محبت اور رقابت کا ارتقاء-تیسرا حصہ

محبت اور رقابت کا ارتقاء-تیسرا حصہ

تحریر: ڈاکٹر محمد طارق

1. بن مانس اور انسان کے ازدواجی رویے کا فرق
2. انسانوں میں رقابت کی وجوہات
3. نر اور مادہ میں رقابت کا تقابل
Replug: On the evolution of Love and Jealousy


بن مانسوں میں پیدائش کے بعد بچے کی نگہداشت اور دیکھبال ماں کے ذمے ہوتی ہے۔ ایک نر بن مانس کی اپنی نسل کے تسلسل کیلئے ٹوٹل انویسٹمنٹ چند دن کی قربت کے علاوہ ہے کیا؟ اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کیساتھ قربت سے پہلے ہی مادہ پریگننٹ ہو چکی تھی یا اس کی قربت سے حمل ٹھہرا ہی نہیں تھا بلکہ بعد میں کسی اور نر کیساتھ قربت کے نتیجے میں پریگننٹ ہوگئی تھی تو اس کا زیادہ سے زیادہ نقصان کیا ہے؟ وہ سپرمز، جو اس نے قربت کے دنوں میں 'ضائع' کئے۔ بس! یہی وجہ ہے کہ بن مانس اور وہ تمام سپی شیز جن میں نر بچوں کی نگہداشت پر وقت اور وسائل صرف نہیں کرتا، ان میں نر عموماً مادہ کی بعد از حمل 'چوکیداری' نہیں کرتا۔ ان میں لمبی رقابت پالنے کی نہ تو صلاحیت ہے نہ ہی انہیں ضرورت ہے۔ انسانوں کے سیدھا چلنے کی وجہ سے مادہ کا pelvis تنگ ہوتا ہے جس کے باعث باقی میملز کی طرح مکمل میچور بچے (زیادہ سائز یا جسامت والے بچے) کی پیدائش ممکن نہیں۔ چنانچہ پیدائش کے بعد انسانی بچہ جسمانی طور پر کمزور اور ذہنی طور پر خام ہوتا ہے (تنگ پیلوس کی وجہ سے تمام میملز میں سب سے مشکل اور painful زچگی انسانوں کی ہے)۔ یہ بچہ ایک لمبے عرصے تک والدین کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جب تک مکمل میچور نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بن مانسوں کے برعکس انسانوں کو جوڑوں کی صورت میں اکٹھے رہنا پڑا۔ یوں کہہ لیں کہ جن انسانوں میں جوڑوں کی صورت میں رہنے پر مائل کرنے والے جینز تھے، انہی کی نسل (تیزی سے) آگے بڑھ سکی۔ جوڑوں کی صورت میں رہنے سے عورت پر بچے کی پرورش کا بوجھ کم ہوا اور وہ بن مانس مادہ کے برعکس ہر دو سے تین سال بعد دوبارہ ماں بن سکتی ہے۔
انسانوں کو بچوں کی اماں یا ابا ہی نہیں ایک 'شریکِ حیات' چاہیئے ہے۔ نر بن مانس کے برعکس مرد (انسانی نر) نہ صرف اپنے بچوں کی ماں کی حفاظت اور خوراک کا انتظام حمل کے دوران کرتا ہے بلکہ پیدائش کے بعد بھی زچہ بچہ کی حفاظت اور خوراک کی ذمہ داری اس کے سر پر ہوتی ہے۔ یہ بچہ تیرہ چودہ سال تک مکمل طور پر اپنے والدین کے سہارے ہی رہتا ہے۔ اگر ایک مرد کو 14 سال بعد احساس ہوجائے کہ بچہ دراصل اس کا نہیں بلکہ کسی اور کا تھا تو اس کے صرف سپرم ضائع نہیں ہوئے بلکہ زندگی کے 14 سال ضائع ہوئے ہیں۔ جنگل میں رہنے والے شکاری انسان کی اوسط عمر 30 سے 35 سال تھی۔ ان میں سے تولیدی طور پر متحرک سال کتنے ہوں گے؟ پندرہ سولہ؟ (محاورہ ہے کہ بچے زندگی کی کل جمع پونجی/سرمایہ ہوتے ہیں)۔ جس کی ساری زندگی کا سرمایہ خطرے میں ہو، اس کا محتاط ہونا بنتا ہے۔ وہ چوکنا رہے گا اور ہر وہ کام کرے گا جس سے اس کے سرمایے کا تحفظ یقینی بنے۔
لیکن عورت کیساتھ تو یہ دھوکا نہیں ہوسکتا کہ اسے کسی اور کے بچوں کی پرورش پر لگا دیا جائے۔ باپ کوئی بھی ہو ماں تو وہی عورت ہوتی ہے جس کے جسم میں بچہ پلتا ہے۔ پھر کیا عورت اپنے مرد کی محبوبائیں برداشت کر سکتی ہے؟ کیا اسے رقابت محسوس نہیں ہوتی؟ کیا وہ possessive نہیں ہوتی؟ توبہ۔ جس تن لاگے سو تن جانے اور نہ جانیں لوگ!
اگر انسان کے ابتدائی دور میں ایک عورت کے پریگننٹ ہونے کے بعد اس کا مرد کسی دوسری عورت کی محبت میں گرفتار ہوجاتا اور وہ اس عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کیساتھ بھاگ جاتا تو حاملہ عورت کے بچے کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی۔ یعنی اس کے زندہ بچ جانے اور پلنے بڑھنے کے امکانات انتہائی کم رہ جاتے۔ ایسے بچے کے مرنے کی صورت میں بظاہر مرد اور عورت دونوں کو یکساں نقصان ہوتا۔ ان کی نسل آگے بڑھانے کی ایک کاوش ناکام ہوجاتی۔ تاہم مرد میں تو فوری طور پر اپنی دوسری عورت سے اپنی نسل بڑھانے کی صلاحیت موجود تھی لیکن عورت نہ صرف نو مہینے تک اپنے جسم میں بچہ پالتی ہے بلکہ وہ بعد میں بھی ایک عرصے تک بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر بچہ مرنے سے بچ بھی جائے تو اس بچے کی پرورش کرتے کرتے اس کے مزید بچے پیدا کرنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ مرد بیک وقت زیادہ بیویوں کیساتھ زیادہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایک لمبی عمر تک ایسا کر سکتا ہے۔ عورت کو ایک وقت میں ایک ہی حمل ٹھہرتا ہے اور ایسا وہ نسبتاً کم عرصے تک کر سکتی ہے (menopause کے بعد یہ صلاحیت نہیں رہتی)۔ عورت کا نقصان اس حوالے سے مرد سے کہیں زیادہ ہے۔ یعنی عورت کیلئے بھی یہ زندگی کا سرمایہ گنوانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے عورت کا اپنے مرد پر نظر رکھنا اس کی جبلت بن گئی۔ رقابت لازمی تھی۔ کچھ ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ عورت کی جذباتی رقابت جنسی رقابت سے زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی اگر اس کا مرد کسی دوسری عورت کیساتھ محبت کرتا ہے تو عورت کیلئے یہ زیادہ ناقابلِ برداشت ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کا مرد کسی دوسری عورت سے صرف جنسی تعلق رکھتا ہے ( مثلاً رقم کے عوض جنسی قربت جس میں جذباتی وابستگی نہیں ہوتی)۔
سوال یہ ہے کہ جہاں ہمارے ارتقائی رشتہ دار بن مانس ایک دوسرے کیساتھ ہنی مون منانے کے بعد ایک دوسرے کیساتھ رہنے میں دلچسپی تک نہیں لیتے، ہم زندگی کے کئی سال اکھٹے کیسے رہ لیتے ہیں؟ جوڑے بنے تو بچے پالنا آسان ہوا۔ لیکن جوڑے بنے کیسے؟ دو انسان (میاں بیوی) ایک دوسرے کو اتنے لمبے عرصے تک برداشت کیسے کرتے ہیں؟ نیچر نے اکھٹے رہنا مجبوری بنائی تو مجبوری نبھانے کیلئے وسائل کیا دیے؟
اس کیلئے ہمیں جنسی بلوغت (puberty) کی آمد اور اس کیساتھ ہمارے جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔ کیمسٹری کیسے ملتی ہے اور ملی رہتی ہے؟ اگلی پوسٹ میں۔
~ جاری ہے۔
دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے اس لنک پر چائیے

Comments