الیکٹران کا سائز (۴)


 

الیکٹران کا سائز (۴)

تحریر: فصی ملک

چھٹا جواب۔ سوچنے پر۔
جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے اس میں مَیں الیکٹران کے سائز کا تخمینہ لگانے کا کوئی نیا طریقہ نہیں بتانے والا۔ بلکہ جن ممکنہ جوابات دینے کی ہم نے اوپر کوشش کی ہے ان پر تھوڑا غور کرنے والا ہوں کہ شاید اس سے ہمیں انسانی دماغ کے سوچنے کی وُسعت اور سائنس کے طریقہ کار پر کچھ نیا مل جائے۔
اگر آپ اوپر والے سارے جوابات پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ سائنسدان کیسے کیسے طریقوں سے سوچتے ہیں۔اوپر جتنے بھی طریقوں پر بات ہوئی ہے ان میں جو سب سے اہم باتیں مجھے نظر آئی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔امید ہے آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ کسی بھی طریقے میں کوئی exact جواب نہیں دیا گیا بلکہ ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ الیکٹران کا سائز زیادہ سے زیادہ کتنا ہو سکتا ہے۔ یہ بہت اہم نقطہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہمارے لیے ایک اوپری سطح پر حد لگاتا ہے اور یہ سائنس کو سمجھنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کم سے کم الیکٹران کا سائز اتنا ہو گا۔ کیوں؟ کیوں کہ ایسا کرنے سے ہمارے پاس کم سے کم کی حد آتی ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ کی حد کھلی رہ جاتی ہے اور ایسا کرنے سے اس چیز کا امکان آجاتا ہے کہ ہو سکتا ہے الیکٹران کا سائز پوری کائنات کے برابر ہو؟ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے ۔ اس لیے یہ چیز سائنس میں بہت اہمیت رکھتی ہے کہ ہم الفاظ کیسے استعمال کرتے ہیں اور اپنے نتائج کو کیسے پیش کرتے ہیں ۔جب ہم زیادہ سے زیادہ حد بتا دیتے ہیں تو ہمیں کم سے کم حد تو پہلے ہی پتا ہے کہ وہ صفر ہوتی ہے۔ اور یہی تو الیکٹران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی سائز نہیں ہے۔
۲۔ دوسرا نقطہ اس چیز کو نوٹ کرنے کا ہے کہ کس طرح سائنس دان مختلف اور بطاہر بے ربط سائنسی تعقلات (concepts) سے ایسی چیزیں نکال لاتے ہیں جن کو آپ تجربے پر پَرَ کھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر الیکٹران کی سپن(اور میگنیٹک مومنٹ) کو استعمال کر کے کس طرح انہوں نے اس کے سائز کا فارمولہ نکال لیا اور اس طرح کہ اس کو تجربے پر پَرکھا جا سکے۔ آپ اگر اوپر جا کر وہ دلیل دوبارہ پڑھیں تو شاید آپ پر اس نقطے کی گہرائی اور واضح ہو۔ ہمارے پاس ایک تھیوری ہے جس میں ہم نے کچھ مفروضے لیے تھے۔ اس تھیوری کو تجربے پر پرکھا گیا تو اس نے وہی نتائج دیے۔ اس تھیوری کی بنا پر مزید پیشین گوئیاں کی گئی تو صحیح نتائج آئے۔ مطلب ہماری تھیوری صحیح ہے۔اس تھیوری کا ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ الیکٹران کا کوئی سائز نہیں ہے۔ اب سوال اٹھایا کہ فرض کریں الیکٹران کا سائز ہے۔ اس نقطے کو تھیوری میں ڈالا اور تھیوری کی نئی پیشین گوئیاں نکالی۔ پھر ان پیشین گوئیوں کو چیک کرنے کے لیے کہ آیا وہ صحیح ہیں یا نہیں، پھر سے تجربہ کیا۔ کیا ہوا؟ تجربے نے وہی نتائج دیے جو پرانی تھیوری نے دیے تھے۔ کیا پتا چلا؟ یہ کہ ہماری نئی تھیوری، جس میں ہم نے یہ فرض کر لیا تھا کہ الیکٹران کا کچھ سائز ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مطلب الیکٹران کا سائز نہیں ہے۔ یہاں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جب ہمارے سکولوں میں طالب علموں کو چند سوالات کو رٹا لگوا دیا جاتا ہے تو ہم ان سے ایک اچھا سائنسدان بننے کی بنیادی خوبی ہی چھین لیتے ہیں جس میں ایک طالب علم خود سے یہ سوال کرتا ہے کہ اگر میں اس سوال کو تھوڑا سا بدل دوں تو نتائج پر کیا فرق پڑے گا؟
۳۔ تیسری اور آخری بات میں پھر اسی پر کروں گا کہ کیسے سائنسدان بظاہر دو مختلف اور ایک دوسرے سے الگ نظر آنے والی چیزوں کو ملا کے کوئی نئی چیز اخذ کر لیتے ہیں۔ دوسرے جواب میں جب یہ فرض کیا گیا کہ لیکٹران مزید اپنے ہی چھوٹے حصوں سے مل کر بنا ہے تو بظاہر یہ بہت عجیب مفروضہ تھا۔ کیوں؟ کیوں کہ ہم خود ہی تو اس کو بنیادی ذرہ کہہ رہے ہیں یعنی یہ مزید کچھ اور چیز سے مل کر نہیں بنا۔ لیکن رکیں۔ یہی نقطہ ہمارے دماغ کو کشادہ کرنے واسطے کافی ہے کہ ہم سوچنے سے کیسی کیسی حدیں پار کر کے صحیح نتائج نکال لاتے ہیں۔
دُور کی فزکس میں ایک تصور یہ بھی تھا کہ جب دو ایک جیسے چارج والے ذرات کو قریب لایا جائے تو ان میں انرجی سٹور ہو جاتی ہے(اس کی تفصیل میں نے اوپر بیان کی تھی جب یہ نقطہ بیان کیا تھا)۔ اس concept کا کیسے استحصال کیا کہ الیکٹران کو اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ چھوٹے ذرات سے بنا ہے تو اس میں بھی انرجی تو سٹور ہونی چاہیے؟ پر کتنی؟ یہاں سے ایک بہت دُور سے اضافیت کی آئن شٹائن کی مساوات لے آئے اور یہ بالکل صحیح ہے اور اس کو تجربے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف تخیل میں ایسی چیزیں سوچیں جو بظاہر صحیح نہیں لگتیں لیکن پھر بھی ان سے ایسے نتائج آ سکتے ہیں جن کی پیمائش کی جا سکے۔ یہی سائنسی طریقہ کار ہے۔ سوچنے کا عمل۔ ہمیں کسی نئی چیز کو پڑھ کے سمجھ نہیں لینا ہوتا بلکہ اصل کام یہ سوال اٹھانا ہوتا ہے کہ ہم اس نتجے تک کس راستے سے چل کر پہنچے؟

پہلے حصے کا لنک 

Comments