جینیٹکس کی تھیوریز: ماضی سے حال تک-آخری حصہ
ڈاکٹر محمد طارق
ارسطو کی تھیوری چھوٹی موٹی ترامیم کیساتھ قرونِ وسطیٰ میں بھی ایک قابلِ قبول تھیوری تھی۔ اگر ہر انسان ایک mini human یا homunculus کے طور پر پہلے سے ہی مرد کے تولیدی مادے (semen) میں موجود ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کی از سر نو تخلیق ہوتی ہی نہیں بلکہ ہر انسان کے اندر اگلی نسل پہلے سے ہی موجود ہوتی ہے (اس لئے اسے pre-formation تھیوری بھی کہتے ہیں)۔ یعنی تمام نسلِ انسانی پہلے تخلیق شدہ انسان کے جسم میں موجود تھی۔ یہ تصور original sin کے تصور کیساتھ ہم آہنگ تھا بلکہ اس عقیدے کو سائنسی بنیاد فراہم کر رہا تھا اور اس وجہ سے مذہبی حلقوں میں اسے بہت پزیرائی ملی۔ ہم سب چونکہ پہلے گناہ کے وقت "موجود" تھے اس لیے ہم سب گنہگار ہیں۔ اگر تولیدی مادے میں بنے بنائے انسان (homunculus) نہیں ہیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ مرد کے جسم سے آنے والے انفارمیشن کو عورت کے جسم میں decode کر کے دوبارہ ایک نئے انسانی جسم کی صورت میں اکٹھا کرنے کا میکانزم کیا ہے؟ ظاہر ہے اس کیلئے انتہائی پیچیدہ وضاحت درکار تھی۔ اس لئے مذہبی حلقوں کے علاوہ تن آسان سائنسی حلقوں میں بھی اس تھیوری کو پزیرائی ملی کیوں کہ یہ انسان کی تخلیق کی سادہ اور آسان وضاحت تھی۔ یعنی کوئی نیا انسان نہیں بنتا، سب کچھ پہلے سے بنا بنایا آتا ہے۔ بس جیسے چھوٹے پودے یا ٹہنی بڑے ہو کر پورا درخت بناتے ہیں، ایسے ہی mini human دو مراحل میں (ماں کے پیٹ میں fetus بننا اور پیدائش کے بعد) بڑا ہو کر انسان بن جاتا ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
لیکن ہر سائنسدان سہل پسند نہیں ہوتا۔ چنانچہ سوال اٹھانے والے بھی موجود تھے۔ اگر سب انسان پہلے انسان کی تخلیق کیساتھ ہی تخلیق ہوئے تو علاقائی اور نسلی تبدیلیاں کب اور کیوں آئیں؟ عام مشاہدہ ہے کہ بیماریاں کسی ایک خاندان میں موروثی ہوتی ہیں، دوسرے خاندان میں نہیں۔ بچے ماں باپ پر جاتے ہیں۔ اگر ماں اور باپ کی خصوصیات بچوں میں دکھائی دیتی ہیں تو یقیناً سپرم اور بیضہ مل کر نیا انسان بناتے ہیں۔ لیکن کیسے؟ یہ عقدہ کسی سے حل نہیں ہو رہا تھا۔
یہی مسئلہ ڈارون کو نیچرل سلیکشن کی (جینیاتی) بنیاد کی وضاحت کیلئے درپیش ہوا۔ ڈارون کو اس حوالے سے اپنی کم علمی کا احساس تھا لیکن نیچرل سلیکشن کی تھیوری کی وضاحت کیلئے ایک جینیاتی تھیوری ناگزیر تھی۔ چنانچہ سوچ بچار کے بعد فیثاغورث اور ارسطو دونوں کی تھیوریز سے استفادہ کرتے ہوئے اس نے اپنی تھیوری وضع کی جسے Pangenesis کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق ہر جاندار، نر ہو یا مادہ، کے جسم کے ہر عضو سے انفارمیشن یا ہدایات کے "ذرات" تولیدی اعضاء میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ ان "ذرات" کو ڈارون نے gemmules کا نام دیا۔ فرٹیلائیزیشن کے وقت دونوں parents کے gemmules آپس میں ملتے ہیں اور ان کی آمیزش سے بچے میں والدین کی خصوصیات کی آمیزش (blending) ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بچے میں ماں باپ کی شباہت نظر آتی ہے۔ ڈارون خود اپنی اس تھیوری سے زیادہ مطمئن نہیں تھا لیکن اس کا خیال تھا کہ شاید اس حوالے سے مزید کام، خصوصاً تجرباتی طور پر، ہو جائے تو شاید اس سلسلے میں کوئی درست جینیاتی وضاحت کی جا سکتی ہے۔
1867 میں ڈارون اپنی کتاب The Variation of Animals and Plants Under Domestication لکھ رہا تھا جس میں اس کا Pangenesis کی تفصیلی وضاحت کرنے کا ارادہ تھا۔ انہی دنوں ڈارون کی آٹھ سال قبل شائع کی گئی کتاب On the Origin of Species پر ایڈنبرا سے Fleeming Jenkin کا تبصرہ شائع ہوا۔ اس تبصرے میں اس نے ڈارون کی نیچرل سلیکشن کی تھیوری اور Pangenesis میں عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا۔ اگر نسل در نسل منتقلی کے دوران جانداروں کی بنیادی خصوصیات کی مسلسل آمیزش (blending) ہوتی رہی ہے تو تنوع (variation) ختم کیوں نہیں ہوئی؟ تنوع ہے تو نیچرل سلیکشن ہوتی ہے۔ تنوع ختم ہونے پر تو نیچرل سلیکشن ناممکن ہو جائے گی۔ اور نیچر اگر کسی خصوصیت کی سلیکشن کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خصوصیت بقا کیلئے بہتر ہے۔ اس خصوصیت کے حامل جانداروں کی نسل بڑھے گی۔ لیکن بہتر خصوصیت رکھنے والا کوئی جاندار، مثلاً ایک مادہ، جب تولیدی عمل کے دوران کسی ایسے نر جاندار سے ملے گی جس میں کمتر خصوصیت ہو تو اگلی نسل میں دونوں خصوصیات کی آمیزش ہوگی اور نتیجتاً بہتر خصوصیت بہتر نہیں رہے گی۔ متواتر آمیزش کے نتیجے میں یہ بہتر خصوصیت رفتہ رفتہ کمتر ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی۔ بقا کیلئے بہتر خصوصیت باقی نہیں رہے گی۔ سروائیول اف دی فٹیسٹ کیسے ممکن ہے؟ ڈارون کی دونوں تھیوریز میں سے اب ایک ہی رہ سکتی تھی۔ چنانچہ ڈاروِن کی Pangenesis کی تھیوری یہیں دم توڑ گئی جبکہ نیچرل سلیکشن زندہ رہی کیونکہ نیچرل سلیکشن کو درکار جینیاتی میکانیزم بعد میں گریگور مینڈل نے فراہم کر دیا۔ مینڈل کیساتھ جدید جینیات کا آغاز ہوتا ہے۔
اس حوالے سے تفصیل ایک الگ سلسلے (Fixism سے ڈارون ازم تک) میں۔
~ ختم شد
دوسرا حصۃ پڑھنے کے لیے اس لنک پر جائیے
https://sciencekiduniyagroup.blogspot.com/2026/01/blog-post_20.html

Comments
Post a Comment