الیکٹران کتنا بڑا ہے؟
تحریر: فصی ملک
ہم جب سکول کی سائنس کی کتاب میں ایک برقیے یا الیکٹران کے بارے میں پڑھتے ہیں۔تو ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک ذرے کی طرح ہے۔ ایک چھوٹا سا گول سے ذرہ۔ جس کو اگر آپ بہت زیادہ، بہت ہی زیادہ بڑا کر دیں گے تو وہ ایک فُٹ بال کی طرح کا دِکھے گا۔ یہ بات الیکٹران نہیں بلکہ سارے ہی بنیادی ذرات کے لیے بتائی جاتی ہے۔لیکن جو بات یہاں پر اہم ہے وہ لفظ" بنیادی" ہے اور ہم روانی میں پڑھتے ہوئے ان باریک بینیوں کو شاید نظر اندازکر جاتے ہیں۔فزکس میں جتنے بھی بنیادی ذرات ہیں ان کے سائز کے بارے میں بات کرنا ایک لایعنی بات ہے۔تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ ان کا سائز نہیں ہے؟ لیکن کیا یہ اس لفظ ذرے کی تعریف کے ہی خلاف نہیں جاتی ؟ کیوں کہ ہم جانتے ہیں ایک ذرا کیا ہوتا ہے اور چاہیے جتنا بھی چھوٹا ہو اس کا کچھ نہ کچھ سائز تو بہرحال ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن یہ تعریف ہم اپنی کلاسیکی دنیا کے حساب سے کرتے ہیں۔ یعنی وہ دنیا جس میں ہم اجسام کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی حرکات کو صحیح صحیح بیان کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ اگر ایک گاڑی سڑک پر کسی خاص رفتار سے جا رہی ہے تو ہم پُر تیقن طور پر یہ بتا سکتے ہیں کہ ایک خاص وقت کے بعد وہ کہاں پر ہو گی۔
لیکن یہاں پر جو بات اہم اور توجہ طلب ہے وہ اجسام کا سائز ہی ہے۔ ہمارے ارد گرد کے اجسام بڑے ہیں۔ حتٰی کہ ایک ریت کا ذرہ بھی ایک الیکٹران یا باقی بنیادی ذرات کے مقابلے میں بہت زیادہ بَڑا مانا جائے گا۔ لیکن جب ہم بہت زیادہ چھوٹے پیمانوں پر جا کر انہیں اجسام کی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کی دنیا میں ایک ہیجان برپا ہوتا ہے اور ہمارا تیقن بس غیر یقینیت میں بدلنے لگتا ہے۔ میں نے اوپر ایک گاڑی کی مثال دی کہ اس کے لیے ہم صحیح صحیح بتا سکتے ہیں کہ وہ ایک خاص وقت کے بعد کہاں ہو گی۔ یہی بات جب ہم ایک الیکٹران کے لیے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ایک خاص اندازے تک ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں ہو گا۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارہ یہ لگایا گیا اندازہ ہمیں ہمیشہ ہی صحیح نتیجہ دیتا ہے۔اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے یہ الیکٹران یا بنیادی ذرات کسی ایک خاص جگہ پر ہوتے ہی نہیں ہیں۔ کیوں کہ جب ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ الیکٹران یہاں ہو تو ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس بات کا اَسی فیصد امکان ہے کہ الیکٹران یہاں پر ہو۔ اِسی کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ بیس فیصد اس بات کا بھی امکان ہے کہ الیکٹران یہاں پر موجود نہیں ہے۔ تو یہ تو ایک تضاد نہ ہو گیا کہ ایک ذرہ جو ایک سالم ذرہ ہے وہ ایک جگہ پر ہے بھی اور نہیں بھی؟ اس پر بھی مستزاد یہ کہ وہ جو اَسی فیصد ایک جگہ پر موجود ہونے کہ بات کی گئی تھی وہ بھی خالصَتاً کسی ایک خاص نقطے پر نہیں بلکہ ایک خطے میں کی گئی تھی۔ یعنی کہ یہ کہا گیا تھا کہ (اگر ایک جہت کی بات کریں تو) الیکٹران دو نکات کے درمیان موجود ہے جو ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔ صورت ِحال تو بہت زیادہ گھمبیر نہیں ہو گئی؟ ایسا ہی ہے
بہرحال اوپر جو میں نے کہا کہ ہم کم از کم یہ بتا سکتے ہیں کہ کسی ایک جگہ پر الیکٹران موجو ہے تو ہم اس جگہ کا ریاضیاتی معائنہ کر کے کچھ نہ کچھ سائز بتا ہی سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر آپ کہتے ہیں کہ الیکٹران ایک ڈبے میں موجود ہے تو کم از کم اب یہ بات تو طے ہو گئی کہ الیکٹران اس ڈبے میں موجود ہے۔ ڈبے میں بالکل کس جگہپر ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن کم از کم یہ تو معلو م ہے کہ الیکٹران اس ڈبے کے اندر موجود ہے۔ اب ڈبے کے اندر کسی جگہ پر اس کے موجود ہونے کا امکان زیادہ ہے اور کسی دوسری جگہ پر کم۔ اور اس طرح کی معلومات سے بہرحال الیکٹران کے سائز کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کو ہم کلاسیکی سائز کہیں گے کیوں کہ ہم اس کو ایک کلاسیکی جسم کی طرح ہی لے رہے ہیں جیسے میں نے اوپر کار یا ریت کے ذرے کی مثال دی تھی۔
۱۔ پہلا جواب۔ بوہر کا رداس۔
میں نے اوپر آپ کو مثال دی کہ اگر الیکٹران ایک ڈبے میں ہو تو ہم تیقن سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کے اندر ہے۔ اس کے اندر کس جگہ ہے اس کے لیے فزکس میں جو لفظ مستعمل ہے اس کو موجی تفاعل یا wave function کہتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ الیکٹران کے کسی جگہ پر ہونے کے کتنے امکان ہیں۔ اب اپنے جواب کی طرف آتے ہیں۔ کائنات میں زیادہ تر الیکتران جوہروں کے اندر مقید ہیں اور ایک جوہر کے اند قریب ترین الیکٹران جوہر کے مرکز سے جس فاصلے پر ہوتا ہے اس فاصلے کو بوہر کا رداس کہتے ہیں اور یہی الیکٹران کے موجی تفاعل یا سائز کے برابر ہوتا ہے۔ میں یہاں پر اس فارمولے کو نہیں لکھوں گا لیکن یہ فارمولہ بارہویں جماعت کی فزکس کی کتاب میں دیا ہوا ہے۔ اس کے مطابق الیکٹران کا سائز دس کی طاقت منفی دس یا پھر ایک میٹر کے ایک اربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک میٹر لمبائی کو ایک ارب برابر حصوں میں تقسیم کر دیں تو ہر حصے لی لمبائی ایک الیکٹران کے برابر ہو گی۔

Comments
Post a Comment