک سفید فام عورت اور ایک حبشی کے اختلاط سے پیدا ہونے والی بیٹی کا حوالہ بھی دیا جو خود تو سفید فام تھی اور اس کا شوہر بھی سفید فام تھا لیکن ان کے بچے اپنے نانا کی طرح حبشی تھے۔ یعنی مادۂ تولید حبشی سے آیا تو بیٹی سفید فام تھی، اور اگلی بار جب مادۂ تولید سفید فام سے آیا تو بچے حبشی؟ spermism کی تھیوری اس کی وضاحت نہیں کر سکتی تھی۔ یہ تھیوری ناقص تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ چونکہ ساری خصوصیات مادی نہیں ہوتیں اس لیے مادۂ تولید کا اعضاء سے گزرنے کی صورت میں ایسے خصوصیات و اوصاف کی نسل در نسل منتقلی ممکن نہیں۔ دوسری بات یہ کہ حبشی خصوصیات جب نانا سے نواسوں تک پہنچے تو دونوں نسلوں کے درمیان رابطہ ایک عورت تھی۔ لہٰذا خصوصیات کی منتقلی عورت کی طرف سے حصہ ڈالے بغیر ممکن نہیں۔
ان مشاہدات کی بنیاد پر ارسطو نے فیثاغورث کی تھیوری کو رد کر دیا اور اس کے مقابلے میں اپنے وقت کے لحاظ سے ایک انقلابی تھیوری پیش کی۔
ارسطو کے مطابق بچے کی پیدائش میں مرد کا حصہ information یا طریقۂ کار ہے۔ مثلاً لکڑی کی کرسی میں کارپینٹر کا حصہ وہ طریقۂ کار (نقشہ یا بلیو پرنٹس کہہ لیں) ہے جو کارپینٹر کے ذہن میں موجود ہوتا ہے۔ کارپینٹر کے ذہن میں کرسی کی ساخت یا ڈیزائن سے متعلق جو بلیو پرنٹس یا information ہے اسے materialise کرنے کیلئے مادے کی ضرورت ہے جو لکڑی (درخت) مہیا کرتی ہے اور کارپینٹر اپنے ذہن میں موجود بلیوپرنٹس کے مطابق اسے کرسی میں بدل دیتا ہے۔ اسی طرح انسانی بچے کیلئے مرد کے جسم سے جو بلیوپرنٹس یا انفارمیشن مادۂ تولید (ارسطو نے اسے تخم یا بیج کہا) لیکر آتا ہے اسے میٹیرئیلائز کرنے کیلئے مادہ عورت مہیا کرتی ہے۔ یہ مادہ کہاں سے آتا ہے؟ ارسطو نے حمل ٹھہرنے کیساتھ ماہواری رکنے کے مشاہدے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بچے کا جسم اسی ماہواری کے خون سے بنتا ہے۔ یعنی اگرچہ contribution کی نوعیت مختلف ہے لیکن ہوتی دونوں والدین کی طرف سے ہے۔ یوں ارسطو نے پہلی بار بچے کی پیدائش میں عورت کی حصہ داری تسلیم کی (اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ارسطو feminist تھا :))۔ مرد کے جسم سے انفارمیشن عورت کے جسم میں منتقل ہوتی ہے، عورت اس انفارمیشن کو decode کر کے نر یا مادہ بچہ تعمیر کرتی ہے اور جب نر بچہ بڑا ہو جائے تو وہ پھر انفارمیشن تخلیق کرتاہے۔
یعنی ارسطو نے زندگی کو فیثاغورث کے تکون سے نکال کر ایک دائرے میں ڈال دیا!
ماہواری کے خون سے بچہ کے جسم کی تخلیق ہو یا مرد اور عورت کی contribution کی مختلف نوعیت (مرد کی انفارمیشن اور عورت کا مادہ)، ارسطو اگرچہ حقیقت سے تھا تو بہت دور لیکن قدیم یونان کے اس سپوت نے ڈھائی ہزار سال قبل جینیاتی وراثت کی ماہیئت سمجھ لی تھی کہ یہ محض information ہے۔ آج ہمیں علم ہے کہ ڈی این اے ایک information carrier مولیکیول ہی ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اگر نوبیل پرائز بعد از مرگ ملتا تو ارسطو دنیا کا پہلا Nobel Laureate ہوتا.
یہاں تک پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن میں شاید ایک سوال کھلبلا رہا ہوگا کہ اگر خصوصیات کی منتقلی انفارمیشن کے ذریعے ہوتی ہے تو یہ انفارمیشن بنتی کہاں ہے؟ اسے اکھٹا کس طرح کیا جاتا ہے اور کس شکل میں منتقل کیا جاتا ہے؟ کمپیوٹر سے واقفیت رکھنے والا ذہن پوچھتا ہے کہ Coding کب ،کیسے اور کہاں ہوتی ہے؟ ایک مکمل جسم بنانے کیلئے انفارمیشن پر مشتمل script، algorithm یا پروگرام کہاں سے آتا ہے؟ اگر انفارمیشن پہلے سے موجود اعضاء سے جذب نہیں ہوتیں تو پھر یہ مادۂ تولید میں کہاں سے آتی ہے؟ اس بارے میں ارسطو کی طرف سے خاموشی ہے۔ بعد میں آنے والوں کیلئے بھی یہ سوال مشکل تھے اور ان کے منطقی جوابات کیلئے جو مشاہدات چاہیئے تھے، وہ میسر نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ایلیئس گالینوس (129 تا 216 عیسوی) (عموماً Galen کہلاتے ہیں) جو ایک عرصے تک اناٹمی اور فزیولوجی اتھارٹی سمجھے جاتے تھے اور جنہیں فارمیسی کا بانی سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے کوئی منطقی تشریح دینے میں ناکام رہے. گالینوس کے مطابق کسی بچے کی پیدائش کیلئے انفارمیشن کا کوئی نیا سکرپٹ، کوئی نئی کوڈنگ، کوئی نیا الگورتھم بنتا ہی نہیں، کوئی انفارمیشن نئے سرے سے ترتیب نہیں پاتی۔ بلکہ مرد کے مادۂ تولید میں چھوٹے چھوٹے تخم نما انسان (mini humans or homunculus) بنے بنائے پڑے ہوتے ہیں۔ اس تخم نما انسان کو عورت اپنا خون دے کر ایک مکمل انسان کا روپ دے دیتی ہے۔ اس تھیوری کو Emanationism کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ازلی سانچہ یا بلیو پرنٹ ہے جو چلا آ رہا ہے۔ اور عورت کا جسم اسی سانچے، اسی بلیو پرنٹ کو پڑھ کر، سمجھ کر اسے ایک میچور انسان کا روپ دے رہا ہے۔
آج کے سائنسی ذہن کو شاید اس وضاحت پر ہنسی آئے لیکن یہ ایک دلچسپ وضاحت تھی۔ اوریجنل سِن (The Original Sin) جیسے مروجہ مذہبی عقیدے کیساتھ موافقت کی بناء پر یہ تھیوری بہت مقبول رہی اور تھوڑی سی کانٹ چھانٹ کے ساتھ اگلے دو ہزار سال تک درست سمجھی جاتی رہی۔
تھیوری کمزور ہو تو جلد یا بدیر اس کی خامیاں نظر آ جاتی ہیں۔ ایک مشاہدہ بھی کافی ہو جاتا ہے۔ سوچئے، اگر سارے انسان ایک ہی ازلی سانچے میں سے جنم لے رہے ہیں، کوئی نئی کوڈنگ نہیں ہو رہی، کوئی نیا الگورتھم نہیں بن رہا تو سارے انسان ایک جیسے کیوں نہیں ہیں؟ یہ تنوع کہاں سے آ رہا ہے؟ اور سب لوگ ایک جیسے کردار کے حامل کیوں نہیں؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
جاری ہے۔
پہلا حصہ پڑھنے کے لیے اس لنک پر جائیے


Comments
Post a Comment